قربانی کے بعد ایثار کا جذبہ کہاں چلا جاتا ہے؟ | قسط 152 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Explore the real meaning of Qurbani and why the spirit of sacrifice and helping the poor fades away after Eid-ul-Adha. Read the solution by Dr. Wajid Irshad."

qurbani-ke-baad-eesar-ka-jazba-kahan-chala-jata-hai-dr-wajid-irshad-152

6/1/20261 min read

قربانی کے بعد ایثار کا جذبہ کہاں چلا جاتا ہے؟

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ: معاشرت (قسط نمبر: 152)

1۔ تمہید (Introduction)

عید الاضحیٰ کا مبارک تہوار بنیادی طور پر سیدنا ابراہیم خلیل اللہ اور ذبیح اللہ سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی ان لازوال اور بے مثال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے جنہوں نے تاریخِ انسانیت کو بندگی کا نیا رخ دیا۔ ان مخصوص ایام میں ہر طرف ایک خوبصورت اخلاقی اور روحانی ماحول نظر آتا ہے۔ مسلمان بڑے ذوق و شوق سے اللہ کی رضا کے لیے بیش قیمت جانور قربان کرتے ہیں، غریبوں، مسکینوں اور دور دراز کے ضرورت مندوں میں گوشت تقسیم کرتے ہیں، اور ہر طرف ایثار، ہمدردی اور باہمی غم خواری کے جذبات کا ایک سمندر موجزن دکھائی دیتا ہے۔

لیکن جیسے ہی عید کے یہ تین چار دن رخصت ہوتے ہیں، معاشرے کے سامنے ایک گہرا اور فکر انگیز سوال آ کھڑا ہوتا ہے کہ "آخر عید کے فوراً بعد ہمدردی اور ایثار کا یہ عظیم جذبہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟" کیا وجہ ہے کہ عید کے دنوں میں تو ہمیں غریبوں کی محرومیوں کا شدت سے احساس ہوتا ہے، لیکن عید گزرتے ہی ہم پورے سال کے لیے معاشرے کے ان سسکتے ہوئے محروم طبقات کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہمارے روایتی مذہبی رویوں اور اجتماعی منافقت کا گہرا محاسبہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

2۔ قرآنِ مجید کی ابدی ہدایات (Quranic Paradigm)

کلامِ الٰہی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نیکی اور ایثار کوئی عارضی یا چند دنوں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مؤمن کی مستقل اخلاقی صفت ہونی چاہیے:

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (سورۃ آل عمران: 92)

تم ہرگز بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس چیز میں سے خرچ نہ کرو جس سے تم محبت کرتے ہو۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قربانی کی اصل روح اپنی محبوب ترین چیز کو دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے قربان کر دینا ہے، اور یہ رویہ انسان سے دائمی قربانی مانگتا ہے، نہ کہ صرف تین دن کی رسم۔

وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (سورۃ الحشر: 9)

اور وہ اپنے نفسوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، خواہ وہ خود فاقے سے کیوں نہ ہوں۔

سچی بندگی کا معیار یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورتوں کو پسِ پشت ڈال کر معاشرے کے معذور اور کمزور طبقات کے آنسو پونچھے۔

وَفِي أَمْوَالِهِمْ حقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (سورۃ الذاریات: 19)

اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (محروم) کا حق ہے۔

یہ آیت معاشی انصاف کا وہ اصول پیش کرتی ہے جہاں امیر کے مال میں غریب کا حق کوئی احسان نہیں، بلکہ ایک الٰہی فریضہ ہے۔

3۔ احادیثِ مبارکہ کا حکیمانہ اسلوب (Prophetic Traditions)

رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور فرامینِ عالیہ ہمیں عارضی نیکی کے بجائے مستقل مزاجی اور خدمتِ خلق کا درس دیتے ہیں:

• کائنات کا بہترین انسان

أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ (المعجم الأوسط للطبراني، الرقم: 5787، قال المحدث الألباني: حسن)

اللہ کے نزدیک انسانوں میں سب سے محبوب وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔

اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی سچی محبت کا حقدار وہ نہیں جو صرف اپنی ذات میں مگن رہے، بلکہ وہ ہے جو عید کے بعد بھی اپنے مال، وقت اور صلاحیتوں سے خلقِ خدا کے کام آتا رہے۔

• ایمان اور ہمدردی کا باہمی تعلق

لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 13)

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

سچا ایمان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر ہم عید کے بعد اپنے لیے اچھے کھانوں اور آسائشوں کو پسند کرتے ہیں، لیکن ہمارا غریب پڑوسی فاقوں پر مجبور ہے، تو ہمارے ایمان کا دعویٰ ادھورا ہے۔

• قیامت کے دن کی آسانی کا راز

مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2699)

جس نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی تکلیفوں میں سے اس کی تکلیف کو دور فرمائے گا۔

یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کسی مجبور انسان کے سر سے معاشی یا سماجی بوجھ ہلکا کرنا، دراصل آخرت کے اس ہولناک دن کے لیے سب سے بڑا سرمایہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔

4۔ ایثار کا جذبہ عید کے بعد کمزور کیوں پڑ جاتا ہے؟ (Reasons of Decline)

معاشرتی تحقیق کے مطابق، عید کے بعد ہمارے اندر سے ہمدردی کا احساس ختم ہونے کے پیچھے درج ذیل چار بڑے اسباب کارفرما ہیں:

الف) عبادت کو محض ایک وقتی "ایونٹ" سمجھنا

ہم نے دین کو مہم جوئی یا سیزنل (Seasonal) بنا دیا ہے۔ بہت سے لوگ قربانی کو صرف ایک سالانہ تہوار یا مذہبی ذمہ داری سمجھتے ہیں، جس کا تعلق صرف مخصوص ایام سے ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تین دن دراصل پورے سال کی اخلاقی تربیت کا ایک کورس تھے۔

ب) مادی دوڑ اور دنیا پرستی کا غلبہ

عید کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی انسان دوبارہ دنیاوی کاروبار, ملازمت اور معاشی دوڑ میں اس طرح مگن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے بچوں کے مستقبل کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ مادیت پسندی انسان کو خود غرض بنا دیتی ہے۔

ج) اپنے اردگرد کے حالات سے مجرمانہ بے خبری

ہمارے طرزِ زندگی نے ہمیں اپنے پڑوس اور خاندان کے سفید پوش اور مستحق افراد سے دور کر دیا ہے۔ ہم اپنے بند کمروں کے اے سی میں مگن رہتے ہیں اور ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہمارے پہلو میں رہنے والا کوئی مجبور انسان کس حال میں جی رہا ہے۔

د) مستقل معاشی احساسِ ذمہ داری کی کمی

ہم کسی وقتی آفت یا عید کے موقع پر تو جذباتی ہو کر بڑی رقم خرچ کر دیتے ہیں، لیکن کسی غریب کی مستقل تعلیم، صحت یا روزگار کی ذمہ داری اٹھانے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ ہم نیکی کو ایک مستقل لائف اسٹائل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

5۔ قربانی کا اصل اور انقلابی پیغام (The Core Message)

قربانی کا فلسفہ صرف جانور کے گلے پر چھری پھیرنا یا لذیذ پکوان تیار کرنا نہیں ہے۔ اس کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے دل کے اندر پلنے والے فرعون، اپنی خود غرضی، بخل، حرص، لالچ اور نفس پرستی کو ذبح کرے۔

"اگر عید الاضحیٰ گزرنے کے بعد بھی ہمارے اخلاق، ہمارے بخل اور ہمارے سماجی رویوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، اور ہم غریب کی تڑپ دیکھ کر بے حس بنے رہے، تو ہمیں سنجیدگی سے اپنے اندر جھانکنا چاہیے کہ کہیں ہماری قربانی صرف ایک رسمی سرگرمی تو بن کر نہیں رہ گئی؟"

6۔ عید کے بعد ایثار کو زندہ رکھنے کا "عملی لائحہ عمل" (Action Plan)

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ابراہیمی جذبہ ہماری رگوں میں پورا سال دوڑتا رہے، تو ہمیں درج ذیل پانچ عملی اقدامات پر مشتمل منصوبہ بنانا ہوگا:

1. ماہانہ بنیادوں پر خیرات کا تعین: اپنی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ (خواہ وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو) مستقل بنیادوں پر صدقہ اور خیرات کے لیے وقف کریں۔

2. سفید پوش خاندانوں کی کفالت: اپنے خاندان یا محلے میں سے کم از کم ایک یا دو ایسے خاندانوں کو تلاش کریں جن کے بچے فیس یا راشن کی وجہ سے پریشان ہیں، اور ان کی مستقل پردہ داری کے ساتھ مدد کریں۔

3. پڑوسیوں کے دکھ درد میں شرکت: عید کے بعد بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رابطہ رکھیں اور وقتاً فوقتاً ان کے گھروں میں تحائف یا کھانے بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

4. بچوں کے اندر انسانی ہمدردی پیدا کرنا: اپنے بچوں کو صرف عید پر مہنگے کپڑے نہ دلائیں، بلکہ سال بھر غریب بچوں کی مدد کرنا سکھائیں تاکہ اگلی نسل میں یہ جذبہ منتقل ہو۔

5. خوشیوں کو بانٹنے کا رویہ: اپنے گھر کی تقریبات، سالگرہ یا خوشی کے مواقع پر جتنا خرچ کرتے ہیں، اس کا ایک حصہ مساکین کے نام کریں۔

7۔ معاشرے پر ایثار کے ہمہ گیر اثرات (Social Impact)

جب ایک معاشرے میں ایثار کا جذبہ مستقل شکل اختیار کر لیتا ہے، تو وہاں درج ذیل تغییرات رونما ہوتے ہیں:

  • معاشرے سے معاشی تنگی اور انتہائی غربت کا خاتمہ ہوتا ہے۔

  • امیر اور غریب کے درمیان نفرتیں ختم ہوتی ہیں اور طبقاتی فاصلے مٹ جاتے ہیں۔

  • امن و امان قائم ہوتا ہے کیونکہ جرائم کی ایک بڑی وجہ معاشی محرومی ہوتی ہے۔

  • پورے معاشرے پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور اجتماعی خوشحالی آتی ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قربانی کا اصل مقصد صرف تین دن کے لیے گوشت کی تقسیم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے اندر پوری زندگی کے لیے ایثار، عاجزی اور خدمتِ خلق کا لازوال جذبہ بیدار کرنے کا نام ہے۔ اگر عید گزر جانے کے بعد بھی ہمارا دل کسی لاچار انسان کا دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے، تو مبارک ہو کہ قربانی کی حقیقی روح ہمارے اندر زندہ ہے۔ لیکن اگر عید کے بعد ہماری زندگی پھر سے خود غرضی کی ڈگر پر چل پڑے، تو سمجھ لیجیے کہ صرف ایک رسم باقی رہ گئی اور اس عبادت کا اصل مقصد فوت ہو گیا۔ آئیے اپنے جذبوں کو مستقل بنائیں۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ الْإِيثَارِ وَالْإِخْسَانِ، وَارْزُقْنَا خِدْمَةَ عِبَادِكَ وَالْإِنْفَاقَ فِي سَبِيلِكَ

(دعائیہ کلمات)

"اے اللہ! ہمیں حقیقی ایثار اور احسان کرنے والوں کی صف میں شامل فرما، ہمیں اپنی مجبور مخلوق کی سچی خدمت کرنے اور اپنے پاک راستے میں مستقل خرچ کرنے کی توفیقِ خاص عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات کو آگے پہنچانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں اور اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.