Patience (Sabr صبر)

Patience (Sabr صبر) means enduring hardship, while contentment (Rida) means being fully pleased with Allah’s decree. Both are essential stages of a believer’s spiritual growth.

Dr. Wajid Irshad

4/17/20261 min read

صبر اور رضا میں فرق

قسط نمبر: 107

ڈاکٹر واجد ارشاد

تمہید

اسلامی اخلاقیات میں صبر اور رضا دو عظیم صفات ہیں جو مومن کی روحانی بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ بظاہر دونوں قریب لگتی ہیں مگر حقیقت میں ان کے درمیان باریک مگر اہم فرق ہے۔ صبر ابتلاء کے وقت انسان کی استقامت ہے، جبکہ رضا اللہ کے فیصلے پر دل کی خوشی اور اطمینان کا نام ہے۔

صبر کیا ہے؟

صبر کا مطلب ہے مصیبت، تکلیف یا ناگوار حالات میں اپنے نفس کو بے قراری، شکایت اور گناہ سے روکنا۔

قرآن کی روشنی میں

إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ

(سورۃ الزمر، آیت: 10)

بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

رضا کیا ہے؟

رضا کا مطلب ہے اللہ کے ہر فیصلے پر دل سے خوش ہونا اور اسے بہتر سمجھنا، چاہے وہ ہمیں بظاہر تکلیف دہ ہی کیوں نہ لگے۔

قرآن کی روشنی میں

رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ

(سورۃ البینہ، آیت: 8)

اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔

صبر اور رضا میں بنیادی فرق

صبر

تکلیف برداشت کرنا دل میں کبھی کبھار ناگواری ہو سکتی ہے* آزمائش کے وقت ثابت قدم رہنا

رضا

دل کا مکمل اطمینان اللہ کے فیصلے پر خوشی* شکایت کا احساس بھی ختم ہو جانا

احادیث کی روشنی میں

فرمان نبوی ﷺ

عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ... إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ

(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2999)

مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کے ہر حال میں خیر ہے۔

عملی زندگی میں فرق کیسے ظاہر ہوتا ہے؟

صابر انسان تکلیف میں شکایت نہیں کرتا راضی انسان تکلیف کو نعمت سمجھتا ہے* صبر میں کوشش ہوتی ہے، رضا میں تسلیم ہوتا ہے

حاصل گفتگو

صبر ابتدائی درجہ ہے جبکہ رضا اعلیٰ مقام ہے۔ ہر مومن کو صبر سے آغاز کر کے رضا کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دعا

اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا الصَّبْرَ وَالرِّضَا بِقَضَائِكَ

اے اللہ! ہمیں صبر اور اپنی تقدیر پر رضا عطا فرما۔

ناشر قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نیکی کی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، آئیے اس کارِ خیر میں ہمارا ساتھ دیں۔