نیکی کے راستے کی رکاوٹیں اور ان کا شرعی حل | سلسلہ عملی اصلاح قسط 170 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Identify the spiritual and psychological barriers in the path of doing good deeds. Read the comprehensive Islamic solutions by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/19/20261 min read

فکری سدِ راہ: نیکی کے راستے کی باطنی و ظاہری رکاوٹیں اور ان کا شرعی حل

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: عملی اصلاح (قسط نمبر: 170)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی میں خیر اور شر کی کشمکش ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ جب بھی کوئی انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرنے، اپنی زندگی کو دین کے سانچے میں ڈھالنے یا کوئی بھی نیکی کا کام شروع کرنے کا پختہ ارادہ کرتا ہے، تو اچانک اس کے سامنے رکاوٹوں، سستیوں اور تاویلوں کی ایک طویل دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حالات سازگار نہیں ہیں یا وقت کی کمی ہے، لیکن حقیقت میں یہ رکاوٹیں کچھ باطنی نفسیاتی گرہیں اور کچھ بیرونی عوامل ہوتے ہیں جن کا مقصد انسان کو صراطِ مستقیم سے دور رکھنا ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ نیکی کا سفر شروع تو کرتے ہیں لیکن انھی رکاوٹوں سے دلبرداشتہ ہو کر آدھے راستے میں ہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ عصرِ حاضر کے ڈیجیٹل اور پُرکشش ماحول میں، جہاں گناہ آسان اور نیکی مشکل معلوم ہوتی ہے، ان رکاوٹوں کو پہچاننا اور ان کا علمی و شرعی حل تلاش کرنا تزکیہ اور اصلاحِ احوال کے لیے ناگزیر ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم انھی رکاوٹوں کا تفصیلی اور عملی جائزہ لیں گے۔

2۔ الٰہی میزان اور قرآنی نکتۂ نظر (The Qur'anic Guidance)

قرآنِ مجید نے نیکی کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں، شیطانی چالوں اور ان کے مقابلے میں مؤمن کی استقامت کو نہایت بصیرت افروز انداز میں بیان کیا ہے:

الف) شیطان کا انسان کو سیدھے راستے سے روکنے کا چیلنج

قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ (سورۃ الاعراف: 16-17)

(ابلیس نے) کہا: پس اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان (انسانوں) کی گھات میں تیرے سیدھے راستے پر ضرور بیٹھوں گا، پھر میں ان کے پاس ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے آؤں گا۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نیکی کے راستے میں آنے والی سستی اور رکاوٹیں دراصل شیطان کا وہ باقاعدہ محاصرہ ہے جس کا اس نے عہد کر رکھا ہے۔

ب) نیکی کے راستے میں جان و مال کی آزمائش

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ (سورۃ البقرہ: 214)

کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم (یوں ہی) جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسے حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے؟ انہیں سخت تنگیوں اور مصیبتوں نے آ گھیرا تھا۔

رکاوٹیں اور مشقتیں دراصل نیکی کے خلوص کو جانچنے کا الٰہی پیمانہ ہیں۔

ج) دنیاوی محبت کا نیکی پر غالب آنا

كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ (سورۃ القیامہ: 20-21)

ہرگز نہیں! بلکہ تم دنیا کی عاجلانہ (فوری ملنے والی) زندگی سے محبت رکھتے ہو، اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔

دنیا کی عارضی لذتوں کا فوری حصول، آخرت کی ابدی نیکیوں کے راستے کی سب سے بڑی نفسیاتی رکاوٹ ہے۔

3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں عملی سدِ باب (Prophetic Insights)

رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے ارشادات اور طرزِ زندگی کے ذریعے مؤمنین کو ان پوشیدہ رکاوٹوں سے آگاہ فرمایا جو انسان کو عملِ خیر سے دور کرتی ہیں:

الف) نیکی میں تاخیر اور فتنوں کا ظہور

بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 118)

اندھیری رات کے ٹکڑوں کی مانند (آنے والے) فتنوں سے پہلے نیکی کے اعمال کرنے میں جلدی کرو۔

حالات کا انتظار کرنا اور نیکی کو کل پر ٹالنا انسان کو فتنوں کی نذر کر دیتا ہے، اس لیے عمل میں تعجیل ہی رکاوٹوں کا بہترین علاج ہے۔

ب) سستی اور کاہلی سے پناہ مانگنا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6363)

اے اللہ! میں عاجزی، سستی، بزدلی اور انتہائی بڑھاپے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

سید الانبیاء ﷺ کا اس باقاعدہ دعا کا اہتمام فرمانا یہ ثابت کرتا ہے کہ سستی (کسل) وہ پوشیدہ اندرونی آفت ہے جو انسان کو نیکی کی توفیق سے محروم کر دیتی ہے۔

4۔ نیکی کے راستے کی 4 بڑی رکاوٹیں اور ان کا تجزیہ

اگر ہم اپنی عملی زندگی کا گہرا جائزہ لیں، تو نیکی کے سفر میں درج ذیل چار بڑی رکاوٹیں حائل نظر آتی ہیں:

1. طولِ امل اور تسویف (Procrastination): "کل سے نماز شروع کروں گا"، "رمضان کے بعد سچی توبہ کروں گی"— نیکی کو مستقل طور پر مستقبل پر ٹالتے رہنا شیطان کا سب سے کاری حربہ ہے، جو انسان کو اسی حالت میں موت کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔

2. برے دوستوں اور ماحول کا اثر (Negative Social Circle): انسان کتنی ہی نیکی کی کوشش کر لے، اگر اس کے اردگرد موجود لوگ دنیا پرست، غافل اور گناہوں میں مگن ہوں، تو وہ اس کے اندر کی ایمانی چنگاری کو آہستہ آہستہ بجھا دیتے ہیں۔

3. گناہوں کی کثرت کا باطنی بوجھ (The Weight of Sins): جب انسان گناہوں کی دلدل میں دھنس جاتا ہے، تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ گناہ کی یہ کثافت روح کو اس قدر بوجھل کر دیتی ہے کہ نماز، تلاوت اور ذکرِ الٰہی جیسے اعمالِ خیر اس پر پہاڑ کی طرح بھاری محسوس ہونے لگتے ہیں۔

4. مال و اولاد کا فتنہ اور غفلت: دنیاوی مصروفیات، کاروبار کی وسعت، بچوں کے مستقبل کی فکر اور مادی آسائشوں کی دوڑ میں انسان اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے اپنے باطن کی صفائی اور آخرت کے مستقل توشے کے لیے وقت ہی نہیں مل پاتا۔

5۔ رکاوٹوں کو عبور کرنے کا عملی و اصلاحی لائحہ عمل (Action Plan)

اگر آپ نیکی کے راستے پر استقامت چاہتے ہیں اور ان رکاوٹوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تو ان چار سنہری اصولوں کو اپنائیں:

اول: "پانچ منٹ کا اصول" (The Immediate Action)

جب بھی دل میں کسی نیکی کا خیال آئے (مثلاً قرآن کھولنے کا، صدقہ دینے کا یا نماز کے لیے اٹھنے کا)، تو عقل کو سوچنے اور تاویلیں تراشنے کا موقع دیے بغیر فوراً عمل کر ڈالیں۔ نفس کو جتنا زیادہ وقت سوچنے کا ملے گا، وہ اتنی ہی رکاوٹیں کھڑی کرے گا۔

دوم: صحبتِ صالحین اور ماحول کی تبدیلی

اپنے دوستوں کے حلقے کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اختیار کریں جو آپ کو اللہ کی یاد دلائیں اور جنہیں دیکھ کر آپ کے اندر بھی نیکی کا شوق پیدا ہو۔ ماحول کی تبدیلی آدھی اصلاح کے مترادف ہے۔

سوم: نیکیوں میں تسلسل، خواہ وہ کم ہوں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جو مستقل ہو، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے نیک اعمال (جیسے روزانہ ایک صفحہ قرآن کی تلاوت یا صبح و شام کے اذکار) کو فکس کر لیں اور حالات جیسے بھی ہوں، انہیں ترک نہ کریں۔

6۔ اختتامیہ (Conclusion)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نیکی کا راستہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے؛ اس راستے پر کانٹے، رکاوٹیں اور آزمائشیں آنا لازمی ہیں۔ اصل مؤمن وہ نہیں ہے جو رکاوٹوں کو دیکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ سچا مؤمن وہ ہے جو اپنے رب کے بھروسے پر ان رکاوٹوں کو پھلانگ کر آگے بڑھ جائے۔

آج اگر آپ کو دین پر چلنے میں سستی محسوس ہو رہی ہے، تو سمجھ جائیں کہ یہ باطنی جنگ کا آغاز ہے۔ ہمت مت ہاریے، توبہ کے ذریعے اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کیجیے اور ایک نئے عزم کے ساتھ خیر کے سفر پر چل پڑیے۔ دنیا کی یہ عارضی مشقتیں ختم ہو جائیں گی، لیکن ان کے بدلے جو ابدی سکون اور الٰہی رضا حاصل ہوگی، وہی ہماری زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 1522)

"اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں، تیرا شکر ادا کروں اور بہترین طریقے سے تیری عبادت بجا لاؤں۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

اصلاحِ معاشرہ اور فکری بیداری کے اس پیغام کو آگے پہنچا کر صدقہ جاریہ میں اپنا حصہ ڈالیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.