زندگی کے اتار چڑھاؤ: مومن کا رویہ | شکر، صبر اور ایمانی ثبات | قسط 194 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover the ideal believer's response to life's ups and downs through patience (Sabr) and gratitude (Shukr), Quranic teachings, prophetic guidance, and inner peace by Dr. Wajid Irshad."


زندگی کے اتار چڑھاؤ: مومن کا رویہ | شکر، صبر اور ایمانی ثبات
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 194)
1۔ تمہید (Introduction)
زندگی ایک ہموار سڑک کی مانند نہیں ہے، بلکہ یہ نشیب و فراز، خوشی و غمی، اور وسعت و تنگی کا نام ہے۔ کائنات کا یہ الٰہی نظام ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی انسان کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوتا ہے اور کبھی ناکامیوں، بیماریوں یا معاشی تنگ دستی کے تاریک غاروں میں گر جاتا ہے۔ دنیاوی نقطۂ نظر سے لوگ خوشحالی میں غرور و غفلت اور تنگی میں جزع فزع اور بددلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم، اسلامی عقیدے اور ایمانی فکر کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو حالات کا غلام بننے کے بجائے ان پر غالب آنا سکھاتی ہے۔
ایک سچے مؤمن کا رویہ زندگی کے ہر اتار چڑھاؤ میں انتہائی متوازن، پراعتماد اور مضبوط ہوتا ہے۔ مؤمن جب خوشی اور نعمت سے نوازا جاتا ہے تو وہ "شکر" کا راستہ اختیار کر کے الٰہی رحمت کا طلبگار بنتا ہے، اور جب وہ کسی آزمائش، تنگی یا صدمے سے دوچار ہوتا ہے تو وہ "صبر" کا دامن تھام کر اپنے رب کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ شکر اور صبر مؤمن کی شخصیت کے دو ایسے ایمانی بال و پر ہیں جن کی بدولت وہ زندگی کے سخت ترین طوفانوں میں بھی ایمانی ثبات اور قلبی سکون کے ساتھ پرواز کرتا رہتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کی ان تبدیلیوں میں مؤمن کا فکری و عملی رویہ کیا ہونا چاہیے؟ قرآنی و نبوی تعلیمات اس سلسلے میں ہماری کیا رہنمائی کرتی ہیں؟ اور شکر و صبر کا یہ امتزاج انسان کو دنیا و آخرت میں کیسے کامران بناتا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و ایمانی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur’an Solace)
کلامِ الٰہی میں رب العزت نے زندگی کی تبدیلیوں کو انسانی آزمائش قرار دیا ہے اور صابرین و شاکرین کے لیے عظیم وعدے فرمائے ہیں:
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ، الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (سورۃ البقرۃ: 155-156)
اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور (اے نبی!) آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (سورۃ ابراہیم: 7)
اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ نے مؤمن کی شاندار شخصیت کا احاطہ کرتے ہوئے اس کے رویے کو کائنات کا سب سے خوبصورت رویہ قرار دیا:
• مؤمن کی ہر حالت میں خیر کا نایاب مقام
عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ؛ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2999)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے، اور یہ خصوصیت مؤمن کے سوا کسی کے لیے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، وہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے؛ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔
• آزمائش مؤمن کے گناہوں کا پاکیزگی کا ذریعہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَمَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ" (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2399، علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمن مرد اور مؤمن عورت پر اس کی جان، اس کی اولاد اور اس کے مال میں آزمائشیں مسلسل آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
4۔ غافل انسان اور سچے مؤمن کے رویے کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کی سوچ اور عمل کا یہ نمایاں فرق ہے:
1۔ خوشی و عروج میں رویہ:
غافل / دنیا دار کا رویہ (Worldly Mindset): تکبر، خود پسندی، غرور اور نعمتیں عطا کرنے والے رب کو بھول جانا۔
سچے مؤمن کا ایمانی رویہ (Believer's Mindset): عاجزی، تواضع، خشوع اور "الحمد للہ" کہہ کر رب کا شکر ادا کرنا۔
2۔ زوال و مصیبت میں رویہ:
غافل / دنیا دار کا رویہ (Worldly Mindset): جزع فزع، گلہ شکوہ، شدید مایوسی اور باطنی بے چینی کا شکار ہونا۔
سچے مؤمن کا ایمانی رویہ (Believer's Mindset): صبر، استغفار، اور "انّا للہ" کا دل کی گہرائی سے اقرار کرنا۔
3۔ حالات کا تصور:
غافل / دنیا دار کا رویہ (Worldly Mindset): مشکلات کو محض اتفاقیہ حوادث یا صرف دوسروں کا ظلم سمجھنا۔
سچے مؤمن کا ایمانی رویہ (Believer's Mindset): حالات کو الٰہی تقدیر، ربانی آزمائش اور اپنی باطنی تربیت کا ذریعہ جاننا۔
4۔ باطنی حالت:
غافل / دنیا دار کا رویہ (Worldly Mindset): ناپائیدار عارضی سکون، ہر وقت کا خوف، بے ثباتی اور اضطراب۔
سچے مؤمن کا ایمانی رویہ (Believer's Mindset): کامل اطمینانِ قلب، ایمانی ثبات اور الٰہی رضامندی کا حصول۔
5۔ اتار چڑھاؤ میں ایمانی ثبات قائم رکھنے کے 5 عملی اصول (Strategies)
زندگی کے بدلتے حالات میں اپنے ایمان کو مضبوط اور رویے کو متوازن رکھنے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:
الف) "شکر" اور "صبر" کو زندگی کا معمول بنانا:
نعمت ملے تو زبان اور عمل سے اللہ کا شکر ادا کریں؛ اور جب تنگی آئے تو فوراً صبر کا دامن تھام کر جزع فزع سے پرہیز کریں۔
ب) تقدیرِ الٰہی پر پختہ یقین:
یہ بات دل میں بٹھا لیں کہ جو کچھ ملا ہے وہ ملنا ہی تھا، اور جو ہاتھ سے نکل گیا وہ تقدیر کا حصہ تھا۔ رب کی تدبیر بندے کی تدبیر سے بہتر ہے۔
ج) زوال کے وقت "توبہ اور استغفار":
جب مشکلات گھیر لیں تو اسے کسی پر الزام دینے کے بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کا موقع سمجھیں اور استغفار کی کثرت کریں۔
د) عروج میں "انفاق فی سبیل اللہ":
خوشحالی اور نعمتوں کے دور میں غریبوں، محتاجوں اور رشتہ داروں پر خرچ کریں تاکہ نعمت میں برکت اور ثبات پیدا ہو۔
ہ) آخرت پر نظر اور دنیا کی عارضی حقیقت:
یاد رکھیں کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کا عروج یا زوال عارضی ہے۔ اصل کامیابی آخرت کی دائمی نعمتیں ہیں۔
6۔ مؤمنانہ رویے کا سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں مؤمنانہ ثبات کا سچا معیار یہ ہے کہ:
نعمت ملنے پر انسان کا سر غرور سے اٹھنے کے بجائے اللہ کے حضور سجدے میں جھک جائے اور وہ بندگانِ خدا کے لیے نفع بخش بن جائے۔
مصیبت آنے پر صدمے کے پہلے لمحے میں ہی صبر کی طاقت کا مظاہرہ ہو اور زبان سے کوئی ایسا لفظ نہ نکلے جو رب کی ناراضگی کا باعث بنے۔
حالات کیسے ہی کیوں نہ بدل جائیں، مؤمن کا اپنے رب سے تعلق اور فرائضِ دین کی پابندی کبھی متاثر نہ ہو۔
7۔ متوازن ایمانی رویے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان زندگی کے اتار چڑھاؤ میں مؤمنانہ رویہ برقرار رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم ثمرات عطا فرماتا ہے:
سکونِ قلب (Inner Peace): انسان ہر قسم کے خوف، غم اور اینگزائٹی سے آزاد ہو کر پائیدار قلبی اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔
نعمتوں میں اضافہ اور گناہوں کی دھلائی: شکر سے نعمتیں بڑھتی ہیں اور صبر سے زندگی کے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔
اللہ کی خاص محبت اور معیت: اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ زندگی کے اتار چڑھاؤ انسان کا امتحان ہیں، جن کا مقصد مؤمن کے ایمان کی پختگی کو پرکھنا ہے۔ جو انسان شکر اور صبر کے ہتھیاروں سے لیس ہوتا ہے، دنیا کا کوئی بھی زوال اسے توڑ نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی عروج اسے راستے سے بھٹکا سکتا ہے۔ ایک مؤمن کا ہر دن اور ہر حالت اس کے لیے آخرت کی سرمایہ کاری ہے۔ آئیے! ہم زندگی کے تمام حالات کو الٰہی مشیت کا حصہ سمجھتے ہوئے شکر گزار اور صابر بندے بننے کا عزم کریں۔ جب ہمارا رویہ مؤمنانہ ہو جائے گا تو زندگی کا ہر موڑ ہمارے لیے رحمت اور کامیابی کا زینہ بن جائے گا۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الصَّابِرِينَ الشَّاكِرِينَ
اے اللہ! میں تجھ سے دین کے معاملے میں ثبات اور ہدایت پر پختہ عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور بہترین عبادت کی توفیق مانگتا ہوں، اور تجھ سے قلبِ سلیم اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! ہمیں اپنے صابر اور شاکر بندوں میں شامل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ایمانی ثبات اور صبر و شکر کا یہ پیغام کسی پریشان یا غافل انسان کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
