شکایت یا شکر؟ ہمارا رویہ کیا ہے: باطنی امراض، صفائیِ قلب اور روحانی بالیدگی | قسط 197 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Explore the spiritual journey from complaint to gratitude, inner healing, purification of the heart, and prophetic wisdom on thankfulness by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/16/20261 min read

شکایت یا شکر؟ ہمارا رویہ کیا ہے: باطنی امراض، صفائیِ قلب اور روحانی بالیدگی

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 197)

1۔ تمہید (Introduction)

انسان کا باطن اور اس کی روح کی سلامتی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ زندگی کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ روزمرہ زندگی کے احوال، معاشی تنگی، صحت کی خرابی یا توقعات کا پورا نہ ہونا انسان کے سامنے دو واضح راستے پیش کرتا ہے: ایک راستہ "شکایت" (Complaint) کا ہے اور دوسرا راستہ "شکر" (Gratitude) کا ہے۔ شکایت اور شکر محض دو الفاظ نہیں ہیں، بلکہ یہ انسان کے باطنی اور روحانی وجود کے عکاس ہیں۔ منفی رویہ انسان کے اندر شکوہ، بے زاری اور بغاوت پیدا کرتا ہے، جبکہ مثبت اور ایمانی رویہ ہر حال میں اللہ کا احسان ماننے اور شکر گزاری کی طرف لے جاتا ہے۔

روحانیت کی دنیا میں "شکر" روح کی غذا ہے اور "شکایت" روح کا زہر ہے۔ شکایت انسان کی روح کو تاریک کر دیتی ہے، اس کے اندر حسد، تنگیِ چشم اور ناامیدی کا بیج بوتی ہے، جس سے باطن کی سکینت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، شکر انسان کی روح کو روشنی اور بالیدگی عطا کرتا ہے۔ یہ دل کو اطمینان اور اللہ کی قربت بخشتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج بطورِ فرد اور معاشرہ ہمارا اپنا رویہ کیا ہے؟ کیا ہم ہر وقت نعمتوں کے باوجود نالاں رہتے ہیں، یا تھوڑی سی بھی خیر پر اللہ کے حضور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں؟ اپنے باطن کا محاسبہ کرنے، شکایت کے مرض سے نجات پانے اور شکر کے روحانی مقام کو حاصل کرنے کے لیے قرآنی و نبوی تعلیمات ہماری کیا رہنمائی کرتی ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی روحانی و علمی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

کلامِ الٰہی میں رب العزت نے شکر کی اہمیت اور انسان کی عمومی ناشکری کی نفسیات کو یوں بیان فرمایا ہے:

وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ(سورۃ المؤمنون: 78)

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، مگر تم بہت ہی کم شکر ادا کرتے ہو۔

وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ(سورۃ النمل: 40)

اور جو شکر ادا کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر ادا کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو بیشک میرا رب بے نیاز، کرم فرمانے والا ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور مبارک ارشادات سے ہمیں سچی روحانی شکر گزاری کا سبق ملتا ہے:

عبادت میں شکر کا نبوی اسوہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا"(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4837)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو اتنی لمبی عبادت فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے: حضرت عائشہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرمائے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں (اپنے رب کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

شکایت کے مرض سے بچنے کا مسنون طریقہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "انْظُرُوا إِلَى مَنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ"(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2963)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا کے معاملے میں اپنے سے نچلے درجے کے لوگوں کو دیکھو اور ان کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہیں، یہ طریقہ اس بات کے لیے زیادہ مناسب ہے کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔

4۔ شاکرانہ اور شکوہ کناں باطن کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

روحانی سطح پر شکایت کرنے والے اور شکر گزار انسان کی حالت میں یہ واضح فرق ہوتا ہے:

1۔ باطنی نظر:

شکوہ کناں انسان: ہمیشہ محرومیوں، کمیوں اور جو نہیں ملا اس پر نظر۔

شاکرانہ و روحانی انسان: موجود نعمتوں، عافیت اور رب کے فضل پر نظر۔

2۔ روحی حالت:

شکوہ کناں انسان: باطنی بے چینی، تنگیِ صدر، حسد اور تلخی۔

شاکرانہ و روحانی انسان: اطمینانِ قلب، شرحِ صدر، اور روحی سرور۔

3۔ خدا سے تعلق:

شکوہ کناں انسان: شکوہ، ناراضگی اور تقدیر پر اعتراض۔

شاکرانہ و روحانی انسان: تسلیم و رضا، محبت اور شکرِ دوام۔

4۔ معاشرتی اثر:

شکوہ کناں انسان: منفی توانائی، بددلی اور ناامیدی پھیلانا۔

شاکرانہ و روحانی انسان: مثبت فکر، امید اور دوسروں کے لیے سکون کا باعث۔

5۔ شکایت کے مرض سے نکل کر شکر گزاری اپنانے کے 5 روحانی طریقے (Strategies)

اپنے باطن کو شکایت کی تاریکی سے نکال کر شکر کی روشنی سے بھرنے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:

الف) روزانہ کی بنیاد پر باطنی محاسبہ: سونے سے قبل اپنے دن کا جائزہ لیں کہ آج آپ کی زبان سے کتنے جملے شکوے کے نکلے اور کتنی بار آپ نے دل سے "الحمد للہ" کہا۔

ب) نعمتوں کا شمار: ہر روز اللہ کی دی ہوئی نعمتوں (صحت، آنکھیں، عافیت، سقفِ خانہ) پر غور کریں اور سوچیں کہ ان کے بغیر زندگی کیسی ہوتی۔

ج) اپنے سے کم تر لوگوں پر نظر: جب بھی معاشی یا مادی محرومی کا احساس ہو، تو فوراً معذور، بیمار اور انتہائی غریب لوگوں کو دیکھیں تاکہ دل میں رب کا احسان جاگے۔

د) زباں کو "الحمد للہ" کا عادی بنانا: ہر حال میں—خواہ حالات اچھے ہوں یا برے—زبان سے الحمد للہ کہنے کی مشق کریں۔ مسنون دعاؤں پر مداومت رکھیں۔

ہ) دوسروں کا شکریہ ادا کرنا: نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق جو انسان لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کر سکتا۔ اپنے محسنین کا شکریہ ادا کریں۔

6۔ سچے شکر اور روحانی رویے کا معیار کیا ہے؟

روزمرہ زندگی میں ہمارے رویے کا سچا معیار یہ ہے کہ:

• انسان کو اگر سو نعمتوں کے بعد ایک تکلیف پہنچے، تو وہ سو نعمتوں کو بھول کر اس ایک تکلیف کا رونا نہ روئے۔

• زبان اور دل دونوں میں ہم آہنگی ہو؛ یعنی محض رسمی طور پر "الحمد للہ" نہ کہے بلکہ دل بھی رب کے احسان سے لبریز ہو۔

• نعمت ملنے پر اسے اللہ کی امانت سمجھے اور اسے رب کی اطاعت میں استعمال کرے، نہ کہ معصیت اور تکبر میں۔

7۔ شکر گزار رویے کے انمول روحانی ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان شکایت کو چھوڑ کر شکر کو اپنا طرزِ زندگی بنا لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم روحانی ثمرات عطا فرماتا ہے:

• نعمتوں میں ہمیشگی اور اضافہ: قرآن کا صریح وعدہ ہے کہ شکر کرنے سے نعمتیں اور بڑھا دی جاتی ہیں (لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ

• قلبی اطمینان اور تنگی سے نجات: شاکر انسان کا دل دنیاوی حسرتوں اور اینگزائٹی سے پاک ہو کر دائمی اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔

• مقامِ عبودیت و محبوبیت: شکر گزار بندہ اللہ کے خاص اور مقرب بندوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ قرآن کے مطابق شاکر بندے بہت کم ہوتے ہیں۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ "شکایت یا شکر" کا انتخاب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ شکایت کا راستہ انسان کو باطنی جہنم اور روحی تاریکی کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ شکر کا راستہ باطنی جنت اور الٰہی انوار کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی انسان ایسا نہیں جس کے پاس رب کی نعمتیں نہ ہوں، فرق صرف نظر کے زاویے کا ہے۔ آئیے! ہم اجزائے زندگی کا محاسبہ کریں، شکایت کے زہر کو اپنے دل اور زبان سے نکال پھینکیں اور شکر کا نور اپنے اندر اتاریں۔ جب ہمارا رویہ شاکرانہ ہو جائے گا تو ہماری روح کو وہ باطنی قرار حاصل ہوگا جو دنیا کے کسی خزانے سے نہیں مل سکتا۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي شَكُورًا، وَاجْعَلْنِي صَبُورًا، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا، اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ الشَّكْوَى وَالنِّفَاقِ

اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے بہت شکر کرنے والا اور صبر کرنے والا بنا، مجھے اپنی نظر میں چھوٹا اور لوگوں کی نظروں میں معزز بنا۔ اے اللہ! میرے دل کو شکایت اور منافقت سے پاک فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

شکایت چھوڑ کر شکر گزار بننے کا یہ روحانی پیغام کسی باطنی طور پر پریشان اور ناامید انسان کے لیے قلبی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.