زندگی کی ترجیحات: دین یا دنیا؟

Life choices shape a believer’s success in both this world and the Hereafter. زندگی کی ترجیحات: دین یا دنیا؟ Islam teaches us to prioritize faith over worldly distractions and focus on eternal success. This article explains Quranic guidance, authentic Hadith, and practical steps to align your life with Deen. Learn how to balance dunya and akhirah for a peaceful and purposeful life.

Dr. Wajid Irshad

4/21/20261 min read

زندگی کی ترجیحات: دین یا دنیا؟
قسط نمبر: 111
ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید

انسان کی پوری زندگی دراصل انتخاب اور ترجیحات کا نام ہے۔ ہر لمحہ وہ کسی نہ کسی چیز کو دوسری چیز پر ترجیح دے رہا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم انتخاب کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس بنیاد پر کر رہے ہیں۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان نے اپنی زندگی کا مرکز دین کے بجائے دنیا کو بنا لیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ظاہری ترقی کے باوجود دل کا سکون ختم ہو چکا ہے اور بے چینی عام ہو گئی ہے۔

مرکزی نکتہ / اصل مفہوم

اسلام دنیا کو چھوڑنے کا نہیں بلکہ اسے صحیح مقام دینے کا دین ہے۔دنیا ایک اچھی خادم ہے مگر ایک بری مالکہ ہے۔ اصل مسئلہ دنیا نہیں بلکہ ترجیحات کی خرابی ہے۔

جب دنیا مقصد بن جائے اور آخرت پسِ پشت چلی جائے تو انسان کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کو ذریعہ بناؤ، مقصد نہیں۔ آخرت اصل منزل ہے، جبکہ دنیا اس تک پہنچنے کا راستہ ہے۔

اگر انسان اپنی ترجیحات درست کر لے تو وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔ لیکن جب وہ دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے تو اس کے اثرات اس کی زندگی میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

قرآن کی روشنی میں

ارشادِ باری تعالیٰ
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
سورۃ الاعلیٰ: 16-17
بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
سورۃ آل عمران: 185
اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ
مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ
سورۃ الشوریٰ: 20
جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کے لیے اس میں اضافہ کر دیتے ہیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ
الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ
صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2956
دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت۔
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا اصل آرام کی جگہ نہیں بلکہ آزمائش کی جگہ ہے۔

فرمان نبوی ﷺ
لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
صحیح بخاری، رقم الحدیث: 6446 صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1051
اصل غنا مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی بے نیازی ہے۔
یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی دل کے سکون اور قناعت میں ہے، نہ کہ مال میں۔

فرمان نبوی ﷺ
مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هَمَّهُ فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ
سنن ترمذی، رقم الحدیث: 2465، حسن
جس کا مقصد دنیا ہو، اللہ اس کے معاملات منتشر کر دیتا ہے۔
یہ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ غلط ترجیحات انسان کو بے سکون کر دیتی ہیں۔

مستند واقعہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور دیکھا کہ آپ ایک سادہ چٹائی پر آرام فرما رہے ہیں جس کے نشانات جسم پر ظاہر تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ عیش میں ہیں اور آپ اس حالت میں؟
تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟
صحیح بخاری، رقم الحدیث: 4913

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مومن کی اصل ترجیح دنیا نہیں بلکہ آخرت ہونی چاہیے۔

عملی رہنمائی / نکات

  • اپنی روزمرہ زندگی میں آخرت کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں

  • نماز اور عبادات کو اولین ترجیح دیں

  • دنیاوی مصروفیات کو دین کے تابع رکھیں

  • وقت کا حساب رکھیں اور فضول کاموں سے بچیں

  • قرآن سے روزانہ تعلق قائم کریں

  • اپنی نیتوں کی اصلاح کرتے رہیں

  • حلال و حرام کی تمیز کو مضبوط کریں

اصل پیغام

کامیابی اس میں نہیں کہ دنیا زیادہ مل جائے بلکہ اس میں ہے کہ ترجیحات درست ہو جائیں۔
جو آخرت کو ترجیح دیتا ہے، وہی اصل کامیاب ہے۔

اختتامیہ

زندگی کا اصل حسن اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان دین کو اپنی ترجیح بنا لیتا ہے۔ دنیا خود بخود سنور جاتی ہے جب آخرت کو مقصد بنا لیا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔

دعا

اللّٰهُمَّ اجْعَلِ الدُّنْيَا فِي أَيْدِينَا وَلَا تَجْعَلْهَا فِي قُلُوبِنَا وَاجْعَلِ الْآخِرَةَ هِيَ هَمَّنَا

اے اللہ! دنیا کو ہمارے ہاتھوں میں رکھ اور ہمارے دلوں میں نہ ڈال، اور آخرت کو ہمارا اصل مقصد بنا دے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹی ٹیوٹ
نیکی پھیلانا صدقہ جاریہ ہے — آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔