رحمت للعالمین ﷺ: عملی پہلو - نبوی شفقت، عفو و درگزر اور انسانیت کے لیے عالمگیر رحمت کا نفاذ | قسط 222 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Comprehensive Islamic guide on the practical aspect of Prophet Muhammad (PBUH) as Mercy for the Worlds. Practical lessons on mercy, forgiveness, and noble character by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/10/20261 min read

رحمت للعالمین ﷺ: عملی پہلو - نبوی شفقت، عفو و درگزر اور انسانیت کے لیے عالمگیر رحمت کا نفاذ

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: اخلاق (قسط نمبر: 222)

1۔ تمہید (Introduction)

اسلام کا جوہر، اس کی روح اور تمام تر تعلیمات کا نچوڑ نبیِ اکرم ﷺ کا اخلاقِ عالیہ ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے آخری رسول ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی عالمِ انسانیت کے لیے رحمت اور مکارمِ اخلاق کی تکمیل قرار دیا۔ آپ ﷺ کی مبارک ذات صرف مسلمانوں، عربوں یا کسی مخصوص گروہ کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہانوں، انسانوں، جانوروں، حتیٰ کہ جمادات و نباتات کے لیے بھی سرتاپا رحمت بن کر تشریف لائی۔

عصرِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے "رحمت للعالمین" کے اس نبوی عنوان کو محض عقیدت، محافل، اور زبانی نعروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نعتوں اور تقریروں میں تو آپ ﷺ کی رحمت کا تذکرہ فخر سے کرتے ہیں، لیکن جب ہماری اپنی عملی زندگی—ہمارے اخلاقی رویوں، معاف کرنے کے عمل، ماتحتوں اور مخالفین کے ساتھ سلوک، اور رشتہ داروں سے تعلقات—کا جائزہ لیا جائے، تو وہاں سختی، انتقام، کینہ اور بے حسی نظر آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں آپ ﷺ کی "عالمگیر رحمت" کے عملی مظاہر کیا تھے؟ دشمنوں، کمزوروں، بچوں اور خواتین کے ساتھ آپ ﷺ نے عملی طور پر کیسی رحمت کا مظاہرہ فرمایا؟ اور ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اس نبوی رحمت کو ایک زندہ اخلاقی حقیقت کیسے بنا سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، فکری اور تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کو کائنات کے لیے مجسم رحمت اور آپ ﷺ کے نرم اخلاق کو الٰہی نعمت قرار دیا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ   (سورۃ الأنبیاء: 107)

اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ   (سورۃ آل عمران: 159)

پس (اے حبیب!) اللہ کی رحمت کے باعث ہی آپ ان کے لیے نرم خو ہوئے، اور اگر آپ سخت طبع اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد سے چھٹ جاتے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے اخلاق اور رحم دلی کو ایمان کا معیار اور اللہ کی رحمت حاصل کرنے کی شرط قرار دیا ہے:

• مخلوق پر رحم کرنے کا نبوی فرمان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ"(جامع الترمذی، رقم الحدیث: 1924 / سنن ابی داؤد)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔"

• مکارمِ اخلاق کی تکمیل کا مقصد

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ"

(مسند احمد، رقم الحدیث: 8952 / السنن الكبرى للبیہقی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں تو صرف اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ نیک اور اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کروں۔"

4۔ "رحمت للعالمین ﷺ" کے 4 درخشندہ عملی پہلو (Practical Aspects)

سیرتِ طیبہ میں آپ ﷺ کی رحمت محض جذبہ نہیں بلکہ ایک مضبوط اور جلی عملی حقیقت تھی:

1۔ دشمنوں اور مخالفین کے لیے عفو و درگزر:

فتحِ مکہ کے موقع پر، جب خون کے پیاسے اور جانی دشمن سامنے تھے، آپ ﷺ نے "لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ" (آج تم پر کوئی گرفت نہیں) فرما کر تاریخِ عالم میں عمومی معافی کی سب سے بڑی مثال قائم کی۔ طائف کے میدان میں پتھر کھانے کے باوجود عذاب کی دعاؤں کے بجائے ان کی نسلوں کی ہدایت کی دعا فرمائی۔

2۔ کمزوروں، خادموں اور ماتحتوں پر شفقت:

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، لیکن آپ ﷺ نے کبھی مجھے "اف" تک نہ کہا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا یا کیوں نہیں کیا۔

3۔ اہل خانہ اور عورتوں کے ساتھ نبوی نرمی:

آپ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہے"۔ گھر میں داخل ہوتے ہی مسکراتے، اہل خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور ان کے جذبات کا پورا احترام فرماتے۔

4۔ جانوروں اور بے زبانوں پر رحم:

آپ ﷺ نے جانوروں کو بھوکا رکھنے، ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ لادنے اور ان کے چہروں پر مارنے سے سخت منع فرمایا، اور ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر ایک گناہگار کی بخشش کی بشارت دی۔

5۔ نبوی اخلاق کے مقابلے میں ہماری موجودہ حالت (The Core Difference)

رحمتِ نبوی ﷺ کے آئینے میں اگر ہم اپنے موجودہ اخلاقی رویوں کا جائزہ لیں تو یہ واضح فرق سامنے آتا ہے:

1۔ معاف کرنے کا رویہ:

ہمارا رویہ: معمولی غلطی پر سالہا سال کینہ رکھنا، بدلہ لینا اور تعلقات توڑ لینا۔

نبوی اسوہ: اپنے ذات کے لیے کبھی بدلہ نہ لینا، سخت سے سخت رویے کو معاف کرنا اور احسان کرنا۔

2۔ ماتحتوں اور غریبوں سے تعامل:

ہمارا رویہ: ملازمین، خادموں اور غریبوں پر چیخنا، ان کی تحقیر کرنا اور حقوق غصب کرنا۔

نبوی اسوہ: خادموں کو وہی کھلانا اور پہنانا جو خود پہنا جائے، اور ان کی غلطیوں کو درگزر کرنا۔

3۔ گفتگو اور اندازِ بیان:

ہمارا رویہ: زبان میں تلخی، طنز، غصہ اور دوسروں کی دل آزاری کرنا۔

نبوی اسوہ: نرم کلامی، مسکراہٹ، اور ہر انسان کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا۔

6۔ نبوی رحمت کو "عملی اخلاق" بنانے کے 5 مرحلہ وار قدم (Practical Steps)

اپنی روزمرہ زندگی کو اسوۂ نبوی کی روشنی میں رحمت کا مظہر بنانے کے لیے ان ۵ اقدامات پر عمل کریں:

الف) عفو و درگزر کو معمول بنانا: اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو محض اللہ کی رضا اور نبی ﷺ کی سنت کی اتباع میں معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔

ب) ماتحتوں کے ساتھ شفیق رویہ: اپنے ملازمین، ڈرائیورز، اور خادموں پر ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ ڈالیں اور ان کی غلطیوں پر درگزر سے کام لیں۔

ج) کلام میں حلاوت اور مسکراہٹ: اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت، بازار میں، اور دفتر میں مسکراتے ہوئے سلام کریں اور نرم الفاظ کا انتخاب کریں۔

د) جانوروں اور ماحول پر رحم: پرندوں اور جانوروں کے لیے دانا پانی کا انتظام کریں اور بلا ضرورت درختوں یا ماحول کو نقصان نہ پہنچائیں۔

ہ) خاندانی تعلقات کی جوڑ توڑ (صلہ رحمی): ان رشتہ داروں سے بھی تعلق قائم رکھیں جو آپ سے قطع تعلقی کرتے ہیں، تاکہ نبوی اخلاق کی عملی گواہی دی جا سکے۔

7۔ عملی اخلاق اور رحمت اپنانے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان اپنی ذات میں نبوی اخلاق اور رحمت کا نمونہ پیدا کرتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ برکات عطا فرماتا ہے:

• اللہ کی خاص رحمت و محبوبی: انسان اللہ کا محبوب بن جاتا ہے اور اس پر آسمان سے رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔

• دلوں میں عزت و ہیبت: نرم خو اور رحمدل انسان کی عزت مخلوق کے دلوں میں راسخ ہو جاتی ہے۔

• قیامت کے دن میزان میں سنگینی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ "رحمت للعالمین ﷺ" کا اصل حق صرف نعروں اور تقریروں سے ادا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ ہماری ذات سے دوسروں کو سلامتی، شفقت اور رحمت میسر آئے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں اسلام کی حقیقی تصویر روشن ہو اور ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنے، تو ہمیں اپنے گھروں، بازاروں اور دفاتر میں نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ کو نافذ کرنا ہوگا۔ آئیے! ہم سب یہ عزم کریں کہ ہم اپنے غصے، کینے اور سخت دلی کو ترک کر کے نبوی شفقت، عفو و درگزر اور رحمدلی کو اپنا شعار بنائیں گے اور عمل کی طاقت سے دنیا کے سامنے یہ ثابت کریں گے کہ ہمارے آقا ﷺ تمام جہانوں کے لیے مجسم رحمت ہیں۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنَّا سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنَّا سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الرَّاحِمِينَ، وَارْزُقْنَا الشَّفَقَةَ عَلَى خَلْقِكَ، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔

اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا، اور ہم سے برے اخلاق کو دور کر دے۔ اے اللہ! ہمیں اپنی مخلوق کے لیے رحمت اور شفقت کا ذریعہ بنا، ہمارے دلوں سے کینہ، غصہ اور سختی ختم فرما، اور ہمیں قیامت کے دن اپنے نبی رحمة للعالمين ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

رحمت للعالمین ﷺ کے عملی اخلاق کا یہ پیغام کسی تلخی اور سخت دلی کا شکار انسان کے لیے اصلاحِ احوال اور قلبی بیداری کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.