نبی ﷺ کا تعلق باللہ - عبادات، تقویٰ اور روحانیت کا معراج | قسط 235 - ڈاکٹر واجد ارشاد

A spiritual reflection on Prophet Muhammad's (PBUH) deep connection with Allah (Ta'alluq Billah), devotion, and piety by Dr. Wajid Irshad.

Dr. Wajid Irshad

8/23/20261 min read

نبی ﷺ کا تعلق باللہ - عبادات، تقویٰ اور روحانیت کا معراج

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 235)

1۔ تمہید

آمدِ ربیع الاول کی ان منور اور بابرکت ساعتوں میں جہاں ہم رسولِ اکرم ﷺ کے میلاد اور بعثت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، وہاں آپ ﷺ کی مبارک زندگی کے سب سے بنیادی اور محوری پہلو یعنی "تعلق باللہ" کو سمجھنا اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا اشد ضروری ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کا ہر لمحہ اللہ تعالی کی یاد، خشوع و خضوع، اور تعلق باللہ سے لبریز تھا۔ آپ ﷺ تمام کائنات میں اللہ تعالی کی معرفت اور محبت کے اعلی ترین مقام پر فائز تھے۔ غارِ حراء کی تنہائیوں سے لے کر میدانِ جنگ اور رات کے پچھلے پہر کی مناجات تک، آپ ﷺ کا دل ہر آن اپنے رب کی یاد میں ڈھلا رہتا تھا۔ 9 ربیع الاول کا یہ مبارک دن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی مادیت زدہ اور غفلت سے بھری زندگی میں نبی کریم ﷺ کے اسی روح پرور تعلق باللہ کو زندہ کریں۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کے رب سے تعلق، نماز اور عباداتِ شب کا ذکر نہایت محبت اور عظمت کے ساتھ فرمایا ہے:

قل إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين (سورۃ الانعام: 162)

آپ فرما دیجیے کہ بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

ومن الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا (سورۃ الاسراء: 79)

اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کریں جو آپ کے لیے زیادہ (بلندیِ درجات کا باعث) ہے، قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے آپ ﷺ کے رب کے ساتھ گہرے تعلق، شکر گزاری اور خشوعِ قلب کو واضح کیا ہے:

شکر گزار بندہ بننے کی خواہش:

عن عائشة رضی الله عنها أن نبي الله ﷺ كان يقوم من الليل حتى تتفطر قدمه، فقالت عائشة: لم تصنع هذا يا رسول الله وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: أفلا أكون عبدا شكورا (صحیح البخاری: 4837، صحیح مسلم: 2819)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو اتنی لمبی عبادت فرماتے کہ آپ ﷺ کے مبارک قدم سوج جاتے، حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

نماز آنکھوں کی ٹھنڈک:

عن أنس بن مالك رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ... وجعلت قرة عيني في الصلاة (سنن النسائی: 3940)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ... اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

4۔ عام انسان کی روحانیت اور نبوی تعلق باللہ میں 4 بنیادی فرق

عام رواجی یا رہبانیتی طرزِ روحانیت اور سیرتِ طیبہ سے ملنے والے نبوی تعلق باللہ میں یہ گہرا اور بنیادی فرق موجود ہے:

1۔ دنیاداری سے فرار بمقابلہ دنیاوی ذمہ داریوں کے ساتھ رب سے تعلق:

عام نظامِ رہبانیت میں تعلق باللہ کے لیے دنیا چھوڑنی پڑتی ہے، جبکہ نبوی تعلق باللہ یہ ہے کہ تمام دنیاوی و خاندانی امور نبھاتے ہوئے بھی دل رب کی یاد میں مشغولی رہے۔

2۔ رسمی عبادات بمقابلہ خشوع اور روحِ عباد ت:

عام انسان عبادات کو صرف ایک بوجھ یا رسم کے طور پر ادا کرتا ہے، جبکہ نبوی عبادات میں لذت، شوک اور کامل حضورِ قلب موجود ہوتا تھا۔

3۔ محض مانگنے کا رشتہ بمقابلہ محبت و شکر گزاری کا تعلق:

عام انسان صرف مصیبت یا حاجت کے وقت رب کو یاد کرتا ہے، جبکہ نبوی تعلق باللہ کی بنیاد خالص محبت، شکر اور عبودیت پر تھی۔

4۔ گناہ کے خوف سے عبادات بمقابلہ مقامِ احسان:

عام طرزِ فکر صرف عذاب سے بچنے کے لیے ہے، جبکہ نبوی روحانیت "مقامِ احسان" پر مبنی تھی کہ اللہ کو ایسے دیکھ کر عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو۔

5۔ سیرتِ طیبہ سے ملنے والے تعلق باللہ کے 6 درخشندہ اصول

سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے رب تعالی سے تعلق قائم کرنے کے یہ اہم ترین اصول سامنے آتے ہیں:

1۔ دائمی ذکرِ الٰہی اور یادِ رب (Constant Remembrance of Allah):

آپ ﷺ کی مبارک زندگی کا کوئی لمحہ ذکرِ خدا سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ہر آن اور ہر حال میں اللہ تعالی کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم: 373)

2۔ رات کی تنہائیوں میں مناجات اور تہجد (Night Prayers and Munajat):

دن بھر کی مصروفیات کے بعد آپ ﷺ رات کو اپنے رب کے حضور رو رو کر مناجات فرماتے، طویل قیام اور سجود کرتے، اور قرآنِ مجید کی ترتیل سے تلاوت فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری: 1147)

3۔ خوفِ خدا اور خشوعِ قلب (Fear and Awe of Allah):

آپ ﷺ تمام مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے اور اس کی عظمت کو پہچاننے والے تھے۔ جب آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوتے تو سینۂ مبارک سے دیگچی کے ابلنے کی طرح رونے کی آواز آتی تھی۔ (سنن ابی داؤد: 904)

4۔ کثرتِ استغفار اور توبہ (Abundant Seeking of Forgiveness):

معصوم عن الخطا ہونے کے باوجود آپ ﷺ دن میں سو سو بار سے زیادہ اللہ تعالی سے استغفار اور توبہ فرمایا کرتے تھے، جو بندگی کے اعلی ترین مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ (صحیح مسلم: 2702)

5۔ ہر حال میں توکل اور رضا بالقضا (Absolute Reliance and Satisfaction):

آپ ﷺ پر مشکلات، فاقے اور غم کے بڑے پہاڑ ٹوٹے لیکن آپ ﷺ کے توکل میں ذرہ برابر فرق نہ آیا۔ غارِ ثور میں فرمایا: "لا تحزن إن الله معنا" (گھبراؤ نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔ (صحیح البخاری: 3653)

6۔ دعا کو عبادت کا مغز بنانا (Supplication as the Core of Worship):

آپ ﷺ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے اپنے رب کے سامنے دستِ سوال دراز فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دعا ہی عبادات کا اصل مغز ہے۔ (جامع الترمذی: 3371)

6۔ نبوی طرزِ تعلق باللہ کو زندگی میں اپنانے کے 5 عملی قدم

اگر ہم اپنی عملی زندگی میں رسولِ اکرم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تعلق باللہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ان پر عمل کریں:

1۔ نمازوں کو قائم کریں اور خشوع پیدا کریں: نماز کو جلدی میں نمٹانے کے بجائے اسے آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کر اور ترجمہ سمجھ کر پڑھیں۔

2۔ مسنون دعاؤں اور اذکارِ مسنونہ کی پابندی کریں: صبح و شام کے اذکار اور روزمرہ کے کاموں (کھانے، سونے، گھر سے نکلنے) کی مسنون دعائیں پڑھنے کا اہتمام کریں۔

3۔ رات کو چند منٹ تہجد اور مناجات کے لیے نکالیں: رات کے آخری حصے میں چند منٹ اٹھ کر اپنے رب کے سامنے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور دعائیں کریں۔

4۔ روزانہ قرآنِ مجید کی تلاوت اور تدبر کریں: محض پڑھنے کی بجائے قرآنِ پاک کا ترجمہ اور مفہوم سمجھ کر پڑھنے کی عادت ڈالیں۔

5۔ مصیبت اور خوشی دونوں میں رب کو یاد رکھیں: نعمت ملنے پر "الحمد للہ" اور مشکل میں صبر و توکل کے ساتھ رب سے رجوع کریں۔

7۔ نبوی طرزِ تعلق باللہ کو اپنانے کے انمول ثمرات

جو فرد سیرتِ طیبہ کے اس روحانی اصول کو اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے، اسے یہ عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں:

• قلب و ذہن کی سکون اور اطمینان: "ألا بذكر الله تطمئن القلوب" کے تحت انسان کا دل دنیا کے تمام غموں اور پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

• گناہوں سے حفاظت اور تقویٰ: مضبوط تعلق باللہ انسان کے اندر برائیوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

• دنیا و آخرت میں باری تعالی کی نصرت: جو بندہ اپنے رب کا ہو جاتا ہے، اللہ تعالی اس کے تمام معاملوں کا کفیل بن جاتا ہے۔

8۔ اختتامیہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ 9 ربیع الاول کی یہ مبارک ساعتیں ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد اپنے خالق و مالک سے سچا اور مضبوط تعلق قائم کرنا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اس بات کی روشن ترین مثال ہے کہ دنیا کے تمام کاموں کو نبھاتے ہوئے بھی دل کو رب سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے۔ آج کا انسان مادی دنیا کے تعاقب میں شدید بے سکونی اور روحانی خلا کا شکار ہے، اور اس کا واحد حل نبوی طرزِ تعلق باللہ کو اپنانے میں ہے۔ آئیے! آمدِ ربیع الاول کے اس سعید موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی نمازوں کو زندہ کریں گے، مسنون اذکار کو اپنی زبان کا حصہ بنائیں گے اور اپنے رب کے ساتھ سچی محبت کا تعلق قائم کریں گے۔

دعا:

اللهم أعنا على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك اللهم اجعل حبك أحب الأشياء إلينا وخشيتك أخوف الأشياء عندنا

اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت پر ہماری مدد فرما۔ اے اللہ! اپنی محبت کو ہمارے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب اور اپنے خوف کو ہمارے نزدیک سب سے بڑھ کر بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ تعلق باللہ اور روحانیت کو پھیلانا اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.