Waqt ka Zaya / وقت کا ضیاع

Time wastage Waqt ka Zaya / وقت کا ضیاع is not just a worldly loss but a serious spiritual نقصان that gradually distances a person from their purpose. Every moment is a blessing from Allah, yet when it is spent in heedlessness, it weakens faith and hardens the heart. Those who value their time grow spiritually, while those who neglect it lose both dunya and akhirah. Make conscious efforts to use your time wisely—engage in beneficial activities, remember Allah, and avoid distractions. Because once time is gone, it never returns, and every moment will be accounted for.

Dr. Wajid Irsahd

3/31/20261 min read

وقت کا ضیاع: روحانی نقصان

قسط نمبر: —90

ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید

وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے، جس کی قدر کرنے والے ہی حقیقی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ افسوس کہ آج کا انسان اس قیمتی سرمایہ کو فضولیات، غفلت اور غیر ضروری مشاغل میں ضائع کر رہا ہے۔ وقت کا ضیاع محض دنیاوی نقصان نہیں بلکہ یہ ایک بڑا روحانی خسارہ بھی ہے، کیونکہ یہی وقت اگر اللہ کی یاد، عبادت اور اصلاحِ نفس میں صرف ہو تو انسان کے درجات بلند ہو سکتے ہیں۔ غفلت میں گزرا ہوا وقت دل کو سخت اور روح کو کمزور کر دیتا ہے۔

قرآن کی روشنی میں

وَالْعَصْرِ ۙإِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۙإِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ

(سورۃ العصر: 1-3)

زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے۔

وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ

(سورۃ الأعراف: 205)

اور غافل لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا

(سورۃ المؤمنون: 115)

کیا تم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے؟

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ:

نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ

صحیح البخاری رقم الحدیث: 6412

دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔

فرمان نبوی ﷺ:

لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ

سنن الترمذی رقم الحدیث: 2417حکم الحدیث:صحیح

قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں خرچ کیا۔

فرمان نبوی ﷺ:

اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: حَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ

مستدرک علی الصحیحین رقم الحدیث: 7846 حکم الحدیث:صحیح

پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو: اپنی زندگی کو موت سے پہلے، اور اپنی فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔

وقت کے ضیاع کے روحانی نقصانات

دل کی سختی اور غفلت میں اضافہ عبادات میں سستی اور بے رغبتی* ذکرِ الٰہی سے دوری* نیکی کے مواقع کا ضائع ہونا* آخرت کی تیاری میں کمی

وقت کو ضائع ہونے سے کیسے بچائیں؟

روزانہ کا منصوبہ

اپنے دن کی منصوبہ بندی کریں اور ہر کام کے لیے وقت مقرر کریں تاکہ وقت بے مقصد نہ گزرے۔

فضولیات سے بچاؤ

غیر ضروری موبائل استعمال، سوشل میڈیا اور بے فائدہ گفتگو کو محدود کریں۔

عبادات کو ترجیح

نماز، تلاوت اور ذکر کو اپنے شیڈول کا لازمی حصہ بنائیں۔

وقت کا حساب

دن کے اختتام پر یہ دیکھیں کہ وقت کہاں صرف ہوا اور کہاں ضائع ہوا۔

اقوالِ سلف صالحین:

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:دن اور رات تمہارے اندر کام کر رہے ہیں، اس لیے تم بھی ان میں عمل کرو۔

(حلیۃ الاولیاء)

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اے ابن آدم! تو دنوں کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ چلا جاتا ہے۔

(حلیۃ الاولیاء، 2/148)

عملی منصوبہ

روزانہ: اپنے وقت کا کم از کم 10 منٹ جائزہ

ہفتہ وار: ایک دن مکمل شیڈول کا تجزیہ

ماہانہ: اپنی عادات اور مصروفیات کی اصلاح

اختتامیہ

وقت کا ضیاع درحقیقت روحانی تباہی کا آغاز ہے۔ کامیاب وہی ہے جو وقت کی قدر کرے اور اسے اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرے۔ اگر ہم اپنے وقت کو سنوار لیں تو ہماری دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔

دعا

اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَوْقَاتِنَا، وَأَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔

اے اللہ! ہمارے وقت میں برکت عطا فرما اور ہمیں اپنی یاد، شکر اور بہترین عبادت کی توفیق دے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔ئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔