Riyakari ki Posheeda Shaklain ریاکاری کی پوشیدہ شکلیں
This thought-provoking article, "Riyakari ki Posheeda Shaklain ریاکاری کی پوشیدہ شکلیں", explores the hidden forms of showing off that can silently affect sincerity in عبادات and daily actions. In the light of the Qur’an and authentic Hadith, it uncovers subtle signs of riya (ostentation) and provides practical guidance to purify intentions and protect deeds from spiritual نقصان. A must-read for anyone striving for sincerity and true connection with Allah.
Dr. Wajid Irshad
3/29/20261 min read


ریاکاری کی پوشیدہ شکلیں
قسط نمبر: — 88
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
ریاکاری ایک نہایت خطرناک روحانی بیماری ہے جو انسان کے اعمال کو بظاہر نیکی کا رنگ دیتی ہے مگر حقیقت میں انہیں کھوکھلا کر دیتی ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک وہ ریا ہے جو ظاہر نہ ہو بلکہ دل کی گہرائیوں میں چھپی ہو۔ انسان خود بھی اسے محسوس نہیں کرتا مگر وہ اس کے اخلاص کو متاثر کر رہی ہوتی ہے۔ اس لیے ریاکاری کی پوشیدہ شکلوں کو پہچاننا اور ان سے بچنا نہایت ضروری ہے۔
قرآن کی روشنی میں
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ
(الماعون: 4-6)
پس تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں، جو دکھاوا کرتے ہیں۔
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ عبادت میں ریا انسان کو ہلاکت کے قریب لے جاتی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ
(البقرہ: 264)
اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور اذیت دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔
یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ ریا نیکی کو ضائع کر دیتی ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
فرمان نبوی ﷺ:
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُ قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الأَصْغَرُ؟ قَالَ: الرِّيَاءُ
مسند احمد رقم الحدیث: 23630
مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے، صحابہؓ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری۔
یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ ریا ایک چھپا ہوا شرک ہے جو ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ
صحیح البخاری رقم الحدیث: 6499
جو شخص دکھاوا کرتا ہے اللہ اسے (قیامت کے دن) ظاہر کر دے گا۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ریاکار کا انجام رسوائی ہے۔
ریاکاری کی پوشیدہ شکلیں
نیکی پر دل میں خوشی کا بڑھ جانا
جب انسان لوگوں کی تعریف سن کر عبادت میں زیادہ رغبت محسوس کرے تو یہ اخلاص کے لیے خطرہ ہے۔
تنہائی میں عبادت کا کم ہو جانا
اگر اکیلے میں عمل کم اور لوگوں کے سامنے زیادہ ہو تو یہ ریا کی علامت ہو سکتی ہے۔
نیکی کا ذکر کرنا
اپنے اعمال کو بار بار بیان کرنا دل میں ریا پیدا کر سکتا ہے۔
تنقید سے دل کا ٹوٹ جانا
اگر کوئی تعریف کرے تو خوشی اور تنقید کرے تو دل برداشتہ ہونا اخلاص کی کمزوری کی نشانی ہے۔
ریاکاری کے نقصانات
اعمال کا ضائع ہو جانا اللہ کی ناراضی* دل کی بے سکونی* آخرت میں رسوائی
اخلاص پیدا کرنے کے طریقے
نیت کی اصلاح
ہر عمل سے پہلے نیت کو خالص اللہ کے لیے کرنا ضروری ہے۔
پوشیدہ نیکیاں
ایسے اعمال اختیار کریں جو صرف اللہ کو معلوم ہوں۔
اللہ کی عظمت کا تصور
یہ احساس پیدا کریں کہ اصل دیکھنے والا اللہ ہے، نہ کہ لوگ۔
نفس کا محاسبہ
اپنے دل کا جائزہ لیتے رہیں کہ کہیں نیت میں کھوٹ تو نہیں آ رہا۔
اقوالِ سلف صالحین
حسن بصری فرماتے ہیں: مومن اپنے عمل اور نیت دونوں سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس میں ریا نہ آ جائے۔
(حلیۃ الاولیاء، 2/134)
فضیل بن عیاض فرماتے ہیں: لوگوں کی خاطر عمل چھوڑ دینا ریا ہے اور لوگوں کی خاطر عمل کرنا بھی ریا ہے، اخلاص یہ ہے کہ اللہ تمہیں ان دونوں سے بچا لے۔
(حلیۃ الاولیاء، 8/95)
اختتامیہ
ریاکاری ایک خاموش قاتل ہے جو انسان کے اعمال کو اندر ہی اندر کھا جاتا ہے۔ اس سے بچنے کا واحد راستہ اخلاص ہے۔ اگر ہم اپنی نیت کو خالص کر لیں اور ہر عمل اللہ کے لیے کریں تو ہماری عبادات قبولیت کے درجے تک پہنچ سکتی ہیں۔
دعا
اللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الرِّيَاءِ وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ۔
اے اللہ! ہمیں ریاکاری سے بچا اور ہمارے اعمال کو خالص اپنے لیے بنا دے۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں۔
