نحوست کے تصورات: کہاں سے آئے؟ فکری مغالطے، تاریخی پس منظر اور اسلامی رد | قسط 189 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Discover the historical origins of bad omens and superstitions (Nahoosat), psychological misconceptions, and the authentic Islamic response based on Tawheed by Dr. Wajid Irshad."


نحوست کے تصورات: کہاں سے آئے؟ فکری مغالطے، تاریخی پس منظر اور اسلامی رد
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 189)
1۔ تمہید (Introduction)
انسان جب توحیدِ خالص اور عقلِ سلیم کا دامن چھوڑتا ہے، تو وہ موہوم خوف اور توہمات کی دلدل میں جا گرتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں انسان کسی نہ کسی صورت میں "نحوست" (Ill Omen / Misfortune) کے تصورات کا شکار رہا ہے۔ کبھی کسی خاص مہینے (جیسے صفر)، کبھی مخصوص دنوں (جیسے منگل یا 13 تاریخ)، کبھی پرندوں کی آوازوں (جیسے الو یا کوّا)، اور کبھی محض حوادثِ روزگار کو کسی چیز یا شخص سے جوڑ کر نحس قرار دیا جاتا رہا ہے۔ عصرِ حاضر کے اس سائنسی اور ڈیجیٹل دور میں بھی، جہاں انسان چاند اور مریخ پر پہنچ چکا ہے، نحوست اور بدشگونی کے یہ باطل تصورات معاشرے کی روح میں سرائیت کیے ہوئے ہیں۔
فکری اور علمی زاویے سے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ نحوست کے یہ تصورات آخر کہاں سے آئے؟ ان کی تاریخی جڑیں کیا ہیں؟ اور وہ کون سے فکری مغالطے ہیں جن کی وجہ سے انسانی ذہن ان توہمات کو سچ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے؟ بنیادی طور پر نحوست کا تصور جاہلی اقوام، قدیم مشرکانہ مذاہب، اور نجوم پرستی کی باقیات ہے، جسے اسلام کے دیے ہوئے عقیدۂ توحید نے بالکل باطل قرار دیا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کائنات کی ہر حرکت، نفع و نقصان، اور خیر و شر کا خالق و مالک صرف اللہ رب العزت ہے۔ کسی چیز میں ذاتی طور پر نحوست ماننا دراصل خالق کے بجائے مخلوق میں اثر تسلیم کرنا ہے جو فکری گمراہی کی انتہا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم نحوست کے تاریخی مآخذ اور اس کے اسلامی و عقلی ابطال کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی میں قدیم جاہلی اقوام (مثلاً قومِ فرعون اور قومِ صالح) کی اس فکری بیماری کا ذکر فرمایا گیا ہے جو انبیاء اور الٰہی احکام کو اپنے لیے "نحس" سمجھتی تھیں:
فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (سورۃ الاعراف: 131)
پھر جب ان پر خوشحالی آتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہی ہے، اور اگر انہیں کوئی برائی (تکلیف) پہنچتی تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں سے بدشگونی (نحوست) لیتے، سن لو! ان کی بدشگونی کا سبب تو اللہ کے پاس ہے (یعنی ان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے) لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ ۚ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ (سورۃ یٰسین: 19)
(رسولوں نے) کہا: تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ ہے (یعنی تمہاری اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے ہے)، کیا اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو تم اسے نحوست سمجھتے ہو)؟ بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ نے نحوست کے جاہلی تصورات کی جڑیں کاٹتے ہوئے واضح فرمایام کہ اسلام میں کسی چیز کی ذاتی نحوست کی کوئی گنجائش نہیں:
• اسلام میں نحوست یا بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ: الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5756 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2224)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیماری کا خود سے متعدی ہونا کوئی چیز نہیں اور نہ ہی بدشگونی (نحوست) کی کوئی حقیقت ہے، اور مجھے اچھا فال (نیک فال) پسند ہے، یعنی پاکیزہ اور اچھی بات۔
• نحوست کا ماننا انسان کو توکل سے دور کرتا ہے
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غَوْلَ"(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2222)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ بیماری کا متعدی ہونا بذاتِ خود کوئی چیز ہے، نہ بدشگونی (نحوست) کی کوئی حقیقت ہے، اور نہ ہی غول (آسیب/بھوت کے ڈر) کی کوئی حقیقت ہے۔
4۔ نحوست کے 3 تاریخی اور فکری مآخذ (Origins of Superstition)
نحوست کا تصور تاریخ کے ان تین بنیادی ذرائع سے انسانوں میں منتقل ہوا:
1۔ قدیم جاہلیت اور شرک (Ancient Paganism):
قدیم مجوسی، یونانی اور جاہلی عرب کائنات کی طاقتوں کو مدبر سمجھتے تھے۔ وہ ستارے، پرندے اور مخصوص ایام کو دیوتاؤں کا مظہر مان کر ان سے خیر و شر منسلک کرتے تھے۔ پرندہ دائیں طرف اڑتا تو خوش شگونی، بائیں اڑتا تو نحوست۔
2۔ علمِ نجوم اور ستاروں کی پرستش (Astrology & Fate):
سیاروں کے طلوع و غروب کو انسانی نفع و نقصان کا ذمہ دار ماننا نحوست کا بڑا منبع رہا۔ زحل یا مریخ کی گردش کو نحس سمجھنے سے ہی دنوں اور مہینوں کی نحوست کے نظریات نے جنم لیا۔
3۔ انسان کی باطنی ذمہ داری سے فرار (Psychological Scapegoating):
جب انسان اپنی کوتاہی، گناہ یا غلط فیصلے سے نقصان اٹھاتا ہے، تو نفسانی انا کے تحت وہ اس کا الزام اپنی ذات کے بجائے کسی دن، مہینے، یا شخص کی "نحوست" پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتا ہے۔
5۔ توہم پرستی اور اسلامی توحید کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
نحوست پر یقین رکھنے اور خالص ایمانی فکر کے درمیان یہ بنیادی فرق ہے:
1۔ بنیادی عقیدہ:
نحوست کا باطل تصور (Superstitious Mindset): نفع و نقصان کا سبب اشیاء، ایام، مہینوں یا پرندوں میں تلاش کرنا۔
خالص توحیدی فکر (Islamic Monotheism): نفع و نقصان کا واحد مالک و متصرف صرف اللہ رب العزت ہے۔
2۔ مصائب کی وجہ:
نحوست کا باطل تصور (Superstitious Mindset): صفر کے مہینے، کسی خاص دن یا کسی شخص کے قدم کو پریشانی کا سبب ماننا۔
خالص توحیدی فکر (Islamic Monotheism): تکلیف کو الٰہی تقدیر، انسانی آزمائش یا ذاتی گناہوں کا نتیجہ سمجھنا۔
3۔ عملی رویہ:
نحوست کا باطل تصور (Superstitious Mindset): باطنی خوف، گھبراہٹ کا شکار ہونا اور جائز کاموں سے رک جانا۔
خالص توحیدی فکر (Islamic Monotheism): توکل علی اللہ، حسنِ ظن، امید اور کام کا بلا خوف جاری رکھنا۔
4۔ فال / شگونی:
نحوست کا باطل تصور (Superstitious Mindset): برے شگون اور توہمات سے ڈرنا اور وہم میں مبتلا رہنا (الطیرۃ)۔
خالص توحیدی فکر (Islamic Monotheism): اچھی، مثبت اور پرامید بات پر خوش ہونا اور آگے بڑھنا (الفأل الحسن)۔
6۔ نحوست کی فکر کا خاتمہ: 5 عملی اقدامات (Strategies)
اپنے معاشرے اور ذہن سے نحوست کے اثرات ختم کرنے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:
الف) سبب اور مسبب کے شرعی رشتے کو سمجھنا:
یہ بات ذہن نشین کریں کہ کوئی بھی چیز بذاتِ خود مؤثر نہیں ہوتی۔ گناہ ہی اصل نحوست لاتے ہیں، دن یا مہینے نہیں۔
ب) "بدشگونی" کے مقابلے میں "نیک فال" (Good Omen) اپنانا:
رسول اللہ ﷺ کو برا شگون ناپسند تھا لیکن آپ ﷺ اچھی اور پرامید بات (الفأل) کو پسند فرماتے تھے۔ مثبت سوچ رکھیں۔
ج) توہم پرستی سے روکے جانے پر کام نہ چھوڑنا:
اگر کسی دن یا وقت میں کام کرنے سے لوگ منع کریں، تو محض اللہ کی توحید پر یقین رکھتے ہوئے اس کام کو مکمل کریں تاکہ باطل نظریے کی نفی ہو۔
د) مسنون دعاؤں کے ذریعے باطنی قوت:
جب بھی کوئی وہم آئے تو کہیں: اللَّهُمَّ لَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ (اے اللہ! تیرے شگون کے سوا کوئی شگون نہیں، اور تیری بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں)۔
ہ) اجتماعی شعور کی بیداری:
خاندانی محفلوں اور سوشل میڈیا پر نحوست سے متعلق پھیلے ہوئے پیغامات کا علمی رد کریں اور لوگوں کو توحید کی طرف لائیں۔
7۔ فکری اصلاح کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
نحوست کے باطل تصورات کو رد کر کے توحید پر قائم ہونے والے کو یہ باطنی و اخروی ثمرات حاصل ہوتے ہیں:
اوہام اور وسوسوں سے مکمل آزادی: انسان کا ذہن غیر ضروری ڈر، خوف اور توہمات سے آزاد ہو کر سکون کی سانس لیتا ہے۔
توکل کا اعلیٰ مقام: انسان کا تعلق براہِ راست رب العزت کی ذات سے جڑ جاتا ہے، جس سے اس کا عزم و حوصلہ بلند ہوتا ہے۔
جنت میں بے حساب داخلہ: رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کے مطابق نحوست نہ ماننے والے اور توکل کرنے والے بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ نحوست کا کوئی وجود نہیں ہے؛ یہ محض جاہلی اقوام کے پیدا کردہ فکری مغالطے ہیں جو انسان کو اللہ کے توکل سے محروم کرتے ہیں۔ کسی چیز، دن، یا انسان میں نحوست تلاش کرنے کے بجائے، انسان کو اپنے باطن اور اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ انسان کے لیے اصل نحوست اس کی اپنی نافرمانیاں اور گناہ ہیں۔ آئیے! اپنے فکر و دانش کو اسلام کی انوارِ توحید سے منور کریں، توہمات کا مردانہ وار مقابلہ کریں اور اپنے معاشرے کو خالص ایمانی شعور عطا کریں۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ، اللَّهُمَّ طَهِّرْ عُقُولَنَا مِنَ الْوَهْمِ وَقُلُوبَنَا مِنَ الشِّرْكِ
اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں لانے والا نہیں، اور تیرے سوا کوئی برائیاں دور کرنے والا نہیں، اور برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی توفیق صرف تیری ہی طرف سے ہے۔ اے اللہ! ہمارے عقول کو وہم سے اور ہمارے دلوں کو شرک سے پاک فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نحوست کے فکری ابطال کا یہ مضمون کسی توہم پرست انسان کی اصلاح اور توحیدِ خالص سے جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
