thkre-aly-s-dwry-k-nqsanat ذکرِ الٰہی سے دوری کے نقصانات
Distance from the remembrance of Allah (Dhikr) leads to spiritual emptiness and inner unrest. When a person neglects Dhikr, the heart becomes weak, distracted, and more vulnerable to sins. True peace and contentment lie in remembering Allah consistently, as it strengthens faith and brings light into one’s life. Make Dhikr a part of your daily routine—because a heart connected to Allah never feels lost


ذکرِ الٰہی سے دوری کے نقصانات
قسط نمبر: 95
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
ذکرِ الٰہی دلوں کی زندگی اور روح کی غذا ہے۔ جب انسان اللہ کی یاد سے جڑ جاتا ہے تو اسے سکون، اطمینان اور ہدایت نصیب ہوتی ہے، لیکن جب وہ ذکر سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا دل بے چین، پریشان اور اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ آج کے دور میں مصروفیات، سوشل میڈیا اور دنیاوی مشاغل نے انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں روحانی کمزوری عام ہو چکی ہے۔
قرآن کی روشنی میں
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
(سورۃ الزخرف، آیت: 36)
اور جو شخص رحمان کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔
وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا
(سورۃ طٰہٰ، آیت: 124)
اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہوگی۔
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ
(سورۃ البقرہ، آیت: 152)
تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
فرمان نبوی ﷺ
مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6407)
جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو یاد نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔
فرمان نبوی ﷺ
لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِّن ذِكْرِ اللَّهِ
(سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3375، وقال: حسن)
تمہاری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔
فرمان نبوی ﷺ
أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ... ذِكْرُ اللَّهِ
(سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3377، وقال: حسن صحیح)
کیا میں تمہیں تمہارے بہترین اعمال نہ بتاؤں؟ وہ اللہ کا ذکر ہے۔
ذکر سے دوری کے نقصانات
دل کی بے چینی اور اضطراب شیطان کا غلبہ* عبادات میں سستی* روحانی کمزوری* گناہوں میں آسانی
ذکرِ الٰہی کی اہمیت کیسے اپنائیں؟
روزانہ ذکر کا معمول
صبح و شام کے اذکار کو لازمی بنائیں۔
نماز کی پابندی
نماز ذکر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
قرآن کی تلاوت
روزانہ قرآن پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
استغفار کی کثرت
استغفار دل کو صاف اور نرم کرتا ہے۔
عملی منصوبہ
روزانہ: 10-15 منٹ ذکر
ہفتہ وار: اذکار کا جائزہ
ماہانہ: اپنی روحانی حالت کی بہتری
اختتامیہ
ذکرِ الٰہی سے دوری انسان کو اندھیرے میں لے جاتی ہے، جبکہ ذکر دل کو روشن اور زندگی کو بامقصد بنا دیتا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے۔
دعا
اللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔
اے اللہ! ہمیں اپنی یاد، شکر اور بہترین عبادت کی توفیق عطا فرما۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔
