قبولیتِ رمضان کی علامات: کیا میری عبادت قبول ہوئی؟

How can we know whether our worship in Ramadan has been accepted? While true acceptance is known only to Allah, the Qur’an and authentic Hadith highlight clear spiritual signs that appear in a believer’s life after Ramadan. Consistency in good deeds, increased piety, moral improvement, and steadfastness in worship are among the strongest indicators of acceptance. This article presents a scholarly yet accessible overview of the signs of accepted deeds in light of the Qur’an, authentic Hadith, and classical Islamic scholarship, along with practical guidance for maintaining spiritual growth after Ramadan. A must-read reflection for anyone seeking to preserve the blessings of Ramadan throughout the year.

Dr. Wajid Irshad

3/19/20261 min read

تمہید

رمضان المبارک رخصت ہو چکا، مگر ہر صاحبِ ایمان کے دل میں یہ سوال باقی ہے کہ کیا اس کی عبادات بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئیں؟ اگرچہ کسی عمل کی حتمی قبولیت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی چند روشن علامات موجود ہیں جو مومن کے لیے امید، اصلاح اور استقامت کا پیغام دیتی ہیں۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں

إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

(المائدة 27)

بے شک اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں ہی سے اعمال قبول فرماتا ہے۔

وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ

(محمد 17)

اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں، اللہ انہیں مزید ہدایت دیتا ہے اور انہیں تقویٰ عطا فرماتا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

(الأحقاف 13)

بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

حدیثِ رسول ﷺ کی روشنی میں

عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله ﷺ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6465)

اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ

(مسند أحمد، رقم الحدیث: 8396)

جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے نیک اعمال میں مشغول کر دیتا ہے۔

عن سفيان بن عبد الله رضي الله عنه قال قلت يا رسول الله قل لي في الإسلام قولا لا أسأل عنه أحدا بعدك قال قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ

(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 38)

کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔

فقہی آراء اور تجزیہ

فقہائے امت کے نزدیک کسی نیکی کی قبولیت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ بندے کو اس کے بعد مزید نیکی کی توفیق ملے۔ اگر رمضان کے بعد عبادت کا شوق باقی رہے، گناہوں سے نفرت پیدا ہو جائے اور دل اللہ کی اطاعت کی طرف مائل رہے تو یہ قبولیت کی امید دلانے والی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح عبادت کے بعد عاجزی پیدا ہونا اور اپنے عمل کو ناکافی سمجھنا بھی قبولیت کی علامت ہے، جبکہ نیکی کے بعد غرور اور تکبر پیدا ہونا محرومی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

علماء لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی عمل کو قبول فرماتا ہے تو اس کے اثرات بندے کے ظاہر و باطن پر نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اخلاق میں نرمی، معاملات میں دیانت، اور زندگی میں اعتدال پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ عبادت نے دل کی اصلاح کی ہے۔

عملی پہلو

رمضان کی قبولیت جانچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا جائزہ لے۔ اگر نمازوں کی پابندی پہلے سے بہتر ہو گئی ہے، قرآن سے تعلق مضبوط ہوا ہے، دل گناہوں سے گھبراتا ہے، اور نیکی کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے تو یہ قبولیت کی امید افزا علامات ہیں۔

اسی طرح اگر انسان کے اخلاق میں بہتری آ گئی ہے، غصہ کم ہو گیا ہے، دوسروں کے حقوق کا احساس بڑھ گیا ہے اور عبادت میں دکھاوے کے بجائے اخلاص پیدا ہو گیا ہے تو یہ رمضان کے روحانی اثرات ہیں۔ مومن کو چاہیے کہ رمضان کے بعد بھی نیکیوں کا تسلسل برقرار رکھے کیونکہ یہی استقامت قبولیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

دعا

اللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا صِيَامَنَا وَقِيَامَنَا وَسَائِرَ أَعْمَالِنَا، وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُتَّقِينَ، وَارْزُقْنَا الِاسْتِقَامَةَ بَعْدَ رَمَضَانَ۔

اے اللہ! ہمارے روزے، قیام اور تمام اعمال قبول فرما، ہمیں اپنے متقی بندوں میں شامل فرما اور رمضان کے بعد بھی ہمیں استقامت عطا فرما۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے — اس تحریر کو شیئر کر کے خیر کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں
قبولیتِ رمضان کی علامات: کیا میری عبادت قبول ہوئی؟
ڈاکٹر واجد ارشاد
قسط نمبر: 75