سنت کو زندگی میں شامل کرنے کی حکمت - ربیع الاول پر سیرتِ طیبہ کی روشنی میں عملی دین | قسط 236 - ڈاکٹر واجد ارشاد

An insightful article exploring the wisdom of adopting the Sunnah of Prophet Muhammad (PBUH) in daily practical life (Amli Deen) during Rabi al-Awwal by Dr. Wajid Irshad.

Dr. Wajid Irshad

8/24/20261 min read

سنت کو زندگی میں شامل کرنے کی حکمت - ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں سیرتِ طیبہ کی روشنی میں عملی دین اور اتباعِ رسول ﷺ

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 236)

تمہید

آمدِ ربیع الاول کے اس متبرک مہینے میں جب پوری امتِ مسلمہ حضورِ اکرم ﷺ کی آمد کا جشن مناتی ہے، تو سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں کیسے نافذ کریں۔ سنت صرف چند مخصوص مذہبی رسوم کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل اور حکمت سے بھرپور زندگی گزارنے کا طرزِ عمل ہے۔ جب ایک مومن اپنے اٹھنے، بیٹھنے، کھانے، پینے اور معاملات میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنا معمول بناتا ہے، تو اس کی عام دنیوی سرگرمیاں بھی عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ ربیع الاول کا یہ بابرکت مہینہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہم روایتی محبت سے آگے بڑھ کر "عملی دین" کا حصہ بنیں اور ہر قدم پر نبوی حکمت کو اپنا رہنما بنائیں۔

الٰہی فرامین کی روشنی

قرآنِ حکیم میں اللہ رب العزت نے رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کو اپنی محبت کا معیار اور ہدایت کا واحد ذریعہ قرار دیا ہے:

قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله ويغفر لكم ذنوبكم والله غفور رحيم (سورۃ آل عمران: 31)

آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجموا الله واليوم الآخر وذكر الله كثيرا (سورۃ الأحزاب: 21)

فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کا رہنما نچوڑ

سیرتِ پاک اور احادیثِ مطہرہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سنت پر عمل کرنا دین کو آسان اور با برکت بنانے کا نام ہے:

سنت سے محبت اور نبوی قرب:

عن أنس بن مالك رضی الله عنه قال: قال لي رسول الله ﷺ: يا بني... ومن أحيا سنتي فقد أحبني، ومن أحبني كان معي في الجنة (جامع الترمذی: 2678)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے! ... اور جس نے میری سنت سے محبت کی (اسے زندہ کیا) اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا المعیت میں ہو گا۔

سنت کی مضبوطی سے پاسداری:

عن العرباض بن سارية رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ (سنن ابی داؤد: 4607)

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر چلنا لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں سے پکڑ لو۔

روایتی مذہبی سوچ اور نبوی حکمتِ سنت میں بنیادی فرق

* ظاہری صورت بمقابلہ باطنی روح و حکمت:

روایتی انداز میں سنت کو صرف ایک ظاہری ڈھانچے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ نبوی حکمتِ سنت انسان کی سوچ، اخلاق اور رویوں کو اندر سے پاکیزہ بناتی ہے۔

* دشواری اور سختی بمقابلہ آسان اور فکری اعتدال:

عام طور پر لوگ سنت کو اپنانے کو مشکل سمجھتے ہیں، جبکہ سنت کا اصل مقصد انسانی زندگی میں توازن، سہولت اور بوجھ کو کم کرنا ہے۔

* رسمی عمل بمقابلہ مقصدیت اور نتائج:

رسمی طور پر کیا گیا عمل بے اثر رہتا ہے، جبکہ حکمتِ سنت کے ساتھ کیا گیا عمل انسان کی شخصیت اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔

* محدود دائرہ بمقابلہ 24 گھنٹے کا محیطِ حیات:

عام سوچ سنت کو صرف مسجد تک محدود کرتی ہے، جبکہ نبوی حکمتِ سنت بازار، گھر، سیاست اور تمام دنیوی امور کو دین کا حصہ بنا دیتی ہے۔

زندگی کو سنت کے سانچے میں ڈھالنے کے 6 محکم اصول

1۔ نیت کی تبدیلی اور عبادات کا تدریجی نفاذ (Intentional Transformation):

کسی بھی کام سے پہلے یہ نیت کرنا کہ "میں یہ عمل نبوی طریقہ سمجھ کر کر رہا ہوں" عام عادت کو ثواب کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا، دائیں ہاتھ سے کھانا اور پانی بیٹھ کر پینا جیسے چھوٹے اعمال زندگی میں برکت کا باعث بنتے ہیں۔

2۔ معاشی و تجارتی معاملات میں شفافیت (Financial Integrity):

سنت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ سچ بولنا، ناپ تول پورا کرنا، اور وعدہ پورا کرنا سنتِ نبوی کا اہم ترین حصہ ہے۔ تجارت میں نبوی اصولوں کو اپنانا رزق میں وسعت لاتا ہے۔

3۔ خاندانی زندگی اور رشتوں کا احترام (Compassionate Family Life):

گھر والوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، کام کاج میں ہاتھ بٹانا اور بچوں کے ساتھ شفقت کرنا سنتِ نبوی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہو۔"

4۔ صفائی اور پاکیزگی کو فطرت بنانا (Personal Hygiene & Health):

مسواک کا باقاعدہ استعمال، پاکیزگی کا خیال، اور جلدی سونے اور صبح سویرے اٹھنے کا نبوی شیڈول انسان کو جسمانی طور پر تندرست اور پرسکون رکھتا ہے۔

5۔ گفتگو میں حلم اور مسکراہٹ (Soft Speech and Smiling Face):

کسی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ بات چیت میں نرمی، گالی گلوچ سے پرہیز، اور خاموشی کو ترجیح دینا سنت کا وہ پہلو ہے جو انسانی تعلقات کو خوشگوار بناتا ہے۔

6۔ اعتدال اور میانہ روی (Balance in All Matters):

دین یا دنیا کسی بھی معاملے میں انتہا پسندی سے بچنا اور میانہ روی اختیار کرنا سنتِ نبوی کا اصل جوہر ہے۔

عملی زندگی میں اتباعِ سنت کے 5 بنیادی خطوات

1۔ روزمرہ کی آسان مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں: صبح اٹھنے، سوئے وقت، اور گھر سے نکلتے وقت کی دعائیں یاد کر کے معمول بنائیں۔

2۔ اپنے اخلاق اور بات چیت کو نبوی سانچے میں ڈھالیں: غصے پر قابو پائیں اور دوسروں کے ساتھ مسکرا کر بات کریں۔

3۔ معاملات اور لین دین میں سچائی کو ترجیح دیں: کاروبار، نوکری اور روزمرہ کے وعدوں میں سچائی اور امانت داری اپنائیں۔

4۔ صحت مند نبوی طرزِ زندگی اختیار کریں: وقت پر سونا، صبح سویرے اٹھنا اور کم کھانے کی عادت ڈالیں۔

5۔ اپنے گھر میں سنت کا ماحول قائم کریں: گھر والوں کو ڈانٹنے کے بجائے پیار اور نبوی اسوہ سے دین کی طرف لائیں۔

اتّباعِ سنت کے ثمرات و برکات

• دنیاوی زندگی میں سکون اور توازن: سنت کے مطابق گزرنے والی زندگی الجھنوں اور ذہنی تناؤ سے محفوظ رہتی ہے۔

• اعمال میں برکت اور قبولیت: تھوڑا عمل بھی اگر سنت کے مطابق ہو تو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوتا ہے۔

• آخرت میں شفاعتِ نبوی ﷺ: دنیا میں سنت کو زندہ کرنے والا قیامت کے دن حضور ﷺ کے پرچم تلے ہوگا اور آپ ﷺ کا قرب پائے گا۔

حاصلِ کلام

ربیع الاول کی یہ مبارک گھڑیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اسلام محض دعوؤں کا نام نہیں بلکہ عملی زندگی کا نام ہے۔ حضور ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ ہمارے لیے حکمت کا خزانہ ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، بازاروں اور اداروں میں سنتِ نبوی کو نافذ کر لیں تو ہمارے تمام اجتماعی و انفرادی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ آئیے! اس مبارک موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنت کے نور کو داخل کریں گے اور عملی دین کا نمونہ بنیں گے۔

اللهم ارزقنا اتباع سنتك في الأقوال والأفعال والأحوال اللهم احينا على سنتك وأمتنا على ملتك

اے اللہ! ہمیں تمام اقوال، افعال اور احوال میں اپنے نبی کی سنت کی اتباع نصیب فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنے نبی کی سنت پر زندہ رکھ اور انہی کے طریقے پر موت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نبی اکرم ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور اسے آگے پھیلانا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ اسے اپنے احباب کے ساتھ شیئر کر کے صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.