سچ پر قائم رہنے کی قیمت: ایمان کی سچی آزمائش اور باطنی فوز | قسط 180 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover the spiritual cost of standing by the truth, its profound link with Eman, and the rewards of truthfulness (Sidq) in Islam by Dr. Wajid Irshad."


سچ پر قائم رہنے کی قیمت: ایمان کی سچی آزمائش اور باطنی فوز
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 180)
1۔ تمہید (Introduction)
سچائی صرف ایک اخلاقی قدر کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایمان کا وہ مضبوط ستون ہے جس پر مؤمن کے پورے باطن کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ دورِ حاضر کا ایک بڑا فکری و معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم نے سچائی کو ایک "آسان اور اختیاری" چیز سمجھ لیا ہے، جسے انسان اپنے فائدے اور نقصان کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ معاشرے میں مصلحت پسندی، سستی شہرت اور دنیاوی مفادات کے لیے جھوٹ بولنا، گواہی چھپانا اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ایک عام چلن بن چکا ہے۔ ایسے ماحول میں سچائی کی راہ پر چلنا انگاروں پر چلنے کے مترادف ہو گیا ہے۔
قرآن و سنت کا انقلابی منہج ہمیں یہ فکری شعور عطا کرتا ہے کہ سچ پر قائم رہنے کی ایک قیمت ہوتی ہے، جو ہر سچے مؤمن کو چکانی پڑتی ہے۔ کبھی یہ قیمت دنیاوی نقصان، کبھی اپنوں کی ناراضگی اور کبھی تنہائی کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ لیکن ایمان کا حسن یہی ہے کہ بندہ دنیا کے عارضی فائدے کو ٹھکرا کر رب کی رضا اور سچائی کا دامن تھامے رکھے۔ جب تک ایک مسلمان سچ کی قیمت ادا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوگا، اس کا ایمان رسمی تو ہو سکتا ہے، حقیقی نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرآشوب دور میں سچ پر کیسے ڈٹا جائے؟ اور اس ایمانی سفر کے باطنی انعامات کیا ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی ہمیں سچوں کی صحبت اختیار کرنے اور سچائی پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے عظیم الشان اخروی انعامات کا مژدہ سناتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (سورۃ التوبہ: 119)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ (اور ان کی صف میں) رہو۔
قَالَ اللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (سورۃ المائدہ: 119)
اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ فائدہ دے گا، ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے، یہی سب سے بڑی کامیابی (فوزِ عظیم) ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں یہ رہنمائی فرماتے ہیں کہ سچائی نجات کا راستہ ہے اور اس پر قائم رہنا بندے کو نیکی کے اعلیٰ ترین مقامات تک پہنچا دیتا ہے:
• سچائی نیکی اور جنت کا راستہ ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا..." (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6094 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2607)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیشک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی کی تلاش میں رہتا ہے (سچ کا ارادہ رکھتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں "صدیق" (بہت بڑا سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔
• سچائی میں قلبی اطمینان اور سکون ہے
عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا حَفِظْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: "دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ" (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2518، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے)
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات یاد رکھی ہے: اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈالے اور اسے اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، کیونکہ سچائی سراپا طمأنینت (سکون) ہے اور جھوٹ سراپا شک و بے چینی ہے۔
4۔ سچ پر قائم رہنے کی دنیاوی قیمت (The Cost of Truth)
جب کوئی انسان معاشرتی بگاڑ کے درمیان سچ پر قائم رہنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو اسے ان چار امتحانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
1. مالی و دنیوی مفادات کا نقصان: کاروباری لین دین یا ملازمت میں جب انسان جھوٹ یا رشوت کا سہارا نہیں لیتا، تو بظاہر اسے کوئی بڑی ڈیل یا ترقی گنوانی پڑتی ہے۔
2. سماجی تنہائی اور اپنوں کی ناراضگی: حق بات کہنے کی وجہ سے اکثر دوست، رشتہ دار اور معاشرے کے مفاد پرست لوگ دور ہو جاتے ہیں اور انسان خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔
3. مصلحت پسندوں کی طرف سے طنز و ملامت: لوگ سچ پر اڑ جانے والے کو "ناسمجھ"، "سیدھا" یا "زمانہ ساز نہ ہونے" کا طعنہ دیتے ہیں، جو نفس کے لیے ایک بڑی آزمائش ہے۔
4. دباؤ اور خوف کا سامنا: کسی ظالم کے سامنے یا کسی بااثر گروہ کے خلاف سچی گواہی دینے میں جان، مال یا عزت پر آنے والے خطرات کو جھیلنا پڑتا ہے۔
5۔ سچائی پر ثابت قدم رہنے کے پانچ عملی طریقے (Practical Strategies)
اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور سچ کی قیمت خوشی سے ادا کرنے کے لیے ان پانچ ایمانی حصاروں کو اپنائیں:
الف) توحیدِ فی الافعال کا سچا یقین:
دل میں یہ پکا اعتقاد پیدا کریں کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے۔ کوئی جھوٹ آپ کو وہ رزق نہیں دلا سکتا جو رب نے نہیں لکھا، اور کوئی سچ آپ سے وہ نعمت نہیں چھین سکتا جو اللہ نے آپ کے مقدر میں کر دی ہے۔
ب) "صدیقیت" کے مقام کی تڑپ:
روزانہ یہ سوچیں کہ مجھے دنیا کی نظر میں سمارٹ بننے کے بجائے عرش والے کے ہاں "صدیق" کا لقب پانا ہے۔ جب معیار الٰہی رضا بن جائے، تو دنیا کی ملامت بے معنی ہو جاتی ہے۔
ج) عجلت پسندی سے گریز اور عاقبت اندیشی:
جب بھی جھوٹ بول کر فوری فائدہ حاصل کرنے کا موقع ملے، تو اپنے ذہن کو آخرت کی عدالت اور اس عارضی فائدے کے زوال کی طرف منتقل کریں۔ نقد کے فریب سے خود کو بچائیں۔
د) راست گو اور صالحین کی صحبت اختیار کرنا:
ایسے دوستوں اور ماحول کا انتخاب کریں جو خود سچے ہوں اور سچائی کی قدر کرتے ہوں۔ منافق اور مصلحت پسند لوگوں کی محفلیں انسان کے اندر سے سچ بولنے کی ہمت چھین لیتی ہیں۔
ہ) ہر چھوٹے معاملے میں سچ کی مشق:
بچوں سے بات کرتے ہوئے، مذاق کرتے ہوئے یا روزمرہ کے عام معاملات میں جھوٹ سے بالکل پرہیز کریں۔ جب انسان چھوٹی باتوں میں سچ بولتا ہے، تو بڑے امتحانات میں بھی سچ پر اڑ جانے کی طاقت ملتی ہے۔
6۔ سچ پر قائم رہنے کا حقیقی اور سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں سچائی کی قیمت ادا کرنے کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب عدالت یا پنچایت میں آپ کے قریبی رشتہ دار یا دوست کے خلاف گواہی سچی ہو، تو آپ ایمانی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے حق بات کہہ دیں، چاہے وہ ناراض ہی کیوں نہ ہو جائے۔
جب دفتر یا دکان پر اپنی کسی غلطی کو چھپانے کے لیے ایک چھوٹا سا جھوٹ بولنا کافی ہو، انسان اپنی عزت داؤ پر لگا کر سچ کا اعتراف کر لے اور اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کو قبول کرے۔
جب کسی محفل میں کسی غائب بھائی کی غیبت یا کردار کشی ہو رہی ہو، تو انسان خاموش رہنے کے بجائے سچائی کا علم بلند کرے اور اس کا دفاع کرے۔
7۔ سچائی کی قیمت ادا کرنے کے انمول باطنی ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو بندہ دنیاوی نقصان اٹھا کر بھی سچ پر قائم رہتا ہے، اسے یہ لازوال باطنی انعامات ملتے ہیں:
حقیقی قلبی سکون (طمأنینت): جھوٹ انسان کے اندر ایک مستقل خوف اور بے چینی پیدا کرتا ہے، جبکہ سچ کی قیمت چکانے کے بعد جو باطنی سکون اور نیند آتی ہے، وہ دنیا کے تمام خزانوں سے بہتر ہے۔
دعاؤں کی قبولیت اور غیبت نصرت: سچے انسان کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ وہ اثر اور برکت پیدا فرما دیتا ہے کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات پوری ہوتی ہے اور آزمائش میں غیب سے اس کی مدد کی جاتی ہے۔
قیامت کے دن انبیاء کی رفاقت: جیسا کہ قرآن پاک میں ذکر ہے کہ سچائی کا راستہ بندے کو "صدیقین" کے رتبے پر فائز کرتا ہے، جن کا حشر انبیاء اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سچائی کوئی سستا سودا نہیں ہے، یہ ایمان کا وہ سودا ہے جس کی قیمت دنیاوی آسائشوں، عارضی مفادات اور کبھی کبھار اپنوں کی جدائی کی شکل میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ کے سہارے کھڑی کی گئی عمارتیں بہت جلد زمین بوس ہو جاتی ہیں، جبکہ سچائی کی بنیاد پر اٹھنے والا کردار ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے ایمان کا دعویٰ سچا رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سچ کی قیمت چکانے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ آئیے آج ہی اپنے دل سے دنیا کا خوف نکالیں، سچائی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں اور رب کے حضور سرخرو ہونے کے لیے ہر حال میں راست گوئی کا دامن تھامے رکھیں۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ
اے اللہ! ہمیں حق کو حق کر کے دکھا اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں باطل کو باطل کر کے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
سچائی پر قائم رہنے اور ایمانی بیداری کا یہ پیغام کسی متزلزل دل کو ثبات دے سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
