نیکی کا تسلسل کیوں ٹوٹتا ہے؟ Consistency in good deeds
Discover why good deeds often lose momentum after Ramadan and how to maintain consistency in worship and righteous actions. This insightful article by Dr. Wajid Irshad explores the spiritual, practical, and psychological reasons behind the break in good habits, supported by Quranic guidance and authentic Hadith. Learn actionable strategies to stay steadfast, strengthen your faith, and ensure your efforts in Ramadan continue to bear fruit throughout the year.Consistency in good deeds
Dr. Wajid Irshad
3/24/20261 min read


نیکی کا تسلسل کیوں ٹوٹتا ہے؟
قسط نمبر: —83
ڈاکٹر واجد ارشاد
تمہید
انسان کی زندگی عبادت اور اطاعتِ الٰہی کے لیے عطا کی گئی ہے، مگر اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نیکی کا آغاز تو بڑے شوق سے کرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصے بعد سستی، غفلت اور دنیاوی مصروفیات کا شکار ہو کر نیکی کا یہ سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ روحانی کمزوری نہ صرف اعمال کی تاثیر کو کم کر دیتی ہے بلکہ انسان کو بتدریج غفلت کی طرف لے جاتی ہے۔ شریعتِ مطہرہ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ نیکی وقتی جوش کا نام نہیں بلکہ مستقل مزاجی، صبر اور استقامت کا تقاضا کرتی ہے۔
قرآن کی روشنی میں
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ
(الحجر: 99)
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آ جائے۔
نکتہ: عبادت کسی خاص وقت یا موسم تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کا عمل ہے۔
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(آل عمران: 139)
نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
نکتہ: روحانی کمزوری نیکی کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہے، مضبوط ایمان استقامت پیدا کرتا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
(آل عمران: 200)
اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو، دین پر جمے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
نکتہ: صبر اور ثابت قدمی کامیابی اور نیکی کے تسلسل کی بنیادی شرائط ہیں۔
حدیث کی روشنی میں دلائل
فرمانِ نبوی ﷺ:
فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا
صحیح البخاری رقم الحدیث: 39
درست راستہ اختیار کرو، میانہ روی اپناؤ اور خوشخبری حاصل کرو۔
نکتہ: اعتدال اور توازن نیکی کے تسلسل کو قائم رکھتے ہیں جبکہ شدت پسندی تھکاوٹ پیدا کرتی ہے۔
فرمانِ نبوی ﷺ:
الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ
صحیح مسلم رقم الحدیث: 2664
طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔
نکتہ: مضبوط ارادہ اور ثابت قدمی مومن کو نیکی پر قائم رکھتی ہے، جبکہ کمزوری عمل کے تسلسل کو توڑ دیتی ہے۔
نیکی کا تسلسل ٹوٹنے کی بڑی وجوہات
* ماحول کی تبدیلی
نیک ماحول انسان کو عبادت پر آمادہ رکھتا ہے، مگر جب صحبت، مصروفیات اور روزمرہ معمول بدل جاتے ہیں تو عبادت میں سستی آنے لگتی ہے۔
* سستی اور غفلت
شیطان انسان کو آرام طلب بنا دیتا ہے جس سے نیکی کا شوق کمزور پڑ جاتا ہے، اور غفلت دل کو عبادت کی لذت سے محروم کر دیتی ہے۔
* حد سے زیادہ بوجھ اٹھانا
بعض لوگ ابتدا میں بہت زیادہ نوافل اور وظائف اپنے ذمہ لے لیتے ہیں، پھر مستقل مزاجی نہ رہنے کی وجہ سے مکمل طور پر عمل چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
* دنیاوی مشاغل میں انہماک
مال، کاروبار اور معاشرتی مصروفیات میں ضرورت سے زیادہ مشغولیت انسان کو آخرت کی تیاری سے غافل کر دیتی ہے۔
* نیکی کی لذت سے محرومی
جب دل میں اخلاص کم ہو جاتا ہے تو عبادت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، نتیجتاً عمل کا تسلسل برقرار نہیں رہتا۔
اسلافِ امت کی آراء
امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
استقامت ہزار کرامتوں سے بہتر ہے، کیونکہ کرامت عارضی ہوتی ہے جبکہ استقامت بندگی کا مستقل راستہ ہے۔
حسن بصری فرماتے ہیں:
مومن کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کبھی نیکی نہ چھوڑے، بلکہ پہچان یہ ہے کہ جب بھی لغزش ہو فوراً سنبھل جائے۔
نیکی میں تسلسل کیسے قائم رکھا جائے؟
* کم مگر مستقل عبادت
روزانہ تھوڑا عمل بھی مستقل کیا جائے تو وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتا ہے اور انسان کے لیے آسان بھی رہتا ہے۔
* نیک صحبت
صالحین کی مجلس انسان کے ایمان کو تازگی دیتی ہے اور نیکی کی طرف رغبت بڑھاتی ہے۔
* تلاوتِ قرآن کا معمول
روزانہ قرآن کی تلاوت دل کو زندہ رکھتی ہے اور ہدایت و استقامت کا ذریعہ بنتی ہے۔
* اذکار و دعا کا اہتمام
اللہ کا ذکر دل کو مضبوط کرتا ہے اور انسان کو گناہوں سے بچا کر نیکی پر قائم رکھتا ہے۔
* فوری توبہ
لغزش ہو جانے کی صورت میں فوراً توبہ کر لینا شیطانی وسوسوں کو کمزور کرتا اور نیکی کی راہ پر واپس لے آتا ہے۔
* محاسبۂ نفس
روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لینے سے انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہوتا ہے اور اصلاح کی فکر پیدا ہوتی ہے۔
اختتامیہ
نیکی کا راستہ صبر، مجاہدہ اور مستقل مزاجی کا راستہ ہے۔ شیطان انسان کو وقتی جوش میں مبتلا کر کے تھکا دیتا ہے تاکہ وہ نیکی کو چھوڑ دے۔ کامیاب مومن وہ ہے جو اعتدال، حکمت اور استقامت کے ساتھ عبادت کرتا رہے۔
دعا
اللّٰهُمَّ أَعِنَّا عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، وَوَفِّقْنَا لِلاِسْتِقَامَةِ بَعْدَ رَمَضَانَ۔
اے اللہ! ہمیں اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت کی توفیق عطا فرما اور رمضان کے بعد بھی استقامت نصیب فرما۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نیکی کی بات پھیلانا صدقہ ہے۔ آئیے دین کی اشاعت اور بھلائی کے کاموں میں ہمارا ساتھ دیں۔