زندگی کے اہم فیصلوں میں دین کا کردار اور معیار | سلسلہ ایمان قسط 161 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Discover the role of faith in life's critical decisions. Learn how aligned choices based on Quran and Sunnah bring true success and inner peace, by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/10/20261 min read

میزانِ ایمان: زندگی کے فیصلوں میں دین کا کلیدی کردار

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 161)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی دراصل ان گنت انتخابات اور مسلسل فیصلوں کے تسلسل کا دوسرا نام ہے۔ ہماری تعلیم، پیشے کا انتخاب، کاروباری نوعیت، ازدواجی تعلقات، رفاقتیں اور معاشی و معاشرتی معاملات جیسے تمام چھوٹے بڑے فیصلے بالآخر ہماری دنیاوی زندگی کی سمت اور آخرت کے ابدی انجام کا تعین کرتے ہیں۔ دورِ حاضر کا ایک بڑا فکری المیہ یہ ہے کہ بیشتر افراد اپنی زندگی کے اہم اور موڑ بدلنے والے فیصلوں میں نفسانی خواہشات، فوری نوعیت کے مادی فائدے، خاندانی دباؤ یا دنیاوی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایک صاحبِ ایمان کا نقطۂ نظر یہ ہونا چاہیے کہ اس کا ہر ارادہ اور فیصلہ شریعتِ مطہرہ کی حدود اور الٰہی رضا کے تابع ہو۔ حقیقی ایمان کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ دین محض روایتی عبادات کا نام بن کر نہ رہ جائے، بلکہ وہ ہماری روزمرہ زندگی کے تمام فیصلوں کا حقیقی محرک اور بنیاد بنے۔

2۔ قرآنی حقائق اور ایمانی کسوٹی (The Qur'an as a Decision-Making Guide)

کلامِ الٰہی واضح الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ تب تک معتبر نہیں جب تک انسان اپنے وجود اور معاملات کو احکامِ الٰہی کے حوالے نہ کر دے:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ (سورۃ النساء: 65)

پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ تب تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کر لیں۔

یہ آیتِ کریمہ واضح کرتی ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کے فیصلوں اور شریعت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہی ایمان کی بنیادی شرط ہے۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهَ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ (سورۃ الأحزاب: 36)

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کا یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ فرما دیں تو پھر انہیں اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔

حکمِ الٰہی کے سامنے مومن کی اپنی مرضی، پسند اور ناپسند ختم ہو جاتی ہے؛ یہی بندگی کا اصل جوہر ہے۔

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ۝ وَجْعَلْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (سورۃ الطلاق: 2-3)

اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے اور اسے ایسے راستے سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔

جب انسان دین کو معیار بنا کر فیصلہ کرتا ہے، تو بظاہر آنے والی مشکلات کو اللہ تعالیٰ اپنی غیبی مدد سے آسانیوں میں بدل دیتا ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں فکری رہنمائی (Prophetic Standard)

رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں زندگی کی شاہراہ پر صحیح انتخاب کرنے کا کامل شعور عطا کرتے ہیں:

• نیت اور ارادے کا محاسبہ

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1)

تمام اعمال کا دارومدار صرف اور صرف نیتوں پر ہے۔

اگر ہمارا کوئی دنیاوی فیصلہ بھی اللہ کی رضا اور شریعت کے نفاذ کی نیت سے ہو گا، تو وہ دنیاوی عمل بھی عبادت کا درجہ اختیار کر لے گا۔

• مشکوک راستوں سے اجتناب

دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2518)

اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اس چیز کو اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔

فیصلہ سازی کا یہ نبوی اصول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جن معاملات میں حلال و حرام کا ابہام ہو، وہاں عافیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔

• الٰہی رضا بمقابلہ سماجی دباؤ

مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَى النَّاسَ عَنْهُ (سنن ابن حبان، رقم الحدیث: 276، علامہ البانی نے مشکاة المصابیح میں اسے صحیح قرار دیا ہے)

جس نے لوگوں کی ناراضی کے باوجود اللہ کی رضا کو تلاش کیا، اللہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کر دیتا ہے۔

معاشرتی رسم و رواج یا 'لوگ کیا کہیں گے' کے خوف کے بجائے خالق کی مرضی کو مقدم رکھنا ہی اصل شجاعت ہے۔

4۔ زندگی کے چار اہم ترین موڑ اور دینی فریم ورک (Dine as a Roadmap for Key Choices)

ہمیں اپنی زندگی کے اہم ترین شعبوں میں شریعت کے ان خطوط پر اپنے فیصلے استوار کرنے کی ضرورت ہے:

  • تعلیمی میدان کا تعیّن: فن یا علم کا انتخاب کرتے وقت صرف مادی دوڑ کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ یہ تعلیم معاشرے کے لیے نافع، حلال روزگار کا وسیلہ اور معرفتِ الٰہی کا ذریعہ بنے۔

  • معاشی و تجارتی امور: ملازمت ہو یا کاروبار، نفع کی مقدار کے بجائے حلال اور طیب کے اصول کو اولیت دی جائے۔ حرام کے بڑے ڈھیر سے حلال کا چھوٹا حصہ بہتر ہے۔

  • ازدواجی رشتے اور خاندانی بندھن: نکاح اور خاندانی رشتے قائم کرتے وقت ظاہری چمک دمک، برادری کے دباؤ اور دولت کے بجائے تقویٰ، اخلاق اور دین داری کو بنیاد بنایا جائے۔

  • سماجی رفاقتیں اور دوستی: اپنے قریبی حلقۂ احباب میں ایسے سنجیدہ نفوس کو شامل کیا جائے جن کی صحبت خدا کی یاد دلائے اور گناہوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہو۔

5۔ شریعت کو فیصلوں کا محور بنانے کے ثمرات (The Divine Rewards)

جب کوئی بندہ اپنے اختیارات اللہ کی مرضی کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے یہ پانچ انمول نعمتیں حاصل ہوتی ہیں:

1. حفاظتِ الٰہی: انسان لغزشوں، پشیمانیوں اور بہت سے معاشی و اخلاقی گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

2. قلبی سکون (Inner Peace): ضمیر مادی طمع سے آزاد ہو جاتا ہے اور باطن کو ایک بے مثال اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

3. خیر و برکت کا نزول: فیصلوں کے ظاہری نتائج کچھ بھی ہوں، ان میں غیبی طور پر برکت اور وسعت پیدا کر دی جاتی ہے۔

4. الٰہی نصرت کا ساتھ: بحرانی کیفیت اور مصائب کے دور میں اللہ تعالیٰ کی غیبی تائید بندے کا سہارا بنتی ہے۔

5. جامع کامیابی: دنیا کی زندگی بھی باوقار بن جاتی ہے اور آخرت کا ابدی نامۂ اعمال بھی سرخرو ٹھہرتا ہے۔

6۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا تضاد (The Contemporary Crisis)

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو صرف مسجد کی چہار دیواری، چند مخصوص عبادات اور رسوم تک محدود کر دیا ہے۔ جب بات کاروباری سودوں، سیاسی ترجیحات، تعلیمی منصوبوں، عدالتی بیانات اور خاندانی تنازعات کی آتی ہے، تو ہم شریعت کے ضابطوں کو یکسر فراموش کر کے مادی فلسفوں کو گلے لگا لیتے ہیں۔ یہ منافقانہ طرزِ فکر ہی انفرادی بے سکونی اور اجتماعی زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

7۔ تاریخِ محرم سے کشید کیا گیا فکری سبق (The Essence of Muharram)

ہلالِ محرم الحرام ہمیں یہ لافانی پیغام دیتا ہے کہ جب حیاتِ انسانی میں حق کا ساتھ دینے یا باطل کے سامنے سر جھکانے کا نازک ترین موڑ آ جائے، تو ایک سچا مؤمن دنیاوی عیش و آرام، اقتدار اور وقتی تحفظ کو مٹی میں ملا کر رب کی رضا پر سودے بازی نہیں کرتا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کا بے مثل فیصلہ اس حقیقت کی زندہ جاوید دلیل ہے کہ ایمان نام ہی اس بات کا ہے کہ جان تو جا سکتی ہے مگر شریعت کے ابدی اصولوں پر آنچ نہیں آنے دی جا سکتی۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ایمان محض ایک جامد عقیدے کا نام نہیں بلکہ یہ عمل اور انتخاب کا ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ ایک حقیقی مؤمن اپنے ہر چھوٹے بڑے فیصلے کی بنیاد اس سوچ پر رکھتا ہے کہ اس کا رب اس عمل سے راضی ہو گا یا ناراض۔ جب دین ہماری فکر، ہمارے انتخاب اور ہماری ترجیحات کا حتمی معیار بن جائے، تو مادی نقصانات بھی باطنی رفعت کا سبب بن جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر فیصلے کو کتاب و سنت کے آئینے میں پرکھنے کی عادت ڈالیں تاکہ ہماری دنیا و آخرت دونوں سنور سکیں۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ

(دعائیہ کلمات)

"اے ہمارے پروردگار! ہمیں حق کو سچی صورت میں حق ہی دکھا اور اس کی سچی پیروی کی توفیقِ کامل عطا فرما، اور باطل کو اس کی اصل برائی کے ساتھ باطل ہی دکھا اور ہمیں اس کے اثرات سے دور رہنے کی ہمت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اس تعمیری اور ایمانی تحریر کو آگے شیئر کرنا نیکی کے کاموں میں تعاون اور صدقہ جاریہ ہے۔ خیر کے اس سفر میں ہمارا حصہ بنیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.