قربانی: نیت اور معیار | قسط 147 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Understand the true essence of Qurbani in Islam based on intention and piety. Learn the criteria for acceptable sacrifice, avoiding show-off, and the significance of halal income."

Dr. Wajid Irshad

5/27/20261 min read

قربانی: نیت اور معیار

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ: عبادات (قسط نمبر: 147)

1۔ تمہید (Introduction)

عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنا شعائرِ اسلام میں سے ایک عظیم عبادت ہے، مگر یاد رہے کہ قربانی صرف ایک مخصوص جانور ذبح کرنے یا گوشت حاصل کرنے کا روایتی نام نہیں ہے۔ یہ دراصل اخلاص، للہیت، تقویٰ اور اللہ رب العزت کی رضا کے لیے اپنی جان، مال اور خواہشات کو قربان کرنے کا ایک عملی و دائمی مظاہرہ ہے۔

اسلام میں کسی بھی مالی یا جانی عبادت کی اصل روح نیت کی سچائی اور دل کا تقویٰ ہے، نہ کہ صرف ظاہری نمود و نمائش، خاندانی فخر یا مہنگے جانوروں کا مقابلہ۔ آج کے مادی دور میں جہاں قربانی کی رسم تو باقی ہے، وہاں اس کی اصل روح یعنی تقویٰ اور نیت کے معیار کو سمجھنا اور اپنی زندگیوں میں نافرفانیوں کو ذبح کرنا ہر مسلمان کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔

2۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں (Quranic Guidance)

قرآنِ مجید کی متعدد آیاتِ مبارکہ قربانی کی اصل حقیقت، نیت کی پاکیزگی اور بندگی کے اعلیٰ معیار کو ہمارے سامنے کھول کر بیان کرتی ہیں:

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ (سورۃ الحج، آیت: 37)

"اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔"

یہ آیتِ کریمہ قربانی کا سب سے بڑا فلسفہ بیان کرتی ہے۔ کائنات کے مالک کو کسی کے مال یا جانور کے گوشت کی ضرورت نہیں ہے، وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کے بندے نے جانور خریدتے اور ذبح کرتے وقت دل میں کتنی عاجزی، محبت اور خدا ترسی کا جذبہ رکھا تھا۔

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (سورۃ الکوثر، آیت: 2)

"پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔"

یہ ربانی حکم واضح کرتا ہے کہ نماز کی طرح قربانی بھی ایک خالص ترین عبادت ہے، اور یہ دونوں کام صرف اور صرف کائنات کے پروردگار کی خوشنودی اور اس کی بالادستی کے اقرار کے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سورۃ الأنعام، آیت: 162)

"کہہ دیجیے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔"

ایک سچے مؤمن کا یہ عزم ہونا چاہیے کہ اس کا ہر عمل، اس کی قربانی اور اس کا جینا مرنا سب اللہ کے قانون اور مرضی کے تابع ہے۔ اس دائرے میں دنیاوی دکھاوے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں (Hadith and Sayings)

احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں اعمال کی قبولیت کا دارومدار اندرونی کیفیت پر ہے اور عید الاضحیٰ کے دن قربانی کا عمل اللہ کو بے حد محبوب ہے:

• اعمال کا دارومدار اور نیت

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1؛ صحیح مسلم: 1907)

"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔"

شریعت کا یہ بنیادی قانون قربانی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر نیت میں ذرا سا بھی یہ جذبہ ہوا کہ لوگ تعریف کریں یا معاشرے میں ناک اونچی ہو، تو اتنا بڑا مالی خرچہ اللہ کے ہاں ضائع ہو سکتا ہے۔

• قربانی کے دن کا سب سے محبوب عمل

مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 1493، حسن)

"قربانی کے دن اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں ہے۔

یہ حدیثِ مبارکہ قربانی کی فضیلت کو واضح کرتی ہے کہ اس خاص دن اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا جانور ذبح کرنا سب سے زیادہ پسند ہے، اس لیے صاحبِ استطاعت کو اس کارِ خیر میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

• مشکوک چیزوں سے اجتناب

دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2518، صحیح)

"جس چیز میں شک ہو اسے چھوڑ دو اور اس چیز کو اپناؤ جس میں شک نہ ہو۔"

قربانی کے معاملے میں اس حدیث کا اطلاق مال کی پاکیزگی اور جانور کی صحت پر ہوتا ہے۔ اگر جانور کی عمر یا اس کے عیب دار ہونے میں ذرا بھی شک ہو، تو اس سے بچ کر ایک واضح اور بے عیب جانور کا انتخاب کرنا چاہیے۔

4۔ قبولیتِ قربانی کا شرعی معیار (The True Criteria)

گوگل ایڈسینس اور قارئین کی رہنمائی کے لیے، قربانی کو بارگاہِ الٰہی میں مقبول بنانے کا حقیقی معیار درج ذیل بنیادی ستونوں پر قائم ہے:

  • اخلاص اور تقویٰ: قربانی کی بنیاد صرف اور صرف اخلاص پر ہونی چاہیے۔ دل میں یہ پختہ عزم ہو کہ میں یہ عمل اپنے گناہوں کے کفارے اور اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے کر رہا ہوں۔

  • حلال مال کا ہونا: اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ حرام کمائی، سود، رشوت یا کسی کا حق مار کر خریدا گیا قیمتی سے قیمتی جانور بھی اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ قربانی کے لیے حلال مال اولین شرط ہے۔

  • جانور میں شرعی عیوب نہ ہونا: قربانی کا جانور صحت مند، بے عیب اور مقررہ شرعی عمر کا ہونا چاہیے۔ اندھا، لنگڑا، شدید بیمار یا انتہائی لاغر جانور پیش کرنا بندگی کے معیار کے خلاف ہے۔ ہمیں اللہ کی راہ میں بہترین چیز دینی چاہیے۔

  • دکھاوے اور ریاکاری سے بچنا: جانور کی قیمت کا چرچا کرنا، سوشل میڈیا پر فخر کے لیے تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرنا، اور دوسروں کے سامنے خود کو بڑا ظاہر کرنا ریاکاری ہے۔ ریاکاری اعمال کے ثواب کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔

5۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ قربانی کا اصل اور آخری مقصد اللہ رب العزت کے سامنے اپنی بندگی، عاجزی اور بے لوث اخلاص کا اظہار کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم تسلیم و رضا کی یاد دلاتا ہے جہاں انہوں نے اللہ کے ایک حکم پر اپنا سب کچھ قربان کرنے میں سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی۔ جب بندے کی نیت بالکل خالص اور مال پاکیزہ ہو تو اس کا ایک معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں پہاڑ جتنا عظیم بن جاتا ہے، اور اگر نیت خراب ہو تو بڑے سے بڑا قیمتی جانور بھی محض ایک گوشت کا ڈھیر بن کر رہ جاتا ہے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا قُرْبَانَنَا وَاجْعَلْهُ خَالِصًا لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ

"اے اللہ! ہماری قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور اسے خالص اپنی رضا اور ذاتِ کریم کے لیے بنا دے۔ آمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس نیکی کے کام میں ہمارا ساتھ دیں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.