نبی ﷺ کی گھریلو زندگی - حسنِ معاشرت، خانگی تربیت اور خوشگوار خاندانی نظام کا نبوی ماڈل | قسط 225 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Comprehensive Islamic guide on the domestic life of Prophet Muhammad (PBUH). Practical lessons on marital harmony, family ethics, and domestic kindness by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

8/13/20261 min read

نبی ﷺ کی گھریلو زندگی - حسنِ معاشرت، خانگی تربیت اور خوشگوار خاندانی نظام کا نبوی ماڈل

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: خاندان (قسط نمبر: 225)

1۔ تمہید (Introduction)

اسلام کا خاندانی نظام معاشرے کی بنیادی اکائی اور امن و سکون کا حقیقی ضامن ہے۔ ایک مضبوط، بااخلاق اور خوشگوار گھرانہ ہی ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ انسانی شخصیت کے حقیقی اور اصلی اخلاق کا امتحان بازار، مسجد یا مجلس میں نہیں بلکہ اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوتا ہے، جہاں انسان تمام تر مصنوعی رویوں اور تکلفات سے آزاد ہو کر اپنی اصل حقیقت میں سامنے آتا ہے۔

عصرِ حاضر کا ایک شدید اور تشویشناک المیہ ہمارے خانگی نظام کا انتشار ہے۔ آج ہمارے گھر سکون کا گہوارہ بننے کے بجائے ناچاقی، تلخیوں، عدمِ برداشت اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے مرکز بن چکے ہیں۔ شوہر اور بیوی کے درمیان حقوق کی جنگ، بچوں کی اخلاقی تربیت سے غفلت اور رشتوں میں مودت و رحمت کا خاتمہ عام بات ہو چکی ہے۔ اس معاشرتی تلاطم میں "نبیِ اکرم ﷺ کی مبارک گھریلو زندگی" ہمارے لیے ہدایت، سکون اور اصلاح کا روشن ترین نمونہ بن کر سامنے آتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ، جو پوری امت کے عظیم قائد، قاضی اور حاکمِ وقت تھے، اپنے گھر کے اندر محبت، شفقت، تعاون اور عفو و درگزر کی ایک بے نظیر مثال تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواجِ مطہرات، بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ کیا رویہ تھا؟ اور ہم آج کے اس انتشار زدہ دور میں نبوی طرزِ زندگی کو اپنے گھروں میں نافذ کر کے اپنے خاندانی نظام کو دوبارہ جنت کا نمونہ کیسے بنا سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی اور تربیتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

قرآنِ مجید نے زوجین کے رشتے کا بنیادی مقصد باہمی سکون، محبت اور رحمت قرار دیا ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ(سورۃ الروم: 21)

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس میں فکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا    (سورۃ النساء: 19)

اور ان (عورتوں) کے ساتھ شائستہ طریقی (حسنِ معاشرت) سے زندگی بسر کرو، پھر اگر تم انہیں ناپسند کرو تو ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بڑی خیر (اور بھلائی) رکھ دے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کو انسان کی بھلائی اور ایمان کا معیار قرار دیا ہے:

• گھر والوں کے لیے بہترین انسان کا نبوی معیار

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي"   (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 3895 / سنن ابن ماجہ)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہوں۔"

• گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی سنت

عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: "كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ — يَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِهِ — فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ"   (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 676)

حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: "آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت اور کام کاج میں مصروف رہتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔"

4۔ رسولِ اکرم ﷺ کی گھریلو زندگی کے 4 درخشندہ پہلو

سیرتِ طیبہ میں آپ ﷺ کا خانگی طرزِ عمل محبت، عاجزی اور اعتدال کا شاہکار تھا:

1۔ ازواجِ مطہرات کے ساتھ خوش طبعی اور محبت:

آپ ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ نہ صرف دلجوئی فرماتے بلکہ ان کے جذبات کا پورا احترام کرتے۔ حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ لگانا، ایک ہی برتن سے کھانا پینا اور ان کی بات کو توجہ سے سننا نبوی زندگی کا معمول تھا۔

2۔ گھر کے کام کاج خود کرنا (تواضع):

اتنے بڑے منصب کے باوجود آپ ﷺ اپنے کپڑوں پر پیوند لگاتے، اپنے جوتے خود گانٹھتے، بکریاں دوہتے اور گھر کے جھاڑو و صفائی میں اہل خانہ کا ہاتھ بٹاتے تھے۔

3۔ ناگواری پر صبر اور عفو و درگزر:

گھر کے ماحول میں جب بھی کوئی بشری ناگواری یا آپس میں غلط فہمی پیدا ہوتی، آپ ﷺ کبھی غصے میں آ کر چیختے چلاتے نہیں تھے اور نہ ہی بدزبانی فرماتے تھے، بلکہ صابرانہ اور شفیق انداز میں اصلاح فرماتے تھے۔

4۔ بچوں اور نواسوں پر شفقت و تربیت:

حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھیلنا، انہیں پیار کرنا، اور نماز کی حالت میں بھی ان کی رعایت رکھنا آپ ﷺ کا دائمی اسوہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔"

5۔ نبوی طرزِ حیات کے مقابلے میں ہمارا موجودہ خاندانی رویہ (The Core Difference)

سیرتِ طیبہ کے آئینے میں اگر ہم اپنے موجودہ خانگی رویوں کا جائزہ لیں تو یہ تشویشناک تضاد سامنے آتا ہے:

1۔ شوہر کا خاندانی مزاج:

ہمارا رویہ: گھر میں حاکمانہ اور سخت انداز، ذرا سی غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ، اور تشدد۔

نبوی اسوہ: نرم خوئی، محبت، مسکراہٹ اور گھر میں عاجزی و خدمت کا مظاہرہ۔

2۔ حقوق اور ذمہ داریوں کا تصور:

ہمارا رویہ: صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا اور دوسرے کے حقوق سے غافل رہنا۔

نبوی اسوہ: ایثار، قربانی، اور ایک دوسرے کی دلجوئی کو ترجیح دینا۔

3۔ خاندانی کاموں میں شرکت:

ہمارا رویہ: گھر کے کام کاج کو صرف عورت کی ذمہ داری سمجھنا اور مرد کے لیے اسے عار ماننا۔

نبوی اسوہ: اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اہل خانہ کی خدمت کو سنت اور باعثِ ثواب سمجھنا۔

6۔ نبوی اسوہ سے اپنے گھر کو "جنت کا نمونہ" بنانے کے 5 عملی قدم (Practical Steps)

اپنی گھریلو زندگی کو رسولِ اکرم ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے ان ۵ عملی اقدامات کو اپنائیں:

الف) گھر میں مسکرا کر داخل ہونا: گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کریں، مسکرائیں اور باہر کی پریشانیوں اور غصے کو دروازے پر چھوڑ دیں۔

ب) گھر کے کاموں میں عملی تعاون: اپنی زوجہ اور والدہ کا گھر کے کام کاج (برتن، صفائی، یا سامان لانے) میں سنت کی نیت سے ہاتھ بٹائیں۔

ج) تعریف اور حوصلہ افزائی کی عادت: اہل خانہ کے پکاۓ ہوئے کھانے اور ان کی محنت پر ان کا شکریہ ادا کریں اور ان کی تعریف کریں۔

د) غصے اور بدزبانی پر مکمل پابندی: گھر میں کسی بھی تنازع کی صورت میں خاموشی اختیار کریں، طنز و تحقیر اور گالی گلوچ سے مکمل پرہیز کریں۔

ہ) باقاعدہ باہم بیٹھنا اور اخلاقی تربیت: روزانہ یا ہفتوار اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر سیرت اور دینی احکام کا مذاکرہ کریں اور بچوں کو پیار سے تربیت دیں۔

7۔ نبوی خاندانی ماڈل اپنانے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان اپنے گھر کو نبوی اسوے کے مطابق چلاتا ہے، اللہ رب العزت اسے یہ عظائم برکات عطا فرماتا ہے:

• حقیقی قلبی سکون اور الفت: گھر میں لڑائی جھگڑوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور محبت و سکون کا دور دورہ ہوتا ہے۔

• اولاد کی بہترین تربیت: والدین کو نبوی اخلاق پر عمل پیرا دیکھ کر اولاد خود بخود بااخلاق اور فرمانبردار بنتی ہے۔

• اللہ کی رحمت اور رزق میں برکت: جس گھر میں سنتِ نبوی نافذ ہو، وہاں الٰہی برکات اور رزق کی فراوانی ہوتی ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ کی گھریلو زندگی محض سیرت کا ایک علمی باب نہیں، بلکہ یہ ہمارے تباہ ہوتے ہوئے خاندانی نظام کے لیے آبِ حیات ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں طلاق کی شرح کم ہو، ناچاقی اور تلخیاں ختم ہوں، اور ہمارے بچے ایک بااخلاق اور باوقار شہری بنیں، تو ہمیں شوہر، باپ، اور بھائی کے روپ میں نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا ہوگا۔ اپنے گھر کے اندر کا اخلاق ہی ہمارے سچے مومن ہونے کا اصل ثبوت ہے۔ آئیے! ہم سب یہ عزم کریں کہ ہم اپنے گھروں میں حاکمیت اور سختی کے بجائے نبوی محبت، عاجزی، خدمت اور شفقت کو عام کریں گے تاکہ ہمارا گھر دنیا میں بھی جنت کا نظارہ پیش کرے۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لَنَا أَهْلَنَا وَذُرِّيَّاتِنَا، وَاجْعَلْ بُيُوتَنَا بُيُوتَ سَكِينَةٍ وَرَحْمَةٍ وَمَوَدَّةٍ، اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ فِي بُيُوتِنَا، وَارْزُقْنَا إِتِّبَاعَ سُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي مَعَاشَرَةِ أَهْلِينَا۔

اے اللہ! ہمارے گھروں کی اصلاح فرما، ہمارے اہل خانہ اور اولاد کو ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا۔ اے اللہ! ہمیں اپنے گھروں میں نبوی اخلاق، نرمی اور خدمت اپنانے کی توفیق دے، ہمارے گھروں کو سکون اور محبت کا گہوارہ بنا اور ہمیں قیامت کے دن اپنے حبیب ﷺ کی قربت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نبی کریم ﷺ کی گھریلو زندگی کا یہ پیغام ہر شوہر، باپ اور خاندانی سربراہ کے لیے اصلاحِ احوال اور خانگی سکون کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.