شب قدر کی تلاش

Laylat al-Qadr (the Night of Decree) is the most blessed night of Ramadan, described in the Qur’an as better than a thousand months. In this article, Dr. Wajid Irshad explains the virtues, signs, and significance of Laylat al-Qadr in the light of the Qur’an and authentic Hadith. The blog also provides practical guidance on how Muslims can seek this blessed night during the last ten nights of Ramadan through prayer, supplication, remembrance of Allah, and sincere devotion.

RAMADAN

Dr. Wajid Irshad

3/11/20261 min read

تمہید

رمضان المبارک کا آخری عشرہ انتہائی بابرکت ہے کیونکہ اسی میں وہ عظیم رات آتی ہے جسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر قرار دی گئی ہے۔ اس رات میں عبادت، دعا اور استغفار کا اجر غیر معمولی طور پر بڑھا دیا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ اس رات کی تلاش میں آخری عشرے میں خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس رات کی قدر کرے اور اس موقع کو اپنی مغفرت اور روحانی ترقی کا ذریعہ بنائے۔

قرآن کی روشنی میں

إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ

(القدر 1)

بے شک ہم نے اس قرآن کو شبِ قدر میں نازل کیا۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ

(القدر 2)

اور آپ کیا جانیں کہ شب قدر کیا ہے۔

لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ

(القدر 3)

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ

(القدر 4)

اس میں فرشتے اور روح (جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے نازل ہوتے ہیں۔

سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ

(القدر 5)

یہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک۔

حدیث کی روشنی میں

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺ مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

(صحیح البخاری 1901، صحیح مسلم 760)

جس شخص نے شب قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت قلت يا رسول الله أرأيت إن علمت أي ليلة ليلة القدر ما أقول فيها قال اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي

(سنن الترمذی 3513)

اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما۔

فقہی آراء اور تجزیہ

اہلِ علم کے نزدیک شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کی جاتی ہے۔ اگرچہ بعض روایات میں ستائیسویں رات کا ذکر ملتا ہے، لیکن نبی کریم ﷺ نے عمومی طور پر آخری عشرے کی طاق راتوں میں اس کی تلاش کی تاکید فرمائی ہے۔ اس لیے حکمت یہی ہے کہ مومن پورے آخری عشرے میں عبادت کا اہتمام کرے تاکہ اس عظیم رات کی برکت سے محروم نہ رہے۔

عملی پہلو

شب قدر کے حصول کے لیے چند عملی اقدامات بہت اہم ہیں۔ سب سے پہلے آخری عشرے میں عبادت کا معمول بڑھایا جائے۔ رات کو قیام، قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار اور دعا کا خاص اہتمام کیا جائے۔ دنیاوی مصروفیات کم کر کے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح صدقہ و خیرات اور استغفار کا اہتمام بھی کیا جائے، کیونکہ یہ رات مغفرت اور رحمت کی رات ہے۔

دعا

اللّٰهُمَّ بَلِّغْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَوَفِّقْنَا فِيهَا لِلذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالْقِيَامِ، وَاجْعَلْنَا فِيهَا مِنَ الْمَغْفُورِ لَهُمْ وَالْمَقْبُولِينَ۔

اے اللہ! ہمیں شب قدر تک پہنچا، اس میں ذکر، دعا اور قیام کی توفیق عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کی مغفرت ہو گئی اور جن کے اعمال قبول ہو گئے۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے اس تحریر کو شیئر کر کے خیر کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں

شب قدر کی تلاش: علامات، فضیلت اور عملی لائحہ عمل

قسط نمبر: 69
ڈاکٹر واجد ارشاد