سیرت کو پڑھنا یا اپنانا؟ - معلومات اور اتباعِ نبوی ﷺ کے درمیان فرق | قسط 228 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Deep analytical Islamic article on the difference between merely reading Seerah and practicing the Sunnah of Prophet Muhammad (PBUH) in daily life by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/16/20261 min read

سیرت کو پڑھنا یا اپنانا؟ - معلومات اور اتباعِ نبوی ﷺ کے درمیان فرق اور عملی زندگی کی تبدیلی

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 228)

1۔ تمہید (Introduction)

سیرتِ طیبہ ﷺ ہدایت کا وہ درخشندہ اور زندہ جاوید سرچشمہ ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ دنیا میں ہزاروں عظیم شخصیات گزریں، لیکن صرف خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہی وہ واحد ہستی ہے جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ، بات، عمل، اور خاموشی تک تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے سیرتِ طیبہ سے ہمارا تعلق گہرا اور ایمانی ہے۔ ہم محافلِ میلاد و سیرت منعقد کرتے ہیں، سیرت کی کتابیں پڑھتے ہیں اور آپ ﷺ کے معجزات و مناقب سن کر جھوم اٹھتے ہیں۔

لیکن آج کے اس دورِ فتن میں ہمیں ایک بہت ہی اہم، بنیادی اور فکری سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے: "کیا سیرتِ طیبہ کا حق صرف اسے پڑھنے، سننے، حفظ کرنے یا اس پر تقریریں کرنے سے ادا ہو جاتا ہے، یا اس کا اصل مقصد اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے؟" عصرِ حاضر میں ہمارے دینی رویوں کا ایک شدید المیہ یہ ہے کہ ہم نے سیرت کو محض ایک "تاریخی معلومات" یا "برکت کے لیے پڑھی جانے والی کتاب" بنا دیا ہے، جبکہ ہماری تجارتی، خاندانی، اور معاشرتی زندگی سیرتِ نبوی ﷺ کے عکس سے بالکل خالی نظر آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنی ہدایات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں سیرت کو پڑھنے اور اسے اپنانے میں کیا بنیادی فرق ہے؟ اور ہم آج کے دور میں سیرتِ طیبہ کو محض علم سے نکال کر اپنے عمل، اخلاق اور معاشرے کا حصہ کیسے بنا سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فکری اور تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی کو عمل کے لیے بہترین نمونہ (اسوۂ حسنہ) اور اطاعت کو محبتِ خداوندی کا معیار قرار دیا ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا   (سورۃ الاحزاب: 21)

فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ (ﷺ کی ذات) میں بہترین نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ   (سورۃ آل عمران: 31)

(اے حبیب!) آپ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے عمل سے خالی زبانی دعوؤں کو رد کرتے ہوئے اتباع کو دین کی روح قرار دیا ہے:

• "تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا..."

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ"   (اربعین نووی، رقم الحدیث: 41 / شرح السنہ)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس اس دین کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔"

• چلتا پھرتا قرآن (سیرت کا عملی شاہکار)

عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَتْ: "كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ"

(مسند احمد / صحیح مسلم)

حضرت زرارہ بن اوفیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: "آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا (یعنی قرآن کی تعلیمات آپ ﷺ کی عملی سیرت تھیں)۔"

4۔ سیرت کو پڑھنے اور اپنانے میں 4 بنیادی فرق

سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے وقت اگر ہم فکر و بصیرت سے کام لیں تو "پڑھنے" اور "اپنانے" کا فرق یوں واضح ہوتا ہے:

1۔ معلومات بمقابلہ انقلابِ ذات (Information vs Transformation):

سیرت کو محض پڑھنا انسان کی معلومات اور یادداشت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ سیرت کو اپنانا انسان کے باطن، اخلاق، اور سوچ میں کامل انقلاب برپا کر دیتا ہے۔

2۔ حلفِ وفاداری بمقابلہ زبانی دعویٰ:

محض تاریخ پڑھنا ایک عقلی مشغلہ ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر چلنا آپ ﷺ سے سچی محبت اور حلفِ وفاداری کا عملی ثبوت ہے۔

3۔ صحابہ کرامؓ کا اسوہ:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سیرت کے تاریخی دائرۃ المعارف (Encyclopedias) نہیں تھے، لیکن ان کے پاس نبی اکرم ﷺ کا ایک ایک عمل محفوظ تھا جسے انہوں نے اپنی تجارتی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کا حتمی قانون بنا لیا تھا۔

4۔ زوالِ امت کا علاج:

امت کا زوال سیرت کی کتابیں کم ہونے سے نہیں ہوا، بلکہ سیرت کے اصولوں (عدل، امانت، سچائی، شجاعت) کو اپنی عملی زندگی سے نکال دینے کی وجہ سے ہوا ہے۔

5۔ ہمارے موجودہ رویوں کا المیہ اور تضاد (The Core Difference)

سیرتِ طیبہ کے روشن آئینے میں اگر ہم اپنے موجودہ معاشرتی حالات کا جائزہ لیں تو یہ تشویشناک تضاد نظر آتا ہے:

1۔ تجارت اور معیشت:

ہمارا رویہ: سیرتِ نبوی ﷺ کے جلسے منعقد کرنا مگر بازار میں جھوٹ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی اور دھوکہ دہی سے کام لینا۔

نبوی اسوہ: "مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا" (جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں)—تجارتی امانت اور سچائی کا عالمگیر معیار۔

2۔ اخلاق اور معاشرت:

ہمارا رویہ: آپ ﷺ کے معجزات پر تحسین کے نعرے لگانا، مگر اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تلخی رکھنا۔

نبوی اسوہ: دشمن کو بھی معاف کرنا، رشتہ داروں سے جوڑنا اور خلقِ خدا کے لیے رحمت بننا۔

3۔ اختلاف اور برداشت:

ہمارا رویہ: ذرا سے فکری یا مسلکی اختلاف پر ایک دوسرے پر فتوے لگانا اور بدزبانی کرنا۔

نبوی اسوہ: حلم، بردباری، نرم گفتاری اور مخالفین کے ساتھ بھی احترام کا رویہ۔

6۔ سیرت کو اپنی زندگی میں "اپنانے" کے 5 عملی قدم (Practical Steps)

سیرتِ طیبہ کو محض پڑھنے سے آگے بڑھا کر اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے ان ۵ اقدامات کو اپنائیں:

الف) روزمرہ سنتوں کی نیت اور عمل: کھانا کھانے، سونے، گھر میں داخل ہونے اور بولنے کے نبوی طریقوں کو اپنی روزمرہ عادت بنائیں۔

ب) معاملات میں سچائی اور امانت: اپنی نوکری، تجارت اور لین دین میں آپ ﷺ کی صفتِ "الصادق و الامین" کا عملی مظاہرہ کریں۔

ج) غصے اور انتقام پر قابو: جب بھی غصہ آئے یا کوئی دل دکھائے، فتحِ مکہ اور طائف کے عفو و درگزر کا نبوی اسوہ یاد کر کے معاف کر دیں۔

د) خاندانی رویوں کی اصلاح: گھر میں حاکمیت دکھانے کے بجائے آپ ﷺ کی طرح اپنی زوجہ اور بچوں کے ساتھ محبت، نرمی اور کاموں میں شرکت کا اسوہ اپنائیں۔

ہ) ایک ایک سنت کی پابندی: ہر مہینے سیرت کی کسی ایک خاص سنت (مثلاً: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، سلام میں پہل کرنا، یا عیادت کرنا) کو زندگی میں مستقل طور پر نافذ کریں۔

7۔ سیرت کو اپنانے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو فرد اور معاشرہ سیرتِ طیبہ کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی عمل کا حصہ بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:

• اللہ تعالیٰ کی محبوبیت: قرآن کا وعدہ ہے کہ اتباعِ رسول ﷺ سے انسان اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

• معاشرتی امن اور عزت: جو قوم صادق اور امین بن جائے، دنیا اس کی عزت کرتی ہے اور معاشرہ امن کا گہوارہ بنتا ہے۔

• آخرت میں شفاعت اور حوضِ کوثر: بروزِ قیامت آپ ﷺ کی شفاعت اور مبارک ہاتھوں سے حوضِ کوثر کا جام اسی کو نصیب ہوگا جو آپ ﷺ کے سنت کے راستے پر چلا۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ سیرتِ طیبہ ﷺ کو پڑھنا اور سننا اولین اور ضروری قدم ہے، لیکن اس کا اصل مقصد اور روح اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا اور اپنانا ہے۔ پڑھنے سے ذہن کو علم ملتا ہے، مگر اپنانے سے روح اور کردار سنورتا ہے۔ آج اگر اسلامی دنیا مختلف بحرانوں، اخلاقی زوال اور ذلت کا شکار ہے، تو اس کا حل صرف سیرت کی کتابیں چھاپنے میں نہیں، بلکہ سیرت کے کردار کو اپنے اندر زندہ کرنے میں ہے۔ آئیے! ہم سب یہ عزم کریں کہ ہم سیرت کو صرف محفلوں اور کتابوں تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اپنے گھروں، بازاروں، عدالتوں اور دفاتر میں نبوی اخلاق، سچائی اور عدل کو نافذ کر کے سیرتِ طیبہ کا سچا عملی نمونہ بنیں گے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا اتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَاجْعَلْنَا مِنْ هُدَاةِ الْمُهْتَدِينَ، وَاهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَعْمَالِ۔

اے اللہ! ہمیں اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت و سنت کو ظاہراً اور باطناً اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں اتباعِ رسول ﷺ کی سچی محبت پیدا فرما، ہمیں سیرت کا صرف قارئین نہیں بلکہ سچا پیروکار بنا، اور ہمیں دنیا و آخرت میں اپنے حبیب ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

سیرتِ طیبہ کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنانے کا یہ فکری اور اصلاحی پیغام ہر مسلمان کے لیے بیداریِ شعور کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.