زندگی کے فیصلوں میں استخارہ کی اہمیت: الٰہی رہنمائی، مسنون طریقہ اور باطنی اطمینان | قسط 209 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover the importance and authentic sunnah method of Istikhara in making life decisions. Learn how seeking Allah's guidance grants peace and clarity by Dr. Wajid Irshad."


زندگی کے فیصلوں میں استخارہ کی اہمیت: الٰہی رہنمائی، مسنون طریقہ اور باطنی اطمینان
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 209)
1۔ تمہید (Introduction)
انسانی زندگی مختلف موڑوں، شعبوں اور فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ رشتہ ازدواج، کاروبار، تعلیم، ملازمت، نقل مکانی اور دیگر اہم معاشی و معاشرتی امور میں انسان اکثر دو راہے پر کھڑا ہو جاتا ہے جہاں اسے صحیح اور غلط راستے کا انتخاب کرنے میں سخت الجھن اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی عقل، علم اور تجربہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، وہ محدود اور ناقص ہے؛ انسان نہیں جانتا کہ جس فیصلہ میں بظاہر اسے فائدہ نظر آ رہا ہے اس کا انجامِ کار اور مستقبل کے نتائج اس کے حق میں بہتر ہیں یا نہیں۔
اسلامی تعلیمات اور سنتِ نبوی ﷺ نے انسان کو اس فکری و عملی الجھن سے نکالنے کے لیے "استخارہ" کا ایک عظیم الشان مسنون تحفہ عطا فرمایا ہے۔ استخارہ کے لغوی معنی "اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی طلب کرنا" کے ہیں۔ استخارہ دراصل بندے کی اپنے رب العزت کے سامنے عاجزی، اس کے علمِ غیب پر اعتراف اور ہر فیصلہ میں الٰہی رہنمائی طلب کرنے کا نام ہے۔ استخارہ محض خواب دیکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ دعائیہ عبادات کا ایک باقاعدہ نظام ہے جو انسان کو ہچکچاہٹ اور ندامت سے بچا کر باطنی سکون اور پختہ عزیمت عطا کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں استخارہ کی شرعی و ایمانی اہمیت کیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو استخارہ کی تعلیم کس طرح دی؟ اور زندگی کے فیصلوں میں استخارہ کا مسنون اور عملی طریقہ کیا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فقہی اور روایتی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
قرآنِ مجید نے مؤمنین کو اپنے تمام امور میں مشورہ اور الٰہی کارسازی پر توکل کرنے کی ترغیب دی ہے:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ (سورۃ آل عمران: 159)
اور کاموں میں ان سے مشورہ لیجیے، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر توکل کیجیے، بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ (سورۃ القصص: 68)
اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) منتخب فرماتا ہے، ان (بندوں) کے لیے انتخاب کا اختیار نہیں ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک تعلیمات میں استخارہ کی وہی اہمیت بیان کی گئی ہے جو قرآنِ مجید کی سورۃ کی ہوتی ہے:
• قرآن کی سورۃ کی طرح استخارہ سکھانا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: "إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ..."
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1166)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم اس طرح دیا کرتے تھے جیسے قرآنِ مجید کی کوئی سورۃ سکھاتے تھے۔ آپ ﷺ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور پھر یہ دعا مانگے: اے اللہ! میں تیرے علم کے وسیلے سے تجھ سے خیر مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلے سے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں...
• استخارہ اور استشارہ کی نبوی برکت
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ" (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2151)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: انسان کی خوش بختی کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہے، اور انسان کی بدبختی کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ سے استخارہ ترک کر دے، اور اس کی بدبختی یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرے۔
4۔ استخارہ کرنے والے اور محض ذاتی عقل پر انحصار کرنے والے کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
استخارہ کے ذریعے الٰہی رہنمائی طلب کرنے والے اور صرف اپنی عقل و تدبیر پر اترانے والے کے درمیان یہ نمایاں فرق ہے:
1۔ فیصلوں کی بنیاد اور باطنی تکیہ:
صرف عقل پر انحصار کرنے والا: اپنی محدود سوچ، تجزئیے اور دنیاوی مشیروں پر کامل انحصار۔
استخارہ کرنے والا مومن: ظاہری اسباب اور مشورے کے بعد حتمی اعتماد علام الغیوب کی ذات پر۔
2۔ فیصلے کے نتائج پر ردِعمل:
صرف عقل پر انحصار کرنے والا: اگر فیصلہ غلط ہو جائے تو شدید ندامت، پچھتاوا اور فرسٹریشن۔
استخارہ کرنے والا مومن: تسلیم و رضا، یہ یقین کہ جو ہوا اس میں اللہ کی کوئی بڑی خیر اور حکمت تھی.
3۔ تصمیم اور عزیمت کی حالت:
صرف عقل پر انحصار کرنے والا: فیصلے کے بعد بھی شک و شبہات، خوف اور عدمِ تحفظ کا شکار رہنا۔
استخارہ کرنے والا مومن: قلبی طمانینت، یکسوئی اور بغیر کسی ڈر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ۔
4۔ باطنی و روحانی کیفیت:
صرف عقل پر انحصار کرنے والا: تکبر اور الحادی خود اعتمادی۔
استخارہ کرنے والا مومن: عجز و انکساری اور بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ بندگی۔
5۔ استخارہ کا مسنون اور صحیح طریقہ (5 Step Practical Process)
استخارہ سے صحیح اور مسنون فائدے کے حصول کے لیے ان پانچ مراحل پر عمل کریں:
الف) مشورہ اور تدبیر (استشارہ): پہلے متعلقہ شعبے کے ماہرین اور مخلص لوگوں سے مشورہ کریں اور ظاہری معلومات جمع کریں۔
ب) دو رکعت نفل کی ادائیگی: باوضو ہو کر فرض کے علاوہ دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے ادا کریں۔
ج) مسنون دعا کا خشوع سے پڑھنا: نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور درود شریف کے بعد صحیح بخاری میں وارد مسنون دعا "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ..." پورے حضورِ قلب سے پڑھیں اور دعا میں اپنے خاص کام کا نام لیں۔
د) دل کے رجحان کو دیکھنا: استخارہ کے لیے خواب دیکھنا ضروری نہیں؛ دعا کے بعد جس راستے کی طرف دل میں یکسوئی، آسانیاں اور شرحِ صدر پیدا ہو، اس پر قدم بڑھا دیں۔
ہ) نتائج کو اللہ کے سپرد کرنا: قدم اٹھانے کے بعد اثرات و نتائج کو اللہ کی حکمت پر چھوڑ دیں اور پچھتاوے سے پاک ہو جائیں۔
6۔ استخارہ کا سچا معائری پیمانہ
عملی زندگی میں سچے استخارے کی علامت اور معیار یہ ہے کہ:
• انسان کے دل سے الجھن اور شش و پنج ختم ہو کر اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے۔
• اگر وہ کام اس کے حق میں بہتر ہو تو اس کے راستے خود بخود آسان ہوتے چلے جائیں۔
• اگر وہ کام اس کے حق میں نقصان دہ ہو تو اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی سبب ایسا بنا دیتا ہے کہ انسان اس سے دور ہو جاتا ہے۔
7۔ استخارہ کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان زندگی کے فیصلوں میں استخارہ کو اپنا طریقہ بنا لیتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:
• فیصلے میں الٰہی نصرت اور خیر: اللہ تعالیٰ بندے کو غلط اور نقصان دہ راستے سے محفوظ رکھتا ہے۔
• پچھتاوے اور ندامت سے نجات: استخارہ کرنے والا انسان کبھی اپنے فیصلے پر دل شکستہ نہیں ہوتا۔
• باطنی سکینت اور توکل کا فروغ: دل کو یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ میرا محافظ اور کارساز خود رب العالمین ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ استخارہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں الٰہی روشنی اور باطنی سکون حاصل کرنے کا سب سے بہترین مسنون راستہ ہے۔ جو انسان اپنی عقل کے ساتھ ساتھ اپنے خالق کے علمِ غیب پر انحصار کرتا ہے، وہ کبھی ناکام یا خوار نہیں ہوتا۔ استخارہ کا مقصد خوابوں کا منتظر رہنا نہیں بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے خير کا سوال کرنا اور پھر تسلیم و رضا کے ساتھ قدم بڑھانا ہے۔ آئیے! ہم اپنی زندگی کے ہر اہم موڑ، رشتے، کاروبار اور فیصلے میں استخارہ اور استشارہ کی مسنون سنت کو زندہ کریں تاکہ ہماری زندگیوں میں خیر، برکت اور اطمینان داخل ہو۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ خِرْ لِي وَاخْتАРْ لِي، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى خِيَرَتِي لِنَفْسِي۔
اے اللہ! میں تیرے علم کے وسیلے سے تجھ سے خیر مانگتا ہوں، اور تیری قدرت کے وسیلے سے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں، اور تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میرے لیے بہترین کا انتخاب فرما اور مجھے میرے اپنے انتخاب کے حوالے نہ فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
زندگی کے فیصلوں میں استخارہ کی اہمیت اور مسنون طریقہ کار کا یہ پیغام کسی الجھن کا شکار انسان کے لیے سچی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
