نبی ﷺ سے تعلق: محبت یا محض عقیدت؟ (ربیع الاول کا حقیقی فکری و عملی پیغام) | قسط 118 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the true relation with Prophet Muhammad (PBUH) in Rabi ul Awal. Distinction between casual devotion (Aqeedat) and practical love (Ittiba) by Dr. Wajid Irshad."


نبی ﷺ سے تعلق: محبت یا محض عقیدت؟ (ربیع الاول کا حقیقی فکری و عملی پیغام)
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: سیرت النبی ﷺ (قسط نمبر: 118 - 1 ربیع الاول)
1۔ ابتدائیہ (Prologue)
ماہِ ربیع الاول اسلامی تاریخ کا وہ مبارک اور تابناک مہینہ ہے جس میں کائنات کے سب سے بڑے محسن، فخرِ موجودات، ختم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اس دنیا میں آمد ہوئی۔ اس ماہِ مبارک کے طلوع ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں عشق و محبت کا بحرِ بے گراں موجزن ہو جاتا ہے۔ درود و سلام کی محافل سجتی ہیں، سیرت النبی ﷺ کے سیمینارز منعقد ہوتے ہیں اور فضائیں نعتِ رسول ﷺ کی دلنشین صداؤں سے معطر ہو جاتی ہیں۔ یہ تمام مظاہر اس بات کا ثبوت ہیں کہ امتِ مسلمہ کا اپنے نبی کریم ﷺ سے رشتہ کتنا گہرا اور جڑواں ہے۔
لیکن اس تمام تر جوش و خروش کے درمیاں ایک بنیادی اور تلخ فکری سوال ہماری توجہ کا طالب ہے: "نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہمارا یہ تعلق محض ایک جذباتی اور روایتی عقیدت ہے یا وہ سچی، متحرک اور انقلابی محبت جو انسان کا زاوایۂ فکر اور طرزِ حیات بدل دیتی ہے؟" عصرِ حاضر میں جب مسلمانوں کی بڑی تعداد اخلاقی زوال، عملی سستی اور دینی احکام سے دوری کا شکار ہے، تو ربیع الاول کا یہ مہینہ ہمیں صرف جشن اور محافل تک محدود رہنے کا پیغام نہیں دیتا، بلکہ اپنے اندرونی تعلق کی گہری خود احتسابی اور فکری اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم سیرتِ مطہرہ، قرآنی تعلیمات اور اسلاف کے اسوے کی روشنی میں "عقیدت" اور "محبت و اتباع" کا تجزیاتی اور اصلاحی جائزہ لیں گے۔
2۔ عقیدت بمقابلہ محبت و اتباع: فکری فرق
تعلقِ رسالت کو صحیح انداز میں سمجھنے کے لیے "محض عقیدت" اور "سچی محبت" کے باطنی اور عملی الفرق کو سمجھنا ناگزیر ہے:
• محض عقیدت (Devotion Without Action):
عقیدت ایک غیر متحرک اور روایتی احترام کا نام ہے۔ عقیدت مند شخص نبی کریم ﷺ کا نام سن کر احترام سے سر جھکاتا ہے، آپ ﷺ کی ذات کے بارے میں ہر بات کو مقدس مانتا ہے اور خاص ایام میں محافل کا اہتمام بھی کرتا ہے؛ لیکن جب اس کی عملی زندگی، روزمرہ معاملات، معاشی لین دین، اور اخلاقیات کا معاملہ آتا ہے تو وہ نبوی تعلیمات سے یکسر غافل نظر آتا ہے۔ اس کی عقیدت اس کے دل اور دماغ کے کسی ایک کونے میں تو محفوظ رہتی ہے، مگر اس کے اخلاق اور کردار پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
• سچی محبت اور اتباع (Love & Emulation):
اس کے برعکس، سچی محبت ایک جاندار، انقلاب انگیز اور مسلسل تحرک پیدا کرنے والی کیفیت کا نام ہے۔ محب اپنے محبوب کے اخلاق، اس کی پسند و ناپسند اور اس کے ہر حکم کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے۔ سچی محبت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے، اپنی خواہشات اور اپنے رویوں کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالے۔
3۔ قرآنی معیار اور نبوی ارشادات (Divine Standard)
قرآن و سنت نے نبی کریم ﷺ سے تعلق کے درست معیار کو انتہائی واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
• محبتِ الٰہی کا شرطِ اول: اتباعِ رسول ﷺ
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (سورۃ آل عمران: 31)
(اے نبی!) آپ فرما دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع (پیروی) کرو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
• سچے ایمان کی نبوی کسوٹی
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ"
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 15 / صحیح مسلم)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
4۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسوہ: محبت کا عملی شاہکار
صحابہ کرام کی زندگیوں کا اگر باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق محض رسمی عقیدت کا نہیں بلکہ محبتِ کاملہ اور اتباعِ مطلق کا بہترین نمونہ تھا:
1۔ فوری تسلیم و رضا:
جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام نے بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تاویل کے مدینہ کی گلیوں میں اپنے مٹکے انڈیل دیے اور برتن توڑ ڈالے۔ یہ ان کی اطاعت اور محبت کا زندہ ثبوت تھا۔
2۔ پسند و ناپسند میں فناء:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب نبی کریم ﷺ کو کدو (کدو شریف) پسند فرماتے دیکھا، تو اس دن کے بعد سے مجھے بھی کدو سے شدید محبت ہو گئی۔ صحابہ کرام آپ ﷺ کی معمولی سے معمولی ادا کو بھی اپنے اندر اتارنے کو سعادت سمجھتے تھے۔
3۔ قربانی اور فداکاری کا جذبہ:
غزوہ احد کے موقع پر جب یہ افواہ پھیلی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں، تو ایک صحابیہ اپنے شوہر، بھائی اور باپ کی لاشوں کے پاس سے گزرتی ہوئی صرف یہ پوچھتی رہیں: "میرے آقا ﷺ کیسے ہیں؟" اور جب آپ ﷺ کو سلامت دیکھا تو پکار اٹھیں: "آپ کے سلامت رہنے کے بعد ہر مصیبت ایچ (معمولی) ہے!"
5۔ ہمارئی موجودہ حالت اور 4 بنیادی اصلاحی سوالات
اس 1 ربیع الاول کے مبارک موقع پر ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر درج ذیل چار سوالات کا منصفانہ جواب تلاش کرنا ہوگا:
1۔ اخلاق و گفتگو کا جائزہ: کیا ہماری زبان سے سچائی، نرمی اور امانت داری جھلکتی ہے، یا ہم بھی جھوٹ، غیبت اور بد اخلاقی کا شکار ہیں؟ (حالانکہ آپ ﷺ 'الصادق' اور 'الامین' ہیں)۔
2۔ معاشی و کاروباری دیانت: کیا ہمارا رزقِ حلال اور معاشی معاملات نبوی اصولوں کے مطابق ہیں، یا ہم ناپ تول میں کمی، دھوکہ دہی اور سود کو اپنے لیے جائز سمجھے ہوئے ہیں؟
3۔ حقوق العباد اور خانگی حیات: کیا ہم اپنے گھر والوں، والدین، بیوی بچوں اور پڑوسیوں کے ساتھ وہی شفقت اور حسنِ سلوک کرتے ہیں جس کا حکم 'رحمۃ للعالمین' ﷺ نے دیا؟
4۔ سنتوں سے لگاؤ: کیا ہماری روزمرہ زندگی میں مسنون طریقے (کھانے، پینے، سونے، سلام کرنے اور عبادات کے) شامل ہیں یا ہم مغربی تہذیب اور فیشن کے پیروکار بنے ہوئے ہیں؟
6۔ اس ربیع الاول کو باعمل بنانے کے 4 عملی اقدامات
محبتِ رسول ﷺ کو زبانی دعوے سے نکال کر عملی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کا عزم کریں:
الف) سیرت النبی ﷺ کا باقاعدہ مطالعہ: اس مہینے اپنے گھر میں سیرت کی کسی مستند کتاب (مثلاً الرحیق المختوم) کو روزانہ کے بنیاد پر پڑھنے کا اہتمام کریں۔
ب) سننِ نبوی ﷺ کو اپنانا: ہر ہفتے اپنے اندر سے ایک برائی کو ختم کرنے اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ایک نئی مثبت عادت اپنانے کا ہدف طے کریں۔
ج) مخلوقِ خدا کے لیے نفع رساں بننا: نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ اس ماہ غریبوں، بیواؤں اور محتاجوں کی عملی مدد کریں۔
د) کثرتِ درود و سلام: اپنی زبان کو کثرتِ درود سے تر رکھیں کیونکہ درود شریف دلوں کے زنگ کو دور کرتا اور محبت میں جلا پیدا کرتا ہے۔
7۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ صرف چراغاں کرنے، جلسے جلوس منعقد کرنے یا جذباتی نعرے لگانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنی زندگیوں کو نبوی سانچے میں ڈھالنے کی تجدیدِ عہد کا نام ہے۔ عقیدت ایک شروعات ہو سکتی ہے، لیکن مطلوب و مقصود صرف اور صرف "محبت اور اتباع" ہے۔ اگر ہم دنیا و آخرت میں کامیابی، عزت اور رب کی رضا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حاکم بنانا ہوگا۔ آئیے! اس 1 ربیع الاول کو یہ عزم کریں کہ ہم اپنے آقا ﷺ سے ایسا تعلق استوار کریں گے جو ہمارے کردار، اخلاق اور فکر سے جھلکے۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ وَحُبَّ رَسُولِكَ ﷺ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِسُنَّتِهِ، وَالْمُهْتَدِينَ بِهَدْيِهِ، اللَّهُمَّ أَحْيِنَا عَلَى سُنَّتِهِ، وَأَمِتْنَا عَلَى مِلَّتِهِ، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ، وَاسْقِنَا مِنْ حَوْضِهِ الشَّرِيفِ شَرْبَةً هَنِيئَةً لَا نَظْمَأُ بَعْدَهَا أَبَدًا۔
اے اللہ! ہمیں اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی سچی محبت عطا فرما، اور ہمیں آپ ﷺ کی سنت کی اتباع کرنے والا اور آپ کی ہدایت پر چلنے والا بنا۔ اے اللہ! ہمیں آپ ﷺ کی سنت پر زندہ رکھ، آپ کی ملت پر موت دے، آپ کے گروہ میں اٹھا، اور قیامت کے دن آپ کے حوضِ کوثر سے ایسا بابرکت گھونٹ پلادے جس کے بعد کبھی پیاس نہ لگے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
ربیع الاول کے اس بابرکت مہینے میں نبی کریم ﷺ سے سچی محبت اور اتباع کا یہ پیغام کسی غافل دل کے لیے بیداری اور عمل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
