نبی ﷺ کا صبر اور حکمت - بحرانوں میں نبوی استقامت، بصیرت اور ہماری زندگی کے لیے سبق | قسط 223 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Comprehensive Islamic guide on the patience and wisdom of Prophet Muhammad (PBUH). Practical lessons on fortitude, strategic planning, and emotional intelligence by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/11/20261 min read

نبی ﷺ کا صبر اور حکمت - بحرانوں میں نبوی استقامت، بصیرت اور ہماری زندگی کے لیے سبق

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: سیرت النبی ﷺ (قسط نمبر: 223)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی نشیب و فراز، آزما ئشوں اور چیلنجز سے عبارت ہے۔ دنیا میں کوئی بھی مقصد یا دعوت بغیر صبر، استقامت اور حکمتِ عملی کے کامیابی کے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ دعوتِ دین اور اصلاحِ معاشرہ کی سخت ترین جدوجہد میں جو دو صفات سب سے بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، وہ "صبر" (Patience & Fortitude) اور "حکمت" (Wisdom & Strategy) ہیں۔ صبر انسان کو مصائب و مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے، جبکہ حکمت اسے نامساعد حالات میں بھی درست فیصلے کرنے اور مقاصد حاصل کرنے کی بصیرت عطا کرتی ہے۔

سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی صبرِ جمیل اور حکمتِ بالغہ کا شاہکار تھی۔ مکہ کے مظالم، شعبِ ابی طالب کی محصوری، طائف کی وادی میں پتھروں کی برسات، احد کی گھاٹی کا زخم، اور منافقین کی سازشیں—ان تمام سنگین حالات میں آپ ﷺ نے جس صبر اور حکمت کا مظاہرہ فرمایا، اس نے نہ صرف کفر و شرک کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ تاریخِ عالم کا رخ موڑ دیا۔ عصرِ حاضر میں جب انسان معمولی ناکامی، پریشانی یا تنقید پر آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور جلد بازی یا جذباتیت کا شکار ہو کر اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے، نبوی صبر و حکمت ہمارے لیے راہِ نجات بن کر سامنے آتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیرتِ طیبہ کی روشنی میں نبوی صبر اور حکمت کے بنیادی مفاہیم اور عملی مظاہر کیا ہیں؟ اور ہم اپنی روزمرہ، خاندانی اور اجتماعی زندگی کے بحرانوں میں نبوی بصیرت سے کیسے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی اور تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کو صبر کی تلقین فرمائی اور حکمت کو خیرِ کثیر کا نام دیا ہے:

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ   (سورۃ الأحقاف: 35)

پس (اے حبیب!) آپ اسی طرح صبر کیجیے جیسے عالی ہمت رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے (عذاب میں) جلدی نہ کیجیے۔

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا   (سورۃ البقرۃ: 269)

وہ جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے، اور جسے حکمت عطا کی گئی تو بیشک اسے بہت بڑی خیر (اور نفع) عطا کر دی گئی۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے صبر کو مومن کا روشن ہتھیار اور بہترین عطیہ قرار دیا ہے:

• صبر سے بڑا کوئی عطیہ نہیں

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "...وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ"

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1469 / صحیح مسلم)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "...اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور اس سے زیادہ وسعت والا کوئی عطیہ نہیں دیا گیا۔"

• حکمت اور تدبر کی نبوی تعلیم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا"

(جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2687)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حکمت کی بات مومن کی گم شدہ میراث ہے، وہ جہاں بھی اسے پائے، وہ اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔"

4۔ نبی ﷺ کا صبر اور حکمت: 4 درخشندہ عملی واقعات

سیرتِ طیبہ میں نبوی صبر اور حکمت ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں:

1۔ وادیِ طائف کا واقعہ (صبر اور عالی ظرفی):

طائف میں شدید زخمی ہونے کے بعد جب پہاڑوں کے فرشتے نے حاضر ہو کر اجازت چاہی کہ ان بستیوں کو پہاڑوں کے درمیان پیس دیا جائے، تو آپ ﷺ نے فرما دیا: "نہیں! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے"۔ یہ صبرِ جمیل اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا شاہکار تھا۔

2۔ صلحِ حدیبیہ کا معاہدا (حکمت اور دور اندیشی):

ظاہری طور پر دب کر کی جانے والی شرائط پر صحابہ میں بے چینی تھی، لیکن آپ ﷺ کی نبوی حکمت نے اسے "فتح مبین" دیکھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے امن نے اسلام کے لیے تمام عرب کے دروازے کھول دیے۔

3۔ فتحِ مکہ پر درگزر (استقامت کا نتیجہ):

تیرہ سال مکہ میں ظلم سہنے کے بعد جب طاقت آپ ﷺ کے ہاتھ میں آئی، تو آپ ﷺ نے انتقام کی جگہ عفو و درگزر اور حکمتِ عملی سے دلوں کو فتح کر لیا۔

4۔ خانگی اور اجتماعی ناگواریوں پر ضبط:

گھر کے معاملے ہوں یا صحابہ کی باہمی لغزشیں، آپ ﷺ کبھی جذبات میں آ کر فیصلہ نہیں فرماتے تھے بلکہ صبر اور نرم تدبیر سے اصلاح فرماتے تھے۔

5۔ نبوی اسوے کے مقابلے میں ہمارا رویہ (The Core Difference)

سیرتِ طیبہ کے آئینے میں اگر ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں تو یہ تضاد سامنے آتا ہے:

1۔ مشکلات اور تنقید کا سامنا:

ہمارا رویہ: معمولی مخالفت یا نقصان پر مشتعل ہونا، بدزبانی کرنا اور ہمت ہار جانا۔

نبوی اسوہ: خاموشی، برداشت، اللہ سے رجوع اور مستقل مزاجی سے کام جاری رکھنا۔

2۔ فیصلے اور لائحہ عمل:

ہمارا رویہ: جذباتیت، جلد بازی اور بنا سوچے سمجھے ردِعمل (Reaction) دینا۔

نبوی اسوہ: ٹھنڈے دل سے غور و فکر، دور اندیشی، اور مستقبل کے اثرات کو پیشِ نظر رکھنا۔

3۔ مقصد میں پیش رفت:

ہمارا رویہ: فوری نتائج کی چاہت اور نہ ملنے پر مایوس ہو کر کام چھوڑ دینا۔

نبوی اسوہ: نتایج کو اللہ کے سپرد کر کے حکمت سے مسلسل جدوجہد کرنا۔

6۔ نبوی صبر اور حکمت کو زندگی میں اپنانے کے 5 عملی قدم (Practical Steps)

اپنی شخصی، معاشی اور خاندانی زندگی میں نبوی صبر و حکمت کو نافذ کرنے کے لیے ان پانچ اقدامات پر عمل کریں:

الف) غصے کے وقت 'پاز' (Pause) لینا: جب بھی کوئی ناگوار بات سامنے آئے، فوری ردِعمل دینے کے بجائے کچھ دیر خاموشی اختیار کریں اور 'اعوذ باللہ' پڑھیں۔

ب) جذبات پر عقل و شریعت کو مقدم رکھنا: کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت وقتی جذبات کے بجائے اس کے طویل المدتی نتائج اور شرعی حدود پر غور کریں۔

ج) تنقید کا جواب عمل سے دینا: مخالفت اور تنقید پر الجھنے اور بحث میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے کام اور اخلاق سے اپنا موقف ثابت کریں۔

د) مشورے کی عادت (Synergy & Shoora): معاشی یا خاندانی بحرانوں میں اپنے بزرگوں اور مخلص اہل علم و خبرہ سے مشورہ کر کے فیصلہ کریں۔

ہ) نتائج میں صبر اور توکل: اپنی پوری کوشش اور بہترین حکمتِ عملی کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں اور ہر حال میں شکر اور صبر کا دامن تھامے رکھیں۔

7۔ صبر اور حکمت اپنانے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان اور معاشرہ نبوی صبر و حکمت کو اپنا شعار بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم برکات عطا فرماتا ہے:

• اللہ کی معیت اور نصرت: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ "بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔

• بحرانوں میں کامیابی: حکمتِ عملی سے کام لینے والا انسان بڑے سے بڑے معاشی و معاشرتی بحران سے باحفاظت نکل جاتا ہے۔

• دنیا و آخرت کی قیادت: صبر اور یقین ہی انسان کو دینی و دنیوی پیشوائی اور عزت کا مقام عطا کرتے ہیں۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ نبیِ کریم ﷺ کا صبر اور حکمت محض پڑھنے اور سنانے کے واقعات نہیں، بلکہ یہ زندگی کے سخت ترین طوفانوں میں ساحلِ مراد تک پہنچنے کا حتمی راستہ ہیں۔ آج ہمارے گھروں، اداروں اور معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر تنازعات اور معاشی و نفسیاتی مسائل کی وجہ جلد بازی، عدمِ برداشت اور حکمت سے محرومی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں برکت، استقامت اور کامیابی آئے تو ہمیں اپنے فیصلوں میں نبوی بصیرت اور اپنے اخلاق میں نبوی صبر پیدا کرنا ہوگا۔ آئیے! ہم سب یہ عزم کریں کہ ہم حالات کی سختیوں پر صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور اپنے تمام معاملات کو حکمت، تدبر اور سنجیدگی کے سانچے میں ڈھالیں گے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا، اللَّهُمَّ آتِنَا الْحِكْمَةَ الَّتِي مَنْ أُوتِيَهَا فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا، اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ، وَارْزُقْنَا الاِسْتِقَامَةَ عَلَى دِينِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ۔

اے اللہ! ہم پر صبر کا فیضان فرما، ہمارے قدموں کو ثبات عطا فرما، اور ہمیں وہ حکمت و بصیرت عطا کر جو خیرِ کثیر کا ذریعہ ہے۔ اے اللہ! ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے صبر اور حکمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق دے، اور ہر آزمائش میں ہمیں سرخرو فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نبی کریم ﷺ کے صبر اور حکمتِ عملی کا یہ پیغام کسی پریشان حال اور حالات سے گھبرائے ہوئے انسان کے لیے استقامت اور فکری بیداری کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.