نیکی میں تھکن اور سستی کیوں آتی ہے؟ نفساتی و روحانی اسباب | قسط 181 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore why we feel laziness (Kasal) in performing good deeds, the psychological tactics of Nafs, and its spiritual remedies in Islam by Dr. Wajid Irshad."


نیکی میں تھکن اور سستی کیوں آتی ہے؟ نفساتی و روحانی اسباب اور ان کا شرعی حل
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 181)
1۔ تمہید (Introduction)
انسانی زندگی میں بسا اوقات ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جہاں نماز پڑھنا، قرآن کی تلاوت کرنا یا کوئی بھی نیک کام کرنا بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ شروع شروع میں جس عبادت میں دل لگتا تھا اور ایک خاص سرور حاصل ہوتا تھا، رفتہ رفتہ اس کی جگہ ایک عجیب سی بے دلی، تھکن اور اکتاہٹ لے لیتی ہے۔ دورِ حاضر کا ایک بڑا پوشیدہ المیہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس سستی اور تھکن کو اپنی جسمانی کمزوری یا وقت کی قلت کا نام دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ نفس کی ایک گہری بیماری اور باطنی انحطاط کی علامت ہوتی ہے۔
قرآن و سنت کا انقلابی منہج ہمیں یہ فکری شعور عطا کرتا ہے کہ نفسِ انسانی فطرتاً سستی، آرام طلبی اور شہوات کی طرف مائل ہوتا ہے۔ جب ہم نفس کی باطنی تربیت کیے بغیر اس پر نیکیوں کا بوجھ ڈالتے ہیں، یا جب ہمارے دل گناہوں کی آلودگی سے سخت ہو جاتے ہیں، تو نفس نیکی کے راستے میں تھکن اور رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کے سفر میں یہ باطنی تھکن اور تعطل کیوں پیدا ہوتا ہے؟ نفس کے وہ کون سے خفیہ حربے ہیں جو ہمیں عبادت سے دور کرتے ہیں؟ اور اس کا پائیدار شرعی و نفساتی حل کیا ہے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی ہمیں نفس کی فطرت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سستی اور منافقانہ طرزِ عمل سے بچنے کی تاکید فرماتا ہے:
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا (سورۃ النساء: 142)
بیشک منافقین اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور وہ انہیں ان کے دھوکے کا بدلہ دینے والا ہے، اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑے سست (اور تھکے ہارے) ہو کر کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (سورۃ العنکبوت: 69)
اور جن لوگوں نے ہمارے راستے میں (اپنے نفس کے خلاف) مجاہدہ کیا، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھائیں گے، اور بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں نفس کی اس باطنی کیفیت (شوق کے بعد سستی) کی حقیقت بتاتے ہیں اور اعتدال کی رہنمائی فرماتے ہیں:
• ہر عمل کے جوش کے بعد ایک سستی ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ كَانَتْ إِلَى غَيْرِ ذَٰلِكَ فَقَدْ هَلَكَ" (مسند احمد، رقم الحدیث: 6477، شعیب الارنؤوط نے اسے حسن کہا ہے)
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک ہر عمل کے لیے ایک جوش و رغبت ہوتی ہے، اور ہر جوش کے بعد ایک سستی (اور تھکن) ہوتی ہے، پس جس کی یہ سستی میری سنت کے دائرے میں رہے (یعنی فرائض و سنن قائم رہیں) وہ ہدایت پا گیا، اور جس کی سستی اس کے علاوہ (یعنی گناہوں کی طرف) لے جائے وہ ہلاک ہو گیا۔
• سستی اور کاہلی سے پناہ کی نبویؐ دعا
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ..."
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2823)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ! میں عاجزی (بے بسی) اور سستی (کاہلی) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
4۔ نیکی میں تھکن اور سستی آنے کے چار باطنی اسباب (Why Soul Tires)
نفس کے اندر عبادت کے تئیں بوجھ اور اکتاہٹ پیدا ہونے کے پیچھے یہ چار بنیادی امراض ہوتے ہیں:
1. لائٹ گناہوں کی کثرت (دل کا زنگ): جب انسان صغیرہ گناہوں، جھوٹ، یا اسکرین پر بدنگاہی کو ہلکا سمجھ کر بار بار کرتا ہے، تو دل پر سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے، جو نیکی کی حلاوت چھین کر تھکن پیدا کرتا ہے۔
2. ریاکاری اور تعریف کی عادت (Lack of Sincerity): جب انسان نیکی صرف لوگوں کی واہ واہ یا کسی دنیاوی مقصد کے لیے کرتا ہے، تو اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے نفس بہت جلد تھک جاتا ہے۔
3. شدت پسندی اور بے اعتدالی (Overburdening): نفس کو بتدریج عادی بنانے کے بجائے یکدم نفل عبادتوں کا اتنا بوجھ ڈال دینا جسے سنبھالنا مشکل ہو، نفس کا ردعمل تھکن کی صورت میں نکلتا ہے۔
4. غفلت کی غذائیں اور فضول گوئی: پیٹ بھر کر کھانا، لایعنی محفلوں میں بیٹھنا اور ہر وقت دنیا کی باتیں کرنے سے روح مردہ ہو جاتی ہے اور وہ نیکی کے لیے بیدار نہیں ہو پاتی۔
5۔ نفس کی سستی دور کرنے اور نیکی قائم رکھنے کے پانچ عملی طریقے (Strategies)
عبادت میں دوبارہ سرور حاصل کرنے اور نفس کے مکر سے بچنے کے لیے ان پانچ حصاروں کو اپنائیں:
الف) فرائض پر مضبوطی اور نفل میں تدریج:
جب نفس سست ہو، تو نفل عبادتوں کو تھوڑا کم کر دیں مگر فرائض، واجبات اور سننِ مؤکدہ پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ نفس کو پیار سے بتدریج (Step by Step) نیکی کا عادی بنائیں۔
ب) تنہائی کے گناہوں سے سخت پرہیز:
اپنے موبائل اور تنہائی کو پاکیزہ رکھیں۔ نیکی میں تھکن کا سب سے بڑا سبب تنہائی کے گناہ ہیں۔ جب ظاہر اور باطن ایک ہو جائیں گے، تو عبادت بوجھ نہیں بنے گی۔
ج) نیتوں کی روزمرہ تجدید (Renew Sincerity):
کوئی بھی نیکی کرنے سے پہلے اور اس کے دوران اپنے دل کو ٹٹولیں کہ میں یہ صرف اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔ اخلاص نفس کی تھکن کا بہترین علاج ہے۔
د) مسنون دعاؤں اور استغفار کا مستقل وِرد:
صبح و شام کی دعاؤں میں سستی اور عاجزی سے پناہ مانگنے والی مسنون دعا (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ) کو کثرت سے پڑھیں اور روزانہ استغفار کریں۔
ہ) نیکی کے اخروی انعامات کا استحضار:
جب بھی نماز یا تلاوت میں سستی محسوس ہو، فوراً ذہن میں لائیں کہ اس کے بدلے رب نے میرے لیے کیا انعام رکھا ہے اور موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ انجام پر نظر نفس کو چست کر دیتی ہے۔
6۔ نیکی میں ثابت قدمی کا حقیقی اور سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ زندگی میں نفس پر قابو پانے اور نیکی قائم رکھنے کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب سخت سردی یا شدید تھکن کا دن ہو، بستر چھوڑنا پہاڑ لگ رہا ہو، تب بھی بندہ نفس کی ایک نہ سنے اور نمازِ فجر کے لیے کھڑا ہو جائے۔
جب نیکی کرنے پر دنیا میں کوئی داد دینے والا نہ ہو، بلکہ لوگ الٹا طنز کر رہے ہوں، تب بھی بندہ خاموشی سے اپنے رب کے لیے وہ عمل جاری رکھے۔
جب نفس گناہ کی طرف پوری طاقت سے مائل ہو رہا ہو، بندہ اسے نیکی کے کسی کام میں زبردستی مصروف کر دے۔
7۔ نفس کے خلاف مجاہدہ کرنے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو بندہ نفس کی سستی اور تھکن کو شکست دے کر نیکی پر ڈٹا رہتا ہے، اسے یہ انعامات حاصل ہوتے ہیں:
نفسِ مطمئنہ کا عظیم رتبہ: بار بار کے مجاہدے سے نفسِ امارہ (برائی پر اکسانے والا) شکست کھا جاتا ہے اور نفسِ مطمئنہ کا مقام حاصل ہوتا ہے جہاں نیکی میں ہی سکون ملتا ہے۔
عبادت کی سچی حلاوت اور سرور: اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ایمان اور عبادت کا ایسا ذائقہ ابل دیتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی لذت اس کے سامنے ہیچ لگتی ہے۔
خاتمہ بالخیر اور جنت کا پروانہ: جو شخص سستی کے دور (فترہ) میں بھی شریعت کی حدود میں رہا، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اسے جنتی راستوں کی ہدایت دیتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ نیکی میں تھکن کا آنا کوئی اچھوتی بات نہیں ہے، یہ انسانی نفس کی فطرت کا ایک حصہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اس سستی کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں، بلکہ اسے نفس کی چال سمجھ کر اس کا علاج کریں۔ نیکی کا سفر کوئی عارضی جوش نہیں بلکہ ایک طویل مسلسل جدوجہد (مجاہدہ) کا نام ہے۔ اگر ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں، عبادت میں اعتدال اپنائیں اور اخلاص کو اپنا شعار بنا لیں، تو نفس کی یہ عارضی تھکن بہت جلد ایمانی توانائی میں بدل جائے گی۔ آئیے آج ہی سے اپنے نفس کے خلاف اعلانِ جنگ کریں اور سستی کی زنجیروں کو توڑ کر رب کی بندگی میں سکون تلاش کریں۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر پر، اپنے شکر پر، اور اپنی بہترین بندگی (عبادت) پر میری مدد فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نفس کی سستی کو توڑنے اور باطنی بیداری کا یہ پیغام کسی تھکے ہوئے مسافر کے لیے نئی توانائی بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
