نبی ﷺ کی تربیت کا انداز - 8 ربیع الاول پر سیرتِ طیبہ کی روشنی میں تزکیہ و تربیت | قسط 234 - ڈاکٹر واجد ارشاد
In-depth analytical article on the upbringing, training methods, and educational wisdom (Tarbiyah) of Prophet Muhammad (PBUH) from the Seerah on the occasion of 8 Rabi al-Awwal by Dr. Wajid Irshad.


نبی ﷺ کی تربیت کا انداز - 8 ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں سیرتِ طیبہ سے تزکیہ و تربیت اور اصلاحِ احوال کی رہنمائی
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 234)
1۔ تمہید
آمدِ ربیع الاول کی ان مسعود اور بابرکت ساعتوں میں جہاں ہم بعثتِ نبوی ﷺ کا شکر ادا کرتے ہیں، وہاں آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے تزکیہ و تربیت کے مؤثر ترین طریقوں کو سمجھنا اور اپنانا ہماری اولین ضرورت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو کائنات کا سب سے عظیم اور کامیاب ترین معلم اور مربّی بنا کر بھیجا گیا۔ آپ ﷺ نے سخت مزاج، اجڈ اور جاہل عربوں کی ایسی دل نشین، حکیمانہ اور شفیق انداز میں تربیت فرمائی کہ وہی لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے سب سے مہذب، متقی اور عظیم رہنما بن گئے۔ 8 ربیع الاول کا یہ مقدس موقع ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے بچوں، شاگردوں، اور زیرِ سرپرستی افراد کی دیکھ بھال اور تربیت میں نبی اکرم ﷺ کے شفیق اور حکیمانہ اندازِ تربیت کو اپنائیں۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے
قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کے منصبِ تربیت (تزکیہ) اور آپ ﷺ کے نرم و شفیق اندازِ تربیت کا تذکرہ نہایت خوبصورت انداز میں فرمایا ہے:
هو الذي بعث في الأميين رسولا منهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وإن كانوا من قبل لفي ضلال مبين (سورۃ الجمعہ: 2)
وہی ذات ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کا تزکیہ (اخلاقی و عملی تربیت) کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
فبما رحمة من الله لنت لهم ولو كنت فظا غليظ القلب لا نفضوا من حولك فاعف عنهم واستغفر لهم وشاورهم في الأمر (سورۃ آل عمران: 159)
(اے حبیب!) پس اللہ کی بڑی ہی رحمت کے باعث آپ ان کے لیے نرم دل واقع ہوئے ہیں، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد سے چھٹ جاتے، پس آپ انہیں معاف فرمائیں اور ان کے لیے بخشش مانگیں اور کاموں میں ان سے مشورہ کریں۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے آپ ﷺ کے منصبِ تعلیم و تربیت اور شفقتِ نبوی کو اجاگر کیا ہے:
معلم و مربّی بنا کر بھیجا جانا:
عن معاوية بن الحكم السلمي رضی الله عنه قال: ... فبأبي هو وأمي ما رأيت معلما قبله ولا بعده أحسن تعليما منه، فوالله ما كهرني ولا ضربني ولا شتممني... (صحیح مسلم: 537)
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ (ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں! میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور آپ ﷺ کے بعد آپ سے بہترین تعلیم و تربیت دینے والا کوئی معلم نہیں دیکھا، خدا کی قسم! نہ آپ ﷺ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ ہی برا بھلا کہا۔
آسانی پیدا کرنا اور سختی سے بچنا:
عن أنس بن مالك رضی الله عنه عن النبي ﷺ قال: يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفروا (صحیح البخاری: 69، صحیح مسلم: 1734)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو اور ان کے لیے سختی نہ کرو، اور انہیں خوشخبری سناؤ (امید دلاؤ) اور انہیں نفرت نہ دلاؤ۔
4۔ عام انسانی اندازِ تربیت اور نبوی اندازِ تربیت میں 4 بنیادی فرق
عام رواجی یا جدید مادی طرزِ تربیت اور سیرتِ طیبہ سے ملنے والے نبوی تزکیہ و تربیت میں یہ گہرا اور بنیادی فرق موجود ہے:
1۔ ڈانٹ ڈپٹ اور تشدد بمقابلہ شفقت و نرمی:
عام اندازِ تربیت غصے، سخت سزاؤں اور ڈانٹ ڈپٹ پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ نبوی اندازِ تربیت محبت، نرمی اور دلی تعلق پر قائم تھا۔
2۔ صرف ظاہری اطاعت بمقابلہ قلبی و باطنی اصلاح:
عام نظام صرف ظاہری قوانین کی پاسداری سکھاتا ہے، جبکہ نبوی تربیت انسان کے دل میں خوفِ خدا اور تقویٰ پیدا کر کے اس کے باطن کو سنوارتی ہے۔
3۔ غلطی پر ذلیل کرنا بمقابلہ عزتِ نفس کا تحفظ:
عام لوگ غلطی پر سب کے سامنے رسوا کرتے ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ نام لیے بغیر حکمت سے اصلاح فرماتے اور عزتِ نفس کا پورا خیال رکھتے تھے۔
4۔ خشک اصول بمقابلہ عملِ صالح کی عملی مثال:
عام مربی صرف باتیں سکھاتے ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ نے خود عمل کر کے دکھایا اور آپ ﷺ کا اپنا کردار ہی تربیت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
5۔ سیرتِ طیبہ سے ملنے والے اندازِ تربیت کے 6 درخشندہ اصول
سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے تربیت اور تزکیۂ نفوس کے یہ اہم ترین اصول سامنے آتے ہیں:
1۔ تدریج اور مرحلہ وار تربیت (Gradual Reformation):
آپ ﷺ نے ایک ہی دن میں سارے احکام نافذ نہیں کیے بلکہ عقیدہ اور اخلاق کے بعد آہستہ آہستہ احکام سکھائے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اگر سب سے پہلے شراب اور زنا کی ممانعت اترتی تو لوگ کبھی نہ چھوڑتے، لیکن پہلے دلوں میں ایمان راسخ کیا گیا۔ (صحیح البخاری: 4993)
2۔ غلطی پر براہِ راست ڈانٹنے کے بجائے عمومی اصلاح (Indirect Correction):
جب آپ ﷺ کسی میں کوئی خامی یا غلطی دیکھتے تو سب کے سامنے اس کا نام لے کر اسے شرمندہ نہ فرماتے، بلکہ خطبے میں یوں ارشاد فرماتے: "ما بال أقوام يفعلون كذا وكذا" (لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا ایسا کرتے ہیں)۔ اس طرح غلطی کرنے والے کی عزتِ نفس بھی بچ جاتی اور اصلاح بھی ہو جاتی۔ (سنن ابی داؤد: 4788)
3۔ عملی نمونہ اور اسوہ پیش کرنا (Lead by Example):
آپ ﷺ جس بات کا حکم دیتے، سب سے پہلے خود اس پر شدت سے عمل فرما کر دکھاتے۔ غزوۃ الخندق میں صحابہ کے ساتھ مل کر مٹی اٹھانا اور پیٹ پر پتھر باندھنا، اور صلح حدیبیہ کے موقع پر خود قربانی کر کے صحابہ کو عملی مثال دینا نبوی تربیت کی معراج تھی۔ (صحیح البخاری: 2835)
4۔ مخاطب کی عقل اور نفسیات کا لحاظ (Psychological Understanding):
آپ ﷺ ہر شخص کی عمر، عقل اور نفسیات کے مطابق اس سے گفتگو فرماتے اور تربیت کرتے۔ بچوں کے ساتھ بچپنے کا سلوک، جوانوں کی توانائی کی صحیح سمت میں رہنمائی اور بوڑھوں کا احترام آپ ﷺ کا مستقل طریقہ تھا۔ (صحیح مسلم: 2601)
5۔ تشویق اور ترغیب کا استعمال (Encouragement and Praise):
آپ ﷺ سزاؤں اور ڈرانے کی بجائے محبت، حوصلہ افزائی اور خوشخبری دینے پر زور دیتے تھے۔ کسی صحابی کی اچھی صفت دیکھتے تو اس کی تعریف فرما کر اس کی صلاحیتوں کو نکھارتے، جیسے حضرت ابو عبیدہؓ کو "امیںِ امت" اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو "سیف اللہ" کا لقب دیا۔ (صحیح البخاری: 3744)
6۔ حکیمانہ اور تمثیلی انداز (Teaching through Parables):
آپ ﷺ تربیت کے دوران صحابہ کی توجہ مبذول کرانے کے لیے سوالات پوچھتے، زمین پر لکیریں کھینچ کر بات سمجھاتے اور روزمرہ کی مثالیں (جیسے پانچ وقت کی نماز کی مثال نہر سے دینا) استعمال فرما کر بات دل میں اتاردیتے تھے۔ (صحیح البخاری: 528)
6۔ نبوی طرزِ تربیت کو زندگی میں اپنانے کے 5 عملی قدم
اگر ہم اپنے بچوں، گھر والوں اور طالب علموں کی نبوی طرز پر تربیت کرنا چاہتے ہیں تو ان پر عمل کریں:
1۔ تربیت کی بنیاد محبت اور نرمی کو بنائیں: بچوں اور زیرِ دست افراد پر بلا ضرورت غصہ کرنے اور ڈانٹنے کے بجائے پیار اور نرمی سے سمجھائیں۔
2۔ عملی نمونہ بنیں: بچوں کو جن برائیوں (جیسے جھوٹ، موبائل کا بے جا استعمال) سے روکنا چاہتے ہیں، پہلے خود ان سے پرہیز کر کے عملی مثال بنیں۔
3۔ دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنے سے بچیں: اگر بچے یا شاگرد سے غلطی ہو جائے تو تنہائی میں پیار سے اس کی غلطی کا احساس دلائیں۔
4۔ حوصلہ افزائی اور تعریف کریں: ان کے اچھے کاموں پر ان کی تعریف کریں اور انہیں چھوٹے چھوٹے انعامات دے کر نیکی کی طرف رغبت دلائیں۔
5۔ استغفار اور دعا کا سہارا لیں: نبوی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں اور زیرِ تربیت افراد کی ہدایت اور صلاح کے لیے مسلسل دعائیں کریں۔
7۔ نبوی طرزِ تربیت کو اپنانے کے انمول ثمرات
جو والدین، اساتذہ اور مربی سیرتِ طیبہ کے اس تربیتی نظام کو اپناتے ہیں، انہیں یہ عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں:
• پائیدار اخلاقی اور عملی اصلاح: جبر سے کی گئی تربیت عارضی ہوتی ہے، جبکہ نبوی طرز کی تربیت انسان کے باطن کو بدل کر دائمی بناتی ہے۔
• باہمی اعتماد اور مضبوط تعلق: بچوں اور والدین، یا اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان خوف کے بجائے احترام اور محبت کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔
• صالح نسل کی تیاری: نبوی اندازِ تربیت سے ایسے باصلاحیت اور متقی افراد تیار ہوتے ہیں جو معاشرے اور ملک کا قیمتی سرمایہ بنتے ہیں۔
8۔ اختتامیہ
حاصلِ کلام یہ ہے کہ 8 ربیع الاول کی یہ مبارک گھڑیاں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ امتِ مسلمہ کا اصل زوال اور بکھراؤ تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جس شفقت، حکمت اور تزکیہ کے ذریعے ایک جاہل عرب کو دنیا کا امام بنا دیا تھا، وہی اندازِ تربیت آج بھی ہماری نئی نسل اور معاشرے کی کاپیا پلٹ سکتا ہے۔ آج اگر ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں میں سرکشی اور اخلاقی تنزلی ہے، تو اس کی وجہ نبوی طرزِ تربیت سے دوری ہے۔ آئیے! آمدِ ربیع الاول کے اس سعید موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے گھروں اور اداروں میں ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کے بجائے نبوی شفقت، حکمت اور عملی کردار کے ذریعے اپنے بچوں اور معاشرے کی تربیت کریں گے۔
دعا:
اللهم آت نفوسنا تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللهم اهد أولادنا وأصلح أحوالنا
اے اللہ! ہمارے نفوس کو ان کا تقویٰ عطا فرما اور ان کا تزکیہ فرمادے، تو ہی بہترین تزکیہ فرمانے والا ہے، تو ہی ان کا والی اور مولا ہے۔ اے اللہ! ہماری اولادوں کو ہدایت دے اور ہمارے احوال کی اصلاح فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ تربیت اور تزکیہ کے اصولوں کو پھیلانا اور اپنے گھروں میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
