نبی ﷺ کی معاف کرنے کی عادت - 6 ربیع الاول پر سیرتِ طیبہ کی روشنی میں اخلاقی رہنمائی | قسط 232 - ڈاکٹر واجد ارشاد
In-depth analytical article on the forgiveness, mercy, and moral excellence (Ethics) of Prophet Muhammad (PBUH) from the Seerah on the occasion of 6 Rabi al-Awwal by Dr. Wajid Irshad.


نبی ﷺ کی معاف کرنے کی عادت - 6 ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں سیرتِ طیبہ سے عفو و درگزر اور اخلاقی رہنمائی
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 232)
1۔ تمہید
آمدِ ربیع الاول کی ان منور ساعتوں میں جہاں ہم رسولِ اکرم ﷺ کے میلاد اور بعثت کا شکر ادا کرتے ہیں، وہاں آپ ﷺ کے اخلاقِ عالیہ اور بالخصوص عفو و درگزر کی صفتِ مبارکہ کو اپنانا ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی مجسم رحم و کرم تھی۔ آپ ﷺ پر اپنوں اور بیگانوں نے مظالم کے پہاڑ توڑے، طائف کی وادی میں پتھر برسائے گئے، احد کے میدان میں دندانِ مبارک شہید کیے گئے اور مکہ میں آپ ﷺ کا معاشی بائیکاٹ کیا گیا، لیکن آپ ﷺ نے ہر ظلم کے بدلے میں معافی، درگزر اور ہدایت کی دعا ہی عطا فرمائی۔ 6 ربیع الاول کا یہ مبارک دن ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں سے کینہ، بغض اور بدلے کی بھیک مٹا کر نبی کریم ﷺ کی معاف کرنے کی سنت کو زندہ کریں۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے
قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی عفو و درگزر کی صفت کو آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کا حصہ قرار دیا اور مومنین کو بھی معاف کرنے کا حکم دیا ہے:
خذ العفو وأمر بالعرف وأعرض عن الجاهلين (سورۃ الاعراف: 199)
آپ درگزر (معافی) کا راستہ اختیار کریں، نیک کام کا حکم دیں اور جاہلوں سے اعراض فرما لیں۔
وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم (سورۃ النور: 22)
اور چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے عفو و درگزر کو عزت و سرفرازی کا باعث اور اخلاقِ حسنہ کی بلندی قرار دیا ہے:
معاف کرنے سے عزت میں اضافہ:
عن أبي هريرة رضی الله عنه عن رسول الله ﷺ قال: ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله (صحیح مسلم: 2588)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صدقہ دینے سے مال میں کمی نہیں ہوتی، اور معاف کر دینے سے اللہ تعالی بندے کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے، اور جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔
بدلہ نہ لینے کی نبوی عادت:
عن عائشة رضی الله عنها قالت: ما خير رسول الله ﷺ بين أمرين إلا أخذ أيسرهما ما لم يكن إثما... وما انتقم رسول الله ﷺ لنفسه قط إلا أن تنتهك حرمة الله فينتقم لله بها (صحیح البخاری: 6126، صحیح مسلم: 2327)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا، سوائے اس کے کہ اللہ کی حرمت کو توڑا جائے تو آپ ﷺ اللہ کے لیے اس پر حد نافذ فرماتے تھے۔
4۔ عام انسانی بدلہ اور نبوی عفو میں 4 بنیادی فرق
عام انسانی طرزِ فکر اور سیرتِ طیبہ سے ملنے والے نبوی اخلاقِ عفو میں یہ گہرا اور بنیادی فرق موجود ہے:
1۔ طاقت کا زعم بمقابلہ قدرت کے باوجود معافی:
عام انسان مجبوری میں معاف کرتا ہے، جبکہ نبوی عفو کی شان یہ تھی کہ آپ ﷺ نے پورٹ پر قابو اور بدلہ لینے کی مکمل قدرت ہونے کے باوجود دشمنوں کو معاف فرمایا۔
2۔ کینہ و انتقام بمقابلہ سچی درگزر:
دنیاوی معافی میں اکثر دل میں کینہ باقی رہتا ہے، جبکہ نبوی معافی دل کو ہر قسم کی خفگی سے پاک کر کے محبت اور شفقت عطا کرتی تھی۔
3۔ شرطیہ معافی بمقابلہ بے لوث درگزر:
عام لوگ معافی کے بدلے شرائط یا ذلت کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ نے بغیر کسی شرط کے دشمنوں کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
4۔ ذاتی انا بمقابلہ رضائے الٰہی:
عام انسان اپنی انا کی تسکین کے لیے بدلہ لیتا ہے، جبکہ نبوی عفو کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور انسانیت کی اخلاقی اصلاح تھا۔
5۔ سیرتِ طیبہ سے ملنے والے عفو و درگزر کے 6 درخشندہ واقعات
سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے معاف کرنے کی عادت کے یہ ایمان افروز اور درخشندہ واقعات سامنے آتے ہیں:
1۔ فتحِ مکہ کا عمومی اعادہ و معافی (General Amnesty at Conquest of Makkah):
فتحِ مکہ کے دن جب قریش کے جانی دشمن سامنے کھڑے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔" آپ ﷺ نے ان تمام لوگوں کو معاف فرما دیا جنہوں نے 21 سال آپ ﷺ کو ستایا تھا۔ (السنن الکبری للبیہقی: 18275)
2۔ وادیِ طائف کا عظیم الشان درگزر (Forgiveness at Ta'if):
طائف کے لوگوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسا کر لہولہان کر دیا، جب پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور ان کو تباہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں! بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے۔" (صحیح البخاری: 3231)
3۔ قاتلِ حمزہؓ (وحشی) اور ہند بنتِ عتبہ کو معافی (Forgiveness of Wahshi and Hinda):
آپ ﷺ نے اپنے پیارے چچا حضرت حمزہؓ کا مثلہ کرنے والی ہند اور ان کے قاتل وحشیؓ کو اسلام قبول کرنے پر دل سے معاف فرما دیا۔ (صحیح البخاری: 4072)
4۔ زہر دینے والی یہودی عورت کو درگزر (Forgiveness of the Poisonous Woman):
خیبر کے موقع پر جس یہودی عورت (زینب بنتِ حارث) نے آپ ﷺ کو کھانے میں زہر دیا تھا، آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے اس سے کوئی بدلہ نہیں لیا اور اسے معاف فرما دیا۔ (صحیح البخاری: 2617)
5۔ تلوار سونتنے والے غورث بن حارث کو معافی (Forgiveness of Ghaurath ibn al-Harith):
غزوۃ الذات الرقاع میں جب ایک اعرابی نے سوتے ہوئے آپ ﷺ کے سر پر تلوار سونت کر پوچھا: "آج تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟" آپ ﷺ نے بے خوفی سے فرمایا: "اللہ!" تلوار ہاتھ سے گر گئی، آپ ﷺ نے تلوار پکڑ کر معاف فرما دیا۔ (صحیح البخاری: 4136)
6۔ جادو کرنے والے لبید بن اعصم سے درگزر (Forgiveness of Labid ibn al-A'sam):
جس یہودی لبید بن اعصم نے آپ ﷺ پر جادو کیا تھا، آپ ﷺ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ صحابہ کو بھی اس کا تذکرہ یا بدلہ لینے سے منع فرما دیا تاکہ معاشرے میں فساد نہ پھیلے۔ (صحیح البخاری: 5763)
7۔ نبوی طرزِ عفو کو زندگی میں اپنانے کے 5 عملی قدم
اگر ہم اپنے گھر، خاندان اور معاشرے میں نبی کریم ﷺ کی اس پیاری سنت کو اپنانا چاہتے ہیں تو ان پر عمل کریں:
1۔ اپنے دل کو لوگوں کی خطاؤں سے پاک رکھیں: دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کی عادت ڈالیں اور کینہ نہ رکھیں۔
2۔ بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کریں: جب آپ کو بدلہ لینے کا موقع اور طاقت حاصل ہو، تو اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیں۔
3۔ گالی اور زیادتی کا جواب حسنِ اخلاق سے دیں: کوئی آپ سے برائی کرے تو آپ اس کا جواب اچھائی اور نرمی سے دیں۔
4۔ اپنے گھر والوں اور ملازمین کو معاف کریں: گھر میں بچوں، اہلیہ اور خادمین سے غلطی ہو جائے تو غصہ پی کر درگزر کریں۔
5۔ معاف کر کے اللہ سے اپنی مغفرت کی امید رکھیں: یہ یاد رکھیں کہ جیسے ہم بندوں کو معاف کریں گے، اللہ تعالی قیامت کے دن ہمیں معاف فرمائے گا۔
8۔ نبوی طرزِ عفو کو اپنانے کے انمول ثمرات
جو فرد اور معاشرہ سیرتِ طیبہ کے اس اخلاقی اصول کو اپنا طرزِ عمل بناتا ہے، اسے یہ عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں:
• ذہنی اور قلبی سکون: عفو و درگزر سے انسان کو اندرونی اطمینان ملتا ہے اور وہ حسد و بغض کی آگ سے بچ جاتا ہے۔
• عزت و وقار میں بلندی: معاف کرنے والا شخص معاشرے میں باوقار اور محترم بن جاتا ہے۔
• اللہ کی مغفرت اور محبت: بندوں کو معاف کرنے والے پر اللہ کی رحمت اور مغفرت کا سایہ ہوتا ہے۔
9۔ اختتامیہ
حاصلِ کلام یہ ہے کہ 6 ربیع الاول کی یہ مبارک ساعتیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا نظامِ اخلاق اور عفو و درگزر ہی ہمارے بکھرے ہوئے معاشرے میں جوڑ پیدا کر سکتا ہے۔ آج اگر ہمارے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں ناچاقیاں، عدالت بازی اور دشمنیاں عام ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نبوی اخلاق یعنی معاف کرنے کی عادت کو بھلا دیا ہے۔ آئیے! آمدِ ربیع الاول کے اس سعید موقع پر ہم یہ پختہ عزم کریں کہ ہم اپنے تمام ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کو معاف کریں گے اور نبی کریم ﷺ کی اس عظیم الشان سنت کو زندہ کریں گے۔
دعا:
اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عنا اللهم اجعلنا من الكاظمين الغيظ والعافين عن الناس
اے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، پس ہمیں معاف فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں غصہ پی جانے والوں اور لوگوں کو معاف کرنے والوں میں شامل فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ عفو و درگزر کو پھیلانا اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
