زندگی میں توازن پیدا کرنا: اعتدال و میانہ روی کا اسلامی فلسفہ، فکری بصیرت اور عمل کا نبوی منہاج | قسط 214 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Learn the Islamic perspective on creating balance (Tawazun) in life. Discover prophetic teachings on moderation, managing duties, and avoiding extremes by Dr. Wajid Irshad."


زندگی میں توازن پیدا کرنا: اعتدال و میانہ روی کا اسلامی فلسفہ، فکری بصیرت اور عمل کا نبوی منہاج
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 214)
1۔ تمہید (Introduction)
کائنات کا تمام تر نظامِ بقا، خوبصورتی اور پائیداری "توازن" (Balance) پر قائم ہے۔ سورج، چاند، زمین اور سیاروں کی گردش سے لے کر انسانی جسم کے پیچیدہ حیاتیاتی نظام تک—ہر چیز ایک مقررہ حساب اور محتاط اعتدال کے ساتھ مربوط ہے۔ جہاں کہیں بھی یہ توازن بگڑتا ہے، وہیں فساد، تباہی اور زوال جنم لیتا ہے۔ انسان کی انفرادی، خاندانی، معاشی، روحانی اور اجتماعی زندگی کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ انسان کا وجود روح، عقل، جسم اور جذبات کا مجموعہ ہے؛ اور ان تمام تقاضوں کے درمیان صحیح توازن قائم رکھنا ہی کامیابی اور اطمینان کا اصل راز ہے۔
عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ عدمِ توازن (Imbalance) ہے۔ جدید دنیا کی تیز رفتار، مادیت پسند اور مسابقتی دوڑ نے انسان کے توازن کو بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لوگ یا تو دنیاوی پیش رفت، مال و دولت اور کیریئر کے حصول میں اس حد تک غرق ہو چکے ہیں کہ اپنے دین، اخلاق، صحت اور اہل و عیال کے حقوق کو بالکل فراموش کر بیٹھے ہیں؛ یا پھر بعض افراد دین و عبادت کی ایسی سخت تعبیرات اختیار کر لیتے ہیں کہ دنیاوی ذمہ داریوں اور انسانی حقوق سے کٹ جاتے ہیں۔ اسلام ایک دینِ فطرت ہے جو راہِ اعتدال (The Middle Path) سکھاتا ہے۔ اسلام نہ تو مکمل دنیا پرستی کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی دنیا سے یکسر کٹ جانے (رہبانیت) کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی میں توازن کی کیا اہمیت ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی کے ذریعے دینی، دنیاوی، جسمانی اور خاندانی حقوق کے درمیان اعتدال کا کیا نمونہ قائم فرمایا؟ اور ہم اپنے جدید روزوشب میں توازن پیدا کرنے کے عملی طریقے کیسے اپنا سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فکری اور تربیتی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
قرآنِ مجید نے امتِ مسلمہ کو اعتدال پسند اور میانہ رو امت قرار دیا ہے اور تمام احوال میں میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی ہے:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (سورۃ البقرۃ: 143)
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک امتِ وسط (اعتدال پسند اور بہترین امت) بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے۔
وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِك قَوَامًا (سورۃ الفرقان: 67)
اور (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو خرچ کرتے وقت نہ تو اسراف (فضول خرچی) کرتے ہیں اور نہ ہی بخل (بخل و تنگی) سے کام لیتے ہیں، بلکہ ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات اور حیاتِ طیبہ زندگی کے تمام شعبوں میں توازن و اعتدال کی روشن ترین مشعلِ راہ ہے:
• حقوق کا توازن اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی حکمت
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: آخَى النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ... فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: "إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ"، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "صَدَقَ سَلْمَانُ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1968)
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت سلمان اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا... (جب حضرت سلمان نے ابو الدرداء کو عبادات میں غلو اور گھر والوں سے غفلت کرتے دیکھا) تو حضرت سلمان نے ان سے فرمایا: "بیشک تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے اپنے نفس کا تم پر حق ہے، اور تمہارے اہل و عیال کا تم پر حق ہے؛ پس ہر حق والے کو اس کا حق دو۔" پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور اس کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "سلمان نے سچ کہا۔"
• دین میں غلو اور سختی کی ممانعت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ" قَالَهَا ثَلَاثًا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2670)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "غلو کرنے والے (دین و افعال میں حد سے بڑھنے والے اور سختی کرنے والے) ہلاک ہو گئے"، آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔
4۔ متوازن اور غیر متوازن شخصیت کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
زندگی میں اعتدال قائم رکھنے والے متوازن شخص اور عدمِ توازن کا شکار فرد کے درمیان یہ واضح فرق ہوتا ہے:
1۔ زندگی کا مجموعی نقطۂ نظر:
غیر متوازن شخص: افراط و تفریط کا شکار، ایک شعبے (مثلاً صرف کام یا صرف تفریح) میں حد سے گزرنا اور باقی شعبوں کو نظر انداز کرنا۔
متوازن مؤمن: تمام شعبوں (دین، صحت، معیشت، خاندان، روح) کے حقوق کی پہچان اور ان میں ہم آہنگی۔
2۔ ذہنی و نفسیاتی کیفیات:
غیر متوازن شخص: مسلسل تناؤ، ذہنی کوفت، احساسِ جرم اور رشتوں کے بگاڑ کا شکار۔
متوازن مؤمن: قلبی سکون، داخلی طمأنینت، واضح ترجیحات اور متوازن رویہ۔
3۔ عبادت اور دنیاوی ذمہ داریاں:
غیر متوازن شخص: یا تو دنیا کے کاموں میں ایسا مست کہ عبادات غائب، یا پھر عبادات کی نیت سے فرائض و حقوقِ العباد سے غفلت۔
متوازن مؤمن: دنیاوی کاموں کو نیتِ حسنہ سے عبادت بنانا اور عبادات کے ساتھ ساتھ دنیاوی فرائض احسن طریقے سے نبھانا۔
4۔ طویل المیعاد پائیداری (Sustainability):
غیر متوازن شخص: جلد تھک جانا (Burnout)، کاموں میں جمود اور جذبات میں شدت پسندی۔
متوازن مؤمن: استقامت، تسلسل، کاموں میں تسلسل اور معتدل پائیدار پیش رفت۔
5۔ زندگی میں توازن پیدا کرنے کے 5 عملی اصول (Strategies)
اپنی فکری، عملی اور روزمرہ زندگی میں اعتدال اور توازن قائم کرنے کے لیے ان پانچ سنہری اصولوں کو اپنائیں:
الف) ترجیحات کی درست بندی (Prioritization): اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو ایک دائرے میں رکھیں؛ دین و فرائض، صحت، رزقِ حلال، اور خاندانی تعلقات۔ کسی ایک شعبے کو دوسرے کی قیمت پر قربان نہ کریں۔
ب) "ہر حق والے کو اس کا حق دو" کا نبوی فارمولا: کام کے وقت کام، عبادت کے وقت کامل توجہ، خاندان کے ساتھ کیفیت (Quality Time)، اور جسم کی سستی دور کرنے کے لیے آرام و نیند کا باقاعدہ وقت مقرر کریں۔
ج) اسراف اور بخل دونوں سے بچاؤ: مال، وقت، جذبات اور صلاحیتوں کے استعمال میں درمیانی راہ اختیار کریں۔ نہ طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھائیں اور نہ ہی بالکل فارغ و کاہل بن کر وقت ضائع کریں۔
د) سرحدوں کا تعین اور "نا" کہنا سیکھنا (Setting Boundaries): اپنے وقت اور توانائی کو بے مقصد سرگرمیوں، بے جا سوشل میڈیا کے استعمال اور فضول تقریبات سے بچائیں تاکہ اہم اور ضروری امور کے لیے وقت بچ سکے۔
ہ) روزانہ کا فکری محاسبہ (Daily Reflection): دن کے اختتام پر چند منٹ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کیا آج میں نے اپنی صحت، اپنے گھر والوں یا اپنے رب کی اطاعت میں کوئی عدمِ توازن تو پیدا نہیں ہونے دیا؟
6۔ متوازن حیات کا سچا معائری پیمانہ
عملی زندگی میں اعتدال اور توازن کے حصول کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:
• انسان کی دینی پیش رفت اس کے اخلاق اور معاملات کو خوبصورت بنائے، نہ کہ اسے لوگوں سے کاٹ کر متکبر بنائے۔
• اس کی معاشی و معاشی مصروفیت اس کے گھر والوں کی تربیت اور حقوق پر اثر انداز نہ ہو۔
• وہ ہر حال میں درمیانی، معتدل اور قابلِ استقامت راستے کو پسند کرے جس میں نہ سستی ہو اور نہ ہی غلو۔
7۔ زندگی میں توازن کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان اپنی فکر اور اعمال میں توازن و اعتدال کا راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:
• دائمی استقامت اور برکت: معتدل عمل ہی ہمیشہ جاری رہتا ہے، اور تھوڑے لیکن مسلسل عمل میں اللہ تعالیٰ بے پناہ برکت عطا فرماتا ہے۔
• تمام رشتوں اور صحت کی سلامتی: انسان جسمانی بیماریاں، خاندانی تنازعات اور شدید ذہنی تناؤ سے محفوظ رہتا ہے۔
• اللہ کی رضا اور معاشرتی مقبولیت: متوازن اور بااخلاق مومن دنیا میں لوگوں کے لیے باعثِ راحت اور آخرت میں رب کا محبوب بندہ بنتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ زندگی میں توازن قائم کرنا کوئی وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک دائمی فکری سفر اور ایمانی رویہ ہے۔ اعتدال و میانہ روی ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو انسان کو دنیاوی تباہ کاریوں اور دینی غلو و سستی دونوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک سچا مومن ایک وقت میں بہترین عابد، بہترین تاجر، بہترین باپ، بہترین شوہر اور بہترین شہری بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ ہر حق کو اس کا صحیح مقام دے۔ آئیے! ہم اپنی زندگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں، افراط و تفریط کے تمام جھکاؤ کا خاتمہ کریں اور اعتدال، میانہ روی اور توازن کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں تاکہ دنیا میں بھی سکون میسر آئے اور آخرت میں بھی کامیابی ملے۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ أَقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا۔
اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے درمیان اپنے خوف کا وہ حصہ تقسیم فرما دے جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے، اور اپنی اطاعت کا وہ حصہ عطا فرما جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ایسا سچا یقین دے جس کے ذریعے تو ہم پر دنیا کی مصیبتوں کو آسان کر دے، اور جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمارے کانوں، آنکھوں اور جسمانی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
زندگی میں توازن اور اعتدال کا یہ پیغام کسی بے چین، حد سے بڑھے ہوئے یا شدید تناؤ کا شکار انسان کے لیے سچے اطمینان اور متوازن حیات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
