سچ بولنے کی ہمت - استقامت، حق گوئی اور نبوی صلابت | قسط 248 - ڈاکٹر واجد ارشاد

An inspiring article on the courage to speak the truth (Sach Bolne Ki Himmat), honesty, and steadfastness in Islam by Dr. Wajid Irshad.

Dr. Wajid Irshad

9/5/20261 min read

سچ بولنے کی ہمت - استقامت، حق گوئی اور نبوی صلابت

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 248)

1۔ تمہید

حق اور سچ کی راہ پر چلنا محض زبان سے سچ بولنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لیے غیر معمولی ذہنی و روحی طاقت اور "سچ بولنے کی ہمت" درکار ہوتی ہے۔ آج کے مادیت پرست اور مفاد پرستانہ دور میں جھوٹ، ملمع کاری اور مصلحت کو "دانشمندی" کا نام دے دیا گیا ہے، جبکہ سچ اور حق بات کہنے کو خسارے کا سودا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ معمولی فوائد، دفتری ترقی، خاندانی دباؤ یا خوف کی وجہ سے سچائی کو چھپا لیتے ہیں اور باطل کا ساتھ دیتے ہیں۔ اسلام نے سچائی کو محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد اور روح قرار دیا ہے۔ سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو اور صحابہ کرام کی زندگی کا ہر موڑ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایک مومن کا سب سے بڑا ہتھیار اس کی سچائی اور حق گوئی ہے۔ ظالم، جابر یا طاقتور کے سامنے بھی سچ بولنا ہی وہ ایمانی جذبہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی حقیقی آزادی سے ہمکنار کرتا ہے۔

2۔ الٰہی فرامین کی روشنی

قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کے ساتھ ہمیشہ سیدھی اور سچی بات کہنے کا حکم دیا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (سورۃ الاحزاب: 70)

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی (سچی اور حق) بات کہو۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (سورۃ النساء: 135)

اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے سچی گواہی دینے والے بنو، خواہ وہ گواہی تمہاری اپنی ذات، تمہارے والدین یا رشتہ داروں ہی کے خلاف کیوں نہ ہو۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ 

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث میں سچائی کو تمام نیکیوں کی جڑ اور حق گوئی کو سب سے افضل جہاد قرار دیا گیا ہے:

سچائی نجات کا راستہ ہے:

عن عبد الله بن مسعود رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: عليكم بالصدق، فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة (صحیح البخاری: 6094، صحیح مسلم: 2607)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سچائی کو لازماً اختیار کرو، کیونکہ سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی کا راستہ جنّت کی طرف لے جاتا ہے۔"

سب سے افضل جہاد:

عن أبي سعيد الخدري رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أفضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر (سنن أبي داود: 4344)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سب سے افضل جہاد ظالم حکمران (یا جابر شخص) کے سامنے انصاف اور سچ کی بات کہنا ہے۔"

4۔ زندگی میں سچ بولنے کا حوصلہ پیدا کرنے کے بنیادی اصول

  • مفاد پرستی کے بجائے آخرت پر نظر:

    انسان سچ بولنے سے اس وقت ڈرتا ہے جب اسے دنیاوی نقصان یا کسی نعمت کے چھن جانے کا خوف ہوتا ہے۔ جب دل میں یہ یقین پختہ ہو جائے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، تو سچ بولنے کی ہمت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔

  • خاندانی اور معاشی دباؤ سے آزادی:

    سچا مومن اپنی ذات، بچوں یا رشتہ داروں کی خاطر بھی جھوٹ کی بنیاد نہیں رکھتا۔ اپنے قریبی افراد کی غلطی پر بھی حق بات کہنا اخلاقی شجاعت کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔

  • مصلحت اور جھوٹ میں فرق:

    حکمتِ عملی اور نرمی اختیار کرنا دین کا حصہ ہے، لیکن اپنے مفاد کے لیے سچ کو مسخ کرنا یا باطل کا ساتھ دینا گناہ ہے۔ حکمتِ عملی سچ کے بیان کا انداز بدلتی ہے، سچ کی روح کو نہیں۔

  • نفسانی خوف اور جھجک کا خاتمہ:

    لوگ کیا کہیں گے؟ یا "دفتر سے نکال دیا جاؤں گا" کے خوف کو توڑنا ہی ایمانی آزمائش ہے۔ سچائی کا راستہ ابتدا میں کٹھن ضرور ہوتا ہے لیکن اس کا انجام ہمیشہ عزت اور سکونِ قلب ہے۔

5۔ اختتامیہ

سچ بولنے کی ہمت پیدا کرنا دراصل ایک باضمیر اور زندہ انسان کی پہچان ہے۔ جو شخص سچائی پر ڈٹ جاتا ہے، وہ وقتی طور پر تکالیف اٹھا سکتا ہے لیکن آخر کار فتح اور کامیابی اسی کا مقدر بنتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کو نبوت سے پہلے بھی مکہ والے "الصادق والامین" (سچا اور امانت دار) کہہ کر پکارتے تھے، کیونکہ آپ ﷺ نے ہر حال میں سچائی کا دامن تھامے رکھا۔ اگر ہم اپنے معاشرے سے ظلم، فساد اور بیانیوں کے فریب کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں، دفاتر اور علمی میدانوں میں سچائی کا پرچم بلند کرنا ہوگا۔ آئیے! یہ پکا عزم کریں کہ حالات چاہے کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، ہم سچائی کا ساتھ دیں گے اور حق بات کہنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دعا:

اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلًا وارزقنا اجتنابه

اے اللہ! ہمیں حق کو حق کر کے دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کر کے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

حق گوئی اور سچائی کا یہ فکری پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.