وعدے کی پابندی، میثاقِ مدینہ اور قومی سلامتی کا تحقیقی تناظر | 6 ستمبر یومِ دفاع خصوصی - قسط 249 - ڈاکٹر واجد ارشاد
A research study on fulfilling commitments (Waade Ki Pabandi), Covenant of Madinah, and its alignment with Defense Day of Pakistan (6th September) by Dr. Wajid Irshad.


وعدے کی پابندی، میثاقِ مدینہ اور قومی سلامتی کا تحقیقی تناظر
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 249)
1۔ تمہید
کسی بھی اعلیٰ انسانی تہذیب، پائیدار معاشرے اور مضبوط ریاست کا قوام باہمی اعتماد پر قائم ہوتا ہے، جس کا بنیادی ستون "وعدے اور عہد کی پاسداری" (Pacta Sunt Servanda) ہے۔ عالمگیر انسانی تاریخ اور فکری ارتقاء کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اقوام کی سیاسی و اخلاقی تنزلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ان کے افراد اور حکمرانوں کے ہاں الفاظ کی حرمت، معاہدوں کی قدریت اور وعدہ وفائی ختم ہو جاتی ہے۔ عصرِ حاضر کے اس مادی دور میں جہاں انفرادی زندگی میں وعدہ خلافی کو محض ایک معمولی خامی سمجھا جاتا ہے، وہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر اسے سیاسی حکمتِ عملی اور مصلحت کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسلام نے اس رویے کی سخت نفی کرتے ہوئے عہد کی پاسداری کو ایمانی جڑ اور دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ بالخصوص 6 ستمبر (یومِ دفاعِ پاکستان) کے تاریخی تناظر میں جب ہم اپنی قومی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ دفاعِ وطن دراصل اس مقدس قومی عہد اور میثاق کی پاسداری کا نام ہے جو اس سرزمین کے شجاع فرزندوں نے اپنے رب اور اپنی قوم سے کیا تھا۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ حکیم میں رب العزت نے فرد کی انفرادی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاہدات تک تمام عقود اور عہود کو پورا کرنے کا واضح حکم دیا ہے:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (سورۃ الاسراء: 34)
اور وعدے کو پورا کرو، بے شک وعدے (اور معاہدے) کے بارے میں قیامت کے دن سخت بازپرس ہوگی۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ (سورۃ المائدہ: 1)
اے ایمان والو! اپنے تمام (انفرادی، اجتماعی اور سیاسی) معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرو۔
وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (سورۃ المؤمنون: 8)
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پورا خیال رکھنے والے ہیں۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ اور میثاقِ مدینہ کا تحقیقی و سیرت نگارانہ جائزہ
سیرتِ طیبہ کا سائنسی و تاریخی مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے نہ صرف انفرادی زندگی میں بلکہ مدنی ریاست کی بنیاد رکھتے وقت بھی بین الاقوامی سفارت کاری میں وعدہ وفائی کو اولین ترجیح دی۔
سیاسی و ریاستی سطح پر عہد کی پاسداری (میثاقِ مدینہ):
ریاستِ مدینہ کے قیام کے بعد آپ ﷺ نے یہودی قبائل اور دیگر گروہوں کے ساتھ "میثاقِ مدینہ" اور بعد میں قریشِ مکہ کے ساتھ "صلحِ حدیبیہ" کا تاریخی معاہدہ فرمایا۔ سخت ترین حالت میں بھی آپ ﷺ نے ان معاہدات کی شقوں کی پاسداری فرما کر دنیا کے سامنے عالمی سفارتی اخلاقیات (Treaty Ethics) کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
ایمان اور عہد کا گہرا ارتباط:
عن أنس بن مالك رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له (مسند أحمد: 12383)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں وعدے کی پاسداری نہیں"۔
منافقت کی شناخت:
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان (صحیح البخاری: 33)
حضرت ابو ہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔"
4۔ 6 ستمبر، یومِ دفاع اور "عہدِ وفائے وطن" کا فکری و تحقیقی ربط
6 ستمبر 1965ء کا دن تاریخِ پاکستان میں صرف ایک جنگی معرکہ نہیں، بلکہ یہ ایمانی صلابت اور ایک عظیم قومی وعدے کی تکمیل کا دن ہے۔
دفاعِ وطن - رب اور قوم کے ساتھ معاہدے کی پاسداری:
پاکستان کا قیام لا الہ الا اللہ کے ایک ابدی عہد اور میثاق پر عمل میں آیا تھا۔ 6 ستمبر 1965ء کو جب دشمن نے شب خون مارا، تو ہماری افواجِ پاکستان اور غیور عوام نے اپنے اس مقدس عہد اور مٹی کے ساتھ کیے گئے وعدے پر اپنی جانیں نثار کر کے ثابت کیا کہ مسلم کے لیے وعدے کی پاسداری صرف ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ عین شہادت اور عبادت ہے۔
شہدائے وطن اور نبوی امانت داری:
پاک فوج کے مجاہدین اور شہداء نے جس شجاعت سے اپنے حلف (Oath of Allegiance) کو نبھایا، وہ دراصل سیرتِ نبوی کے اسی درس کا عملی مظہر تھا کہ سونپی گئی امانت اور ذمہ داری کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگائی جا سکتی ہے، مگر عہد سے انحراف ممکن نہیں۔
عصرِ حاضر کی فکری ضرورت:
آج جب ہم 6 ستمبر کا دن منا رہے ہیں، تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ایک شہری کے طور پر کیا ہم اپنے ملک، آئین، قوانین، دفتری امور اور معاشرتی حقوق کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو ایمانداری سے پورا کر رہے ہیں؟ ملک کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کا تحفظ جہاں افواجِ پاکستان کا عہد ہے، وہاں ملک میں سچائی، قانون کی پاسداری، اور معاشی و اخلاقی امانت داری کو قائم رکھنا ہر شہری کا قومی و دینی عہد ہے۔
5۔ اختتامیہ
وعدے کی پابندی محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ یہ انسانی ضمیر کی زبردست کسوٹی ہے۔ چاہے انفرادی اخلاقیات ہوں، کاروباری معاہدات ہوں، یا 6 ستمبر کی طرح وطن کی حرمت پر جان نثار کرنے کا حلف—اسلام ہمیں ہر سطح پر اپنے عہد پر قائم رہنے کی ہدایت دیتا ہے۔ جو قومیں اپنے معاہدوں اور نظریاتی بنیادوں سے انحراف کرتی ہیں، وہ تاریخ کے صفحات سے مٹ جاتی ہیں۔ آئیے! یومِ دفاعِ پاکستان کے اس باوقار موقع پر جہاں ہم اپنے شہداءِ وطن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، وہاں اپنے رب سے یہ پکا عزم بھی کریں کہ ہم اپنی انفرادی، اجتماعی اور قومی زندگی کے تمام وعدوں کو نبوی اسوہ حسنہ کے مطابق پورا کریں گے اور اپنے ملک کی سلامتی، ترقی اور اخلاقی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
دعا:
اللهم اجعلنا ممن وفّوا بعهدهم وإذا وعدوا أنجزوا، واحفظ وطننا پاکستان بحفظك وأمانك
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں میں سے بنا جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور جب وعدہ کریں تو اسے نبھاتے ہیں، اور ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھ۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
وعدے کی پاسداری، میثاقِ مدینہ اور 6 ستمبر یومِ دفاع کا یہ خاص تحقیقی پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
