قربانی اور سماجی انصاف | قسط 151 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Learn the connection between Qurbani and social justice in Islam. Discover how Eid-ul-Adha promotes equality, helping the poor, and eradicating social show-off."

Dr. Wajid Irshad

5/31/20261 min read

قربانی اور سماجی انصاف

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ: معاشرت قسط نمبر: 151

1۔ تمہید (Introduction)

دینِ اسلام ایک ایسا جامع نظامِ حیات ہے جو جہاں انسان کو حقوق اللہ (عبادات) کی ادائیگی کے ذریعے باطن کی صفائی سکھاتا ہے، وہاں معاشرتی عدل، مساوات، اور انسانی ہمدردی (حقوق العباد) پر بھی یکساں زور دیتا ہے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر کی جانے والی قربانی بظاہر ایک خالص مالی اور جانی عبادت نظر آتی ہے، لیکن اگر اس کے باطنی پہلو کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو اس کے اندر سماجی انصاف، باہمی اخوت، ایثارِ نفس اور معاشرتی ذمہ داریوں کا ایک عظیم اور آفاقی پیغام پوشیدہ ہے۔

مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں جانور قربان کرتے ہیں، مگر شریعت نے اس عمل کا ایک بنیادی اور اہم مقصد یہ بھی رکھا ہے کہ معاشرے کے محروم، غریب اور سفید پوش طبقات کو بھی ان خوشیوں میں برابر کا شریک کیا جائے تاکہ کوئی بھی دل اس دن محرومی کا شکار نہ رہے۔

2۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں (Quranic Guidance)

قرآنِ مجید کی آیاتِ مبارکہ قربانی کے تقویٰ اور اس کے سماجی و اقتصادی پہلوؤں کو نہایت خوبصورت اور مربوط انداز میں ہمارے سامنے پیش کرتی ہیں:

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ (سورۃ الحج: 37)

"اللہ تعالیٰ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔"

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کا مادی حصہ (گوشت اور خون) زمین پر ہی رہ جاتا ہے، جو دراصل انسانوں کی فلاح کے لیے کام آتا ہے۔ اللہ کے ہاں صرف بندے کی نیت اور اس کے دل کا اخلاص قبول پاتا ہے۔

فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ (سورۃ الحج: 36)

"پھر اس میں سے خود بھی کھاؤ اور قناعت کرنے والے (جو مانگتے نہیں) اور سوال کرنے والے کو بھی کھلاؤ۔"

اللہ رب العزت نے یہاں گوشت کی تقسیم کا پورا سماجی فارمولا بیان فرما دیا ہے کہ اپنی خوشی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ان لوگوں کا خاص خیال رکھا جائے جو معاشی تنگی کے باوجود عزتِ نفس کی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلاتے، اور ان کا بھی جو مجبور ہو کر مدد مانگتے ہیں۔

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (سورۃ الحشر: 9)

"اور وہ اپنی ضرورت اور تنگی کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔"

ایثار کا یہ اعلیٰ ترین درجہ ہی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے، جہاں ایک مؤمن اپنی ذات سے بڑھ کر اپنے دوسرے بھائی کی ضرورت کو اہمیت دیتا ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں (Hadith and Sayings)

احادیثِ مبارکہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شریعت میں کسی بھی عبادت کا ثمرہ تب تک ادھورا ہے جب تک اس سے مخلوقِ خدا کو نفع نہ پہنچے:

• انسانیت کو نفع پہنچانے کا جذبہ

أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ (المعجم الأوسط للطبرانی، رقم الحدیث: 5937، حسن)

"اللہ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔"

قربانی کا عمل ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہم اپنے مال اور وسائل سے دوسرے انسانوں کو نفع پہنچا کر بارگاہِ الٰہی میں محبوبیت کا مقام حاصل کریں۔

• پڑوسیوں کے حقوق کی اہمیت

مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6019)

"جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے (اس کی تکریم کرے)۔"

عید کے موقع پر اچھے پکوان اور گوشت بھیج کر پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرنا ایمان کے تقاضوں میں سے ایک ہے۔

• کامل ایمان کی شرط

لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 751، حسن)

"وہ شخص کامل مؤمن نہیں ہو سکتا جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا سوئے۔"

یہ حدیث ایک مؤمن کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے کہ جب تمہارے گھروں میں گوشت کی ریل پیل ہو، تو اس وقت یہ لازمی دیکھو کہ کہیں کوئی پڑوسی یا رشتہ دار معاشی محرومی کے آنسو تو نہیں بہا رہا۔

4۔ قربانی اور سماجی مساوات (Social Equality)

عید الاضحیٰ کا موقع اسلامی معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان حائل معاشی فاصلوں کو مٹانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ سال کے بارہ مہینے جو غریب اور مسکین خاندان مہنگائی کی وجہ سے گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اس مبارک دن ان کے گھروں تک بھی بہترین رزق پہنچتا ہے۔ اسلام خوشیوں کو چند مراعات یافتہ گھروں تک محدود رکھنے کے بجائے پورے معاشرے میں یکساں تقسیم کرنے کا درس دیتا ہے، جو کہ اشتراکی یا سرمایادارانہ نظام کے برعکس ایک متوازن "سماجی انصاف" کا عملی مظاہرہ ہے۔

قربانی کا حقیقی معاشرتی پیغام (Social Message)

  • محروم طبقات کی دادرسی: معاشرے کے یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کو اپنی خوشیوں کا محور بنانا۔

  • صلہ رحمی اور حسنِ جوار: رشتہ داروں کے گھر جا کر خود تحائف پہنچانا اور پڑوسیوں سے تعلقات مضبوط کرنا۔

  • انا اور بخل کا خاتمہ: اپنے حلال مال کو دوسروں پر خرچ کر کے ایثار، سخاوت اور ہمدردی کی عادت ڈالنا۔

  • اخوت و بھائی چارہ: طبقاتی اونچ نیچ کو ختم کر کے دلوں میں باہمی محبت کو فروغ دینا۔

5۔ موجودہ دور کے چند مادی مسائل (Contemporary Issues)

آج کے اس مادی دور میں جہاں مخلصانہ رویے کم ہو رہے ہیں، وہاں یہ عظیم عبادت بھی بعض اوقات ظاہری مقابلہ آرائی، فخر اور ریاکاری کا شکار نظر آتی ہے۔ جانوروں کی قیمتوں کے چرچے کرنا، ان کی جسامت کی نمائش کرنا اور سوشل میڈیا پر واہ واہ سمیٹنے کو اصل مقصد سمجھ لیا جاتا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر قربانی میں سے اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا جذبہ نکل جائے، تو وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتی، بلکہ محض ایک مادی سرگرمی بن کر رہ جاتی ہے۔

6۔ انفرادی و اجتماعی عملی منصوبہ (Action Plan)

اس عید پر قربانی کی روح کو زندہ کرنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کریں:

1. سفید پوشوں کی تلاش: اپنے محلے اور خاندان کے ان غیرت مند سفید پوش افراد کا پتہ لگائیں جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ان کے گھر عزت و احترام کے ساتھ گوشت پہنچائیں۔

2. صحیح تقسیم کا اصول: گوشت کے روایتی تین حصے (اپنے لیے، رشتہ داروں کے لیے، اور غریبوں کے لیے) کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں کے حصے کو ترجیح دیں۔

3. بچوں کی فکری تربیت: بچوں کو اپنے ساتھ لے جا کر غریب بستیوں میں گوشت تقسیم کروائیں تاکہ ان میں بچپن ہی سے ایثار اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا ہو۔

4. نمائش سے دوری: جانور کی قیمت اور نسل کی برتری جتا کر کسی غریب کی محرومی کا مذاق اڑانے سے مکمل گریز کریں۔

7۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ قربانی محض ایک سالانہ مذہبی رسم یا تہوار نہیں ہے، بلکہ یہ انسانیت کے لیے ایک عظیم اور دائمی سماجی درس ہے۔ یہ عبادت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری انفرادی خوشیاں تب تک نامکمل اور بے برکت ہیں جب تک ان میں معاشرے کے پسماندہ اور محروم افراد شامل نہ ہوں۔ اگر امتِ مسلمہ قربانی کے اس حقیقی پیغام کو سمجھ لے، تو یہ دنیا بھر میں عدل، مساوات، بھائی چارے اور سماجی انصاف کے فروغ کا سب سے مؤثر اور خوبصورت ذریعہ بن سکتی ہے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا الْإِخْلَاصَ فِي الْعِبَادَةِ، وَالْإِحْسَانَ إِلَى خَلْقِكَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَنْفَعُونَ النَّاسَ وَيَبْذُلُونَ الْخَيْرَ لَهُمْ

"اے اللہ! ہمیں اپنی عبادات میں اخلاصِ کامل، اپنی مخلوق کے ساتھ احسانِ برتر، اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور ان کے لیے خیر کے راستے کھولنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات کو آگے پہنچانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.