تراویح میں قرآن سننے کے آداب Enhance Your Taraweeh Experience this Ramadan

Discover the beauty of listening to the Qur'an during Taraweeh prayers this Ramadan. Learn about proper etiquette, attentiveness, and reflection to deepen your spiritual connection, supported by authentic hadith.

Dr. Wajid Irshad

3/14/20261 min read

تراویح میں قرآن سننے کے آداب

ڈاکٹر واجد ارشاد
قسط نمبر: 74
تمہید

رمضان المبارک کی ایک نمایاں عبادت نمازِ تراویح ہے جس میں قرآنِ کریم کی تلاوت سننے کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ مساجد میں مسلمان بڑی تعداد میں جمع ہو کر قرآن سنتے ہیں اور یہ عمل دراصل قرآن کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے اور روحانی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ تاہم قرآن سننے کے بھی کچھ آداب اور تقاضے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ عبادت محض رسم نہ بنے بلکہ دلوں میں ہدایت اور خشوع پیدا کرے۔

قرآن کی روشنی میں

وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الأعراف 204)

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا (الأنفال 2)

مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

حدیث کی روشنی میں

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ (سنن أبي داود 1455)

جو لوگ اللہ کے گھروں میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اسے آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ اپنے مقرب فرشتوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال قال لي النبي ﷺ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ (صحیح البخاری 5050)

نبی ﷺ نے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔

فقہی آراء اور تجزیہ

علمائے امت کے نزدیک نمازِ تراویح میں قرآن سننا ایک عظیم عبادت ہے۔ اس کا مقصد صرف قرآن ختم کرنا نہیں بلکہ اس کے پیغام کو سننا اور اس سے روحانی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اسی لیے قرآن سننے کے وقت سکون، خاموشی اور ادب کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ غیر ضروری گفتگو، شور یا بے توجہی قرآن کے احترام کے خلاف ہے۔ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت دل اور کان دونوں کو متوجہ ہونا چاہیے تاکہ اس کا اثر انسان کی شخصیت اور کردار پر ظاہر ہو۔

عملی پہلو

تراویح میں قرآن سننے کے لیے چند عملی آداب کو اپنانا ضروری ہے۔ نمازیوں کو چاہیے کہ مسجد میں وقت سے پہلے پہنچیں، دل کو یکسو کریں اور نماز کے دوران مکمل توجہ کے ساتھ قرآن سنیں۔ اسی طرح غیر ضروری حرکات، موبائل فون کا استعمال یا گفتگو سے اجتناب کریں۔ اگر ممکن ہو تو قرآن کے ترجمہ اور مفہوم سے واقفیت حاصل کرنا بھی مفید ہے تاکہ تلاوت سننے کا اثر دل پر زیادہ گہرا ہو اور قرآن کی ہدایت عملی زندگی میں ظاہر ہو۔

دعا
اللّٰهُمَّ اجْعَلِ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قُلُوبِنَا وَنُورَ صُدُورِنَا وَاهْدِنَا لِتِلَاوَتِهِ وَالِاسْتِمَاعِ إِلَيْهِ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى۔

اے اللہ! قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار اور ہمارے سینوں کا نور بنا دے اور ہمیں اس کی تلاوت اور اسے سننے کی توفیق عطا فرما جس طرح تو پسند فرماتا ہے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے اس تحریر کو شیئر کر کے خیر کے کامون میں ہمارا ساتھ دیں۔