وقت کی پابندی - تنظیمِ حیات، ذمہ داری اور عملی کامرانی کا نبوی اسوہ | قسط 250 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring and practical article on the importance of punctuality (Waqt Ki Pabandi), time management, and Islamic principles of daily life by Dr. Wajid Irshad.


وقت کی پابندی - تنظیمِ حیات، ذمہ داری اور عملی کامرانی کا نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 250)
1۔ تمہید
انسانی زندگی کا سب سے قیمتی اور ناقابلِ تلافی سرمایہ "وقت" ہے۔ دنیا میں ضائع ہو جانے والی ہر چیز یا نعمت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن گزر جانے والا ایک لمحہ بھی کروڑوں روپے خرچ کر کے واپس نہیں لایا جا سکتا۔
آج کے دور میں ہماری انفرادی و اجتماعی ناکامیوں، معاشی زوال اور نفسیاتی تناؤ کی سب سے بڑی وجہ عملی زندگی میں "وقت کی پابندی" اور منظم حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ ہم نے سستی، کاہلی اور بلامقصد سرگرمیوں کو اپنا معمول بنا لیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے اہم ترین دینی، دفتری اور خاندانی کام التواء کا شکار رہتے ہیں۔
اسلام ایک ایسا دینِ فطرت ہے جس کی روح میں نظم و ضبط اور وقت کی قدر و قیمت رچی بسی ہے۔ نماز، روزے، حج اور زکوۃ جیسے عبادتی ارکان کی وقت پر فرضیت دراصل انسان کو دن کے 24 گھنٹوں میں وقت کا منظم اور پابند بنانے کی بہترین عملی تربیت ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے وقت کے مختلف حصوں کی قسمیں کھا کر بنی نوعِ انسان کو اس کی عظمت کی طرف متوجہ فرمایا ہے:
سورۃ العصر (آیات 1-2):
وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
"زمانے کی قسم! بے شک انسان سراسر خسارے اور نقصان میں ہے۔"
سورۃ النساء (آیت 103):
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوقُوتًا
"بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے۔"
3۔ اسوہٴ حسنہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام
سیرتِ طیبہ اور احادیثِ مبارکہ کا بنظرِ غائر مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے امت کو وقت کی ایک ایک گھڑی کو کارآمد بنانے اور نیکیوں میں پہل کرنے کا درس دیا ہے:
قیامت کے دن وقت کی بازپرس:
عن ابن مسعود رضی الله عنه عن النبي ﷺ قال: لا تزول قدما ابن آدم يوم القيامة من عند ربه حتى يسأل عن خمس: عن عمره فيم أفناه، وعن شبابه فيم أبلاه... (جامع الترمذی: 2417)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن بندے کے قدم اپنے رب کے پاس سے اس وقت تک نہیں ہٹ سکتے جب تک کہ اس سے پانچ سوالات نہ پوچھ لیے جائیں: جس میں سے پہلا سوال یہ ہے کہ اس نے اپنی عمر کن کاموں میں فنا کی، اور اپنی جوانی کو کہاں پرانا کیا۔"
دو بڑی نعمتوں کی قدر نہ کرنا:
عن ابن عباس رضی الله عنهما قال: قال النبي ﷺ: نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ (صحیح البخاری: 6412)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے معاملے میں بہت سے لوگ دھوکے اور غفلت میں ہیں: صحت اور فراغت کا وقت۔"
4۔ عملی زندگی میں وقت کی پابندی کے 4 بنیادی تقاضے
صبح خیز اور باقاعدہ روٹین:
عملی زندگی کو منظم کرنے کی شروعات فجر کے وقت سے ہوتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "اللهم بارك لأمتي في بكورها" (اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت فرما)۔ دن کی شروعات جلدی کرنے سے کاموں میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
ترجیحات کا تعین:
اپنے دن بھر کے کاموں کو ان کی اہمیت کے اعتبار سے تقسیم کریں۔ اہم اور فوری کاموں کو پہلے نمٹائیں اور لایعنی و غیر ضروری مصروفیات (مثلاً سوشل میڈیا کا بلامقصد استعمال) کو محدود کریں۔
دوسروں کے وقت کی عزت کرنا:
کسی کو دیا گیا ملاقات کا وقت، دفتری اوقات یا کسی تقریب میں بروقت پہنچنا اخلاقی فرض ہے۔ تاخیر سے پہنچنا سامنے والے شخص کے وقت اور حقوق کی تذلیل ہے۔
التسویف یعنی کام کو کل پر ٹالنے سے پرہیز:
کام کو آئندہ پر ٹالنا کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ آج کے کام کو آج ہی نمٹانے کی عادت انسان کو ذہنی دباؤ اور بوجھ سے آزاد رکھتی ہے۔
5۔ اختتامیہ
وقت کی پابندی محض ایک رسمی یا دفتری نظم و ضبط نہیں بلکہ یہ انسان کے پختہ کردار، بلند عزائم اور خدا ترسی کی علامت ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے ترقی اور سرفرازی کی بلندیوں کو چھوا ہے، ان کا سب سے بڑا راز وقت کی قدردانی اور ہر کام کو اس کے طے شدہ وقت پر پورا کرنا ہے۔
نبوی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ایک سچا مسلمان وقت کا حریص ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کی ہر سانس کو دین، دنیا اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ آئیے! یہ پکا عزم کریں کہ ہم اپنی عملی زندگی میں وقت کی پابندی کو اپنا شعار بنائیں گے، تاخیر اور سستی کا خاتمہ کریں گے اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے معاشرے کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔
دعا:
اللهم بارك لنا في أوقاتنا وأعمالنا، وأعذنا من العجز والكسل وتضييع الأوقات
اے اللہ! ہمارے اوقات اور ہمارے اعمال میں برکت عطا فرما، اور ہمیں عاجزی، سستی اور وقت کو ضائع کرنے سے اپنی پناہ میں رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
وقت کی پابندی اور عملی زندگی کی کامیابی کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
