Qabuliyat-e-Amal by Dr. Wajid Irshad قبولیت عمل کی فکر

A thoughtful and spiritually uplifting article that highlights the importance of worrying about the acceptance of our good deeds. In the light of the Qur’an and authentic Hadith, this piece explains the signs of accepted deeds, obstacles that prevent acceptance, and practical steps for sincere worship. It also presents inspiring sayings of classical scholars to develop humility, sincerity, and continuous self-reform in a believer’s life. A must-read reminder for anyone striving to make their عبادات more meaningful and acceptable to Allah.قبولیت عمل کی فکر

Dr. Wajid Irshad

3/23/20261 min read

تمہید

عبادت کرنا یقیناً اہم ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ فکر ضروری ہے کہ آیا ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول بھی ہوئے یا نہیں۔ اہلِ ایمان کی شان یہ ہے کہ وہ نیکی کرنے کے بعد بھی گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ قبولیت کی دعا اور ردّ ہونے کے خوف کے درمیان زندگی گزارتے ہیں۔ یہی طرزِ فکر انسان کو اخلاص، عاجزی اور تقویٰ کی دولت عطا کرتا ہے۔

قرآنِ کریم کی روشنی میں

وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ

(المؤمنون: 60)

اور وہ لوگ جو نیک اعمال کرتے ہیں اور ان کے دل اس خوف سے لرزتے رہتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ

(المائدہ: 27)

بیشک اللہ تعالیٰ صرف متقی لوگوں کے اعمال قبول فرماتا ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبولیتِ عمل کا دار و مدار اخلاصِ نیت، تقویٰ اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس پر ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ:

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ

صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1

اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔

فرمان نبوی ﷺ:

إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا

صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1015

اللہ پاک ہے اور پاکیزہ عمل ہی قبول فرماتا ہے۔

یہ احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اعمال کی ظاہری مقدار نہیں بلکہ نیت کا اخلاص اور طریقے کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔

سلفِ صالحین کی فکر

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مومن نیکی کرتا ہے اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں اس کا عمل رد نہ ہو جائے، جبکہ منافق برائی کرتا ہے اور بے خوف رہتا ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

نیکی کے بعد مزید نیکی کی توفیق ملنا پہلی نیکی کی قبولیت کی علامت ہے۔

سلف صالحین کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ عبادات کے بعد طویل عرصہ تک قبولیت کی دعائیں کرتے رہتے تھے۔

فقہی آراء و تربیتی تجزیہ

علمائے کرام فرماتے ہیں کہ عمل کی قبولیت کے لیے تین بنیادی چیزیں ضروری ہیں:

اخلاص، سنت کی پیروی، اور حلال رزق۔

اگر عمل اخلاص سے خالی ہو تو وہ ریاکاری بن جاتا ہے، اگر سنت کے مطابق نہ ہو تو مردود ہو جاتا ہے، اور اگر کمائی حرام ہو تو عبادت کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے۔

قبولیت کی فکر انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتی ہے، غرور کو ختم کرتی ہے اور بندے کو مسلسل اصلاحِ نفس پر آمادہ رکھتی ہے۔

قبولیتِ عمل کی علامات

* نیکی کے بعد مزید نیکی کی توفیق ملنا * دل میں گناہوں سے نفرت پیدا ہونا* عبادت کے بعد عاجزی محسوس ہونا* ریاکاری سے بچنے کی کوشش * اعمال کے ضائع ہونے کا خوف باقی رہنا

قبولیت میں رکاوٹیں

* دکھاوا اور شہرت کی خواہش * حرام کمائی* حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی* سنتِ نبوی ﷺ سے انحراف* غفلت اور دل کی سختی

عملی رہنمائی

* ہر عمل سے پہلے نیت کی اصلاح * حلال رزق کا اہتمام * فرائض کی مکمل پابندی* سنت کے مطابق عبادات * کثرتِ استغفار اور قبولیت کی دعا

اختتامیہ

مومن اپنے عمل کو کبھی کافی نہیں سمجھتا۔ وہ ہمیشہ اس خوف میں رہتا ہے کہ کہیں اس کی عبادت ناقص نہ ہو۔ یہی خوف اسے تکبر سے بچاتا اور اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ عبادت کے بعد قبولیت کی فکر ہی اصل بندگی کی روح ہے۔

دعا

اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا صَلَاتَنَا وَصِيَامَنَا وَسَائِرَ أَعْمَالِنَا وَاجْعَلْهَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، اس تحریر کو شیئر کر کے خیر کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں۔

قبولیتِ عمل کی فکر

قسط نمبر: 82

ڈاکٹر واجد ارشاد