تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ - نفس کی اصلاح، وسعتِ ظرف اور نبوی حلم | قسط 247 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An insightful article on developing patience against criticism (Tanqeed), controlling self-ego (Nafs), and practicing tolerance in Islam by Dr. Wajid Irshad.


تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ - نفس کی اصلاح، وسعتِ ظرف اور نبوی حلم
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 247)
1۔ تمہید
انسانی نفس کی ایک بنیادی جبلت یہ ہے کہ وہ اپنی تعریف و توصیف پر خوش ہوتا ہے اور اپنی خامیوں، غلطیوں یا تنقید کے سامنے آتے ہی فوری طور پر دفاعی یا معاندانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ آج ہمارے معاشرتی زوال، رشتوں کی توڑ پھوڑ اور فکری جمود کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر "تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ" ختم ہوتا جا رہا ہے۔ معمولی سی تنقید، اصلاحی مشورے یا نکتہ چینی کو ہم اپنی انا (Ego) کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اس کے جواب میں غصہ، بائیکاٹ یا انتقامی رویہ اپناتے ہیں۔ اسلام ہمیں نفس کے اس سرکش رویے کو رام کرنے اور وسعتِ ظرف پیدا کرنے کا درس دیتا ہے۔ سیرتِ طیبہ اور اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت تنقید پر سیخ پا ہونے میں نہیں، بلکہ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے، اپنی اصلاح کرنے اور صلہ رحمی برقرار رکھنے میں ہے۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے متقین اور کامل انسانوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کی تلخیوں کو معاف کر دیتے ہیں:
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (سورۃ آل عمران: 134)
اور جو غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (سورۃ الاعراف: 199)
درگزر کو اپنا طریقہ بناؤ، معروفی (نیکی) کا حکم دو اور جاهلوں (سخت گو لوگوں) سے منہ موڑ لو۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کا رہنما نچوڑ
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی پہلوان اور مضبوط انسان وہ ہے جو اپنے نفس اور غصے پر قابو رکھے:
حقیقی پہلوان کون؟
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ليس الشديد بالصرعة، إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب (صحیح البخاری: 6114)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "پہلوان وہ نہیں جو دوسرے کو پچھاڑ دے، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔"
مؤمن کی نصیحت کو قبول کرنا:
عن أنس بن مالك رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: المؤمن مِرْآةُ المؤمن (سنن أبي داود: 4918)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے۔" (یعنی جیسے آئینہ بغیر کسی کینے کے خامیاں دکھاتا ہے، اسی طرح مومن تنقید و اصلاح کو قبول کرتا ہے)۔
4۔ نفس پر قابو اور تنقید کو مثبت انداز میں لینے کی 4 بنیادیں
1. انا (Ego) کے بجائے اصلاحِ نفس پر توجہ:
تنقید سننے پر جب غصہ آئے تو فوراً اپنے نفس کو یاد دلائیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ اگر تنقید میں کوئی سچائی ہے تو اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بنائیں اور تنقید کرنے والے کا شکر گزار ہوں۔ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: "اللہ اس شخص پر رحم کرے جو مجھے میری خامیوں سے آگاہ کرے۔"
2. تنقید کرنے والے کی نیت پر الزام نہ لگانا:
کسی کی تنقید پر سوءِ ظن کرنے کے بجائے یہ سوچیں کہ شاید وہ میری بہتری چاہتا ہے۔ اگر تنقید جاہلانہ یا بلاوجہ کی نکتہ چینی ہو، تب بھی صبر اور درگزر کا رویہ اختیار کریں۔
3. فوری ردِعمل کے بجائے خاموشی کا التزام (Avoiding Instant Reaction):
تنقید کے جواب میں فوری بولنے یا بحث کرنے سے معاملات بگڑتے ہیں۔ تنقید سننے کے بعد چند لمحوں کی خاموشی نفس کے ابال کو ٹھنڈا کر دیتی ہے اور عقل کو سوچنے کا موقع دیتی ہے۔
4. تنقید اور دشمنی میں فرق سمجھنا:
ہر تنقید کرنے والا ہمارا دشمن نہیں ہوتا۔ جو انسان صرف تعریفیں سننا چاہتا ہے، وہ اپنی ترقی کے راستے خود بند کر دیتا ہے۔ کڑوا مشورہ دراصل باطنی بیماریوں کی دوا ہوتا ہے۔
5۔ اختتامیہ
تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ دراصل انسانی روح اور نفس کی بالیدگی کا مظہر ہے۔ دنیا میں کوئی بھی شخص مکمل یا بے عیب نہیں ہے۔ اگر ہم تنقید سے ڈریں گے یا اس پر مشتعل ہوں گے تو ہم اپنی ذات کو کبھی سنوار نہیں سکیں گے۔ نبوی اسوہ اور اسلامی اخلاقیات کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اتنا ظرف پیدا کریں کہ دوست کی اصلاح اور دشمن کی نکتہ چینی دونوں کو مسکرا کر سنیں اور اپنے رب کے حضور ہدایت کی دعا کریں۔ آئیے! اپنے نفس کی سرکشی کو توڑ کر وسعتِ قلبی کا ثبوت دیں اور اپنے رویوں سے ثابت کریں کہ ہم حق بات کو قبول کرنے والے سچے مومن ہیں۔
دعا:
اللهم اهدِ قلبي وسدِّد لساني واسْلُلْ سَخِيمَةَ قلبي
اے اللہ! میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان کو درست رکھ اور میرے دل کے کینے اور غصے کو نکال دے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نفس کی اصلاح اور حوصلے کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
