ذکرِ الٰہی کی کثرت اور ہماری عملی زندگی (قسط 141)

Discover the spiritual importance of Dhikr-e-Ilahi (remembrance of Allah) in daily life, supported by Quranic verses, authentic Hadiths, and practical tips.

Dr. Wajid Irshad

5/21/20261 min read

تمہید: مصروف دور اور دلوں کا روحانی قحط

ذکرِ الٰہی مومن کی روحانی اور قلبی زندگی کی بنیاد ہے۔ جس طرح جسم کو زندہ رہنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح روح کو بالیدگی اور تازگی دینے کے لیے اللہ رب العزت کی یاد ناگزیر ہے۔ آج کے اس تیز ترین اور مادی دور میں، جہاں انسان صبح سے شام تک دنیاوی دوڑ دھوپ میں مصروف ہے، دلوں پر غفلت کے پردے پڑ چکے ہیں۔ ہم نے اپنے جسموں کو تو ہر طرح کی آسائشیں فراہم کر دی ہیں، لیکن روحیں بے سکونی کا شکار ہیں۔ ایسے قحط زدہ ماحول میں، ذکرِ خداوندی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے تاکہ ہماری روحیں زندہ رہ سکیں اور زندگیوں میں حقیقی برکت پیدا ہو۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں: دلوں کے اطمینان کا واحد راستہ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں بار بار اپنے بندوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ کائنات کی تمام تر مادی نعمتیں اور آسائشیں مل کر بھی انسان کو وہ سکون نہیں دے سکتیں جو رب کی یاد سے حاصل ہوتا ہے۔

اہل ایمان کو براہِ راست حکم دیتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (سورۃ الاحزاب، آیت: 41)

"اے ایمان والو! اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔"

یہاں لفظ "کثرت" یہ بتاتا ہے کہ ذکر صرف رسمی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ مومن کی سانسوں کی طرح اس کی زندگی میں رواں ہونا چاہیے۔

انسانی دلوں کی بے چینی کا علاج بتاتے ہوئے ایک اور مقام پر فرمایا گیا:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (سورۃ الرعد، آیت: 28)

"خبردار ہو جاؤ! دلوں کا سکون تو صرف اللہ کے ذکر ہی میں ہے۔

" یعنی دنیا کی کوئی محفل یا دولت دل کو وہ اطمینان نہیں دے سکتی جو رب کی یاد سے ملتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے ایک بے مثال سودا کرتے ہوئے فرماتا ہے:

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ (سورۃ البقرہ، آیت: 152)

"تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔"

ایک بندے کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ کائنات کا مالک اس کا نام لے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں: زندہ اور مردہ کا فرق

رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیثِ مبارکہ کے ذریعے ذکر کی اہمیت کو اتنے واشگاف اور دلنشیں انداز میں بیان فرمایا ہے کہ ایک مومن کے دل میں ذکر کا شوق مچلنے لگتا ہے۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُهُ كَمَثَلِ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6407)

"جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔"

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو دل اللہ کی یاد سے خالی ہے، وہ بظاہر دھڑکتا ضرور ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ ایک لاش کی مانند ہے۔

نیکیوں کی دوڑ میں آگے نکلنے والوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:

سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ... الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2676)

"مفردون سبقت لے گئے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مفردون کون ہیں؟ فرمایا: اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں۔"

تمام عبادات کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا:

أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ... ذِكْرُ اللَّهِ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3377)

"کیا میں تمہیں تمہارے بہترین اعمال نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے نزدیک سب سے پاکیزہ ہیں؟ (پھر فرمایا) وہ اللہ کا ذکر ہے۔"

عملی زندگی میں ذکرِ الٰہی کے ثمرات اور اہمیت

جب ہم ذکرِ خداوندی کو اپنی روزمرہ زندگی کا معمول بنا لیتے ہیں، تو اس کے اثرات ہماری شخصیت پر واضح نظر آنے لگتے ہیں۔ ذکر محض الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، بلکہ اس کے عملی فائدے یہ ہیں:

  1. حقیقی دل کا سکون: ذہنی تناؤ، اینگزائٹی اور دورِ حاضر کی نفسیاتی پریشانیوں کا واحد اور مستقل علاج ذکر ہے۔

  2. ایمان کی تجدید اور تازگی: گناہوں کی وجہ سے ایمان پر جو زنگ لگ جاتا ہے، ذکرِ الٰہی اس زنگ کو اتار کر ایمان کو دوبارہ جلا بخشتا ہے۔

  3. گناہوں کی معافی کا ذریعہ: کثرتِ ذکر سے انسان کے صغیرہ گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے خزاں میں درخت سے پتے۔

  4. روحانی طاقت کا حصول: ذکر کرنے والا بندہ شیطان کے وسوسوں کے مقابلے میں ایک مضبوط چٹان بن جاتا ہے اور اس کے اندر گناہوں سے بچنے کی اندرونی قوت پیدا ہوتی ہے۔

غفلت کے ہلاکت خیز نقصانات

جہاں ذکر کے بے شمار فوائد ہیں، وہاں اللہ کی یاد سے غافل ہو جانے کے نقصانات بھی انتہائی بھیانک ہیں۔ جو انسان اپنے دن کا بیشتر حصہ اللہ کو یاد کیے بغیر گزار دیتا ہے، وہ رفتہ رفتہ ان بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے:

  • دل کی سختی: غفلت کی وجہ سے دل پتھر کی طرح سخت ہو جاتا ہے، جس پر نہ قرآن کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی نصیحت کا۔

  • دائمی بے سکونی: دنیا کی تمام نعمتیں ہونے کے باوجود انسان کا دل اندر سے کڑھتا رہتا ہے اور وہ ایک نامعلوم بے چینی کا شکار رہتا ہے۔

  • عبادات میں سستی: نمازوں میں دل نہ لگنا اور نیک کاموں کو بوجھ سمجھنا، یہ سب غفلت کے مہلک اثرات ہیں۔

ذکر کے عملی طریقے اور میرا تجویز کردہ "عملی منصوبہ"

اکثر احباب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اتنی مصروف زندگی میں ذکر کے لیے وقت کیسے نکالوں؟ میں اپنے تمام قارئین کو ایک بہت ہی سادہ اور عملی منصوبہ (Daily Routine) تجویز کر رہا ہوں، جس پر عمل کر کے آپ بہت آسانی سے ذاکرین کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں:

صبح و شام کے مسنون اذکار:

صبح اٹھنے کے بعد اور عصر یا مغرب کے بعد کم از کم 10 سے 15 منٹ نکال کر مستند مسنون دعائیں اور اذکار پڑھنے کی عادت بنائیں۔ یہ آپ کے گرد ایک روحانی حصار قائم کر دیں گے۔

فرض نمازوں کے بعد کی تسبیحات:

نمازِ پنجگانہ کے فوراً بعد اٹھنے کے بجائے صرف 2 منٹ تسبیحِ فاطمی (33 بار سبحان اللہ، 33 بار الحمدللہ، 34 بار اللہ اکبر) پڑھنے کا پختہ عزم کریں۔

استغفار کی کثرت

دن بھر میں کم از کم 100 مرتبہ "استغفر اللہ" پڑھنے کو اپنا معمول بنائیں۔ یہ آپ کے رزق کے دروازے بھی کھولے گا اور دل کو بھی پاک کرے گا۔

چلتے پھرتے ذکر کی عادت:

جب آپ گاڑی چلا رہے ہوں، بازار جا رہے ہوں، یا خواتین گھر کے کام کاج کر رہی ہوں، تو زبان کو فارغ رکھنے کے بجائے درود شریف یا تیسرے کلمے سے تر رکھیں۔ اس طرح آپ کا وہ وقت جو ضائع ہونا تھا، نیکیوں میں بدل جائے گا۔

اختتامیہ: نورِ الٰہی سے دلوں کو روشن کیجیے

خلاصہِ کلام یہ ہے کہ ذکرِ الٰہی مومن کی زندگی کا اصل نور ہے۔ جو شخص اپنی زندگی کی ڈور اپنے رب کی یاد سے باندھ لیتا ہے، اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے دل کو زندہ کر دیتا ہے بلکہ اس کی دنیاوی زندگی کے تمام معاملات میں برکت اور آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔ آئیے آج ہی سے عہد کریں کہ ہم غفلت کی زندگی کو الوداع کہیں گے اور اپنی زبانوں کو اپنے خالق و مالک کی یاد سے آباد رکھیں گے۔

دعا

اللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُکْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ

"اے اللہ! ہمیں اپنے ذکر کرنے، تیرا شکر ادا کرنے اور بہترین طریقے سے تیری عبادت کرنے پر ہماری مدد فرما۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نوٹ: نیکی کی بات کو آگے پہنچانا صدقہِ جاریہ ہے۔ اس تحریر کو اپنے دوستوں اور سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں تاکہ یہ پیغامِ خیر ہر گھر تک پہنچ سکے۔

ذکرِ الٰہی کی کثرت اور ہماری عملی زندگی

تحریر و تحقیق : ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ: اصلاحِ معاشرہ (قسط نمبر 141)

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.