نبی ﷺ کا اخلاق: دشمنوں کے ساتھ بھی - عفو و درگزر، عالی ظرفی اور 14 اگست پر پیغام | قسط 226 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Comprehensive Islamic guide on Prophet Muhammad's (PBUH) sublime character towards enemies. Special 14th August Pakistan Independence Day reflection on forgiveness and justice by Dr. Wajid Irshad."


نبی ﷺ کا اخلاق: دشمنوں کے ساتھ بھی - عفو و درگزر، عالی ظرفی، اور 14 اگست پر ریاستِ پاکستان کے لیے فکری پیغام
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: اخلاق (قسط نمبر: 226)
1۔ تمہید (Introduction)
اخلاق انسان کا وہ حقیقی زیور ہے جو اس کی باطنی خوبصورتی اور سیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اپنے دوستوں، عزیزوں اور ہم خیال لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا ایک عام بشری تقاضا ہے، لیکن حقیقی اخلاقی عظمت اور انسانیت کا سچا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان کا واسطہ اپنے سخت ترین دشمنوں، مخالفین اور بدخواہوں سے پڑے۔ دنیا کی تاریخ میں جتنے بھی فاتحین اور رہنما گزرے ہیں، انہوں نے غلبہ پانے کے بعد انتقام، خونریزی اور دشمنوں کی تذلیل کا راستہ اختیار کیا، لیکن نبوتِ محمدی ﷺ کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ وہاں طاقت اور غلبے کے باوجود عفو، درگزر اور دشمن کے ساتھ بھی ناگفتہ بہ حالات میں عدل و احسان کا درخشندہ مظاہرہ ملتا ہے۔
آج 14 اگست کا مبارک دن ہے—جو کہ پاکستان کا یومِ آزادی ہے۔ جب ہم 14 اگست 1947ء کو مدینہ کے بعد کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاستِ پاکستان کی آزادی کی خوشیاں منا رہے ہیں، تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ملکی، سیاسی اور معاشرتی رویوں کا جائزہ بھی لیں۔ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ سیاسی و فکری اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دینا، مخالفین پر بے بنیاد الزام تراشی، بدزبانی اور بدلے کی سیاست ہے۔ اگر ہم بحیثیتِ قوم اور ریاستِ پاکستان کی مسندِ اقتدار پر بیٹھے حکمران، اپوزیشن اور عوام نبیِ اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنا لیں—جہاں دشمنوں کے ساتھ بھی عالی ظرفی، عدل اور معافی کا معاملہ کیا جاتا تھا—تو ہمارا وطن پاکستان واقعی امن، عدل اور حقیقی آزادی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں دشمنوں کے ساتھ نبوی اخلاق کے کیا مظاہر تھے؟ اور 14 اگست کے دن ہم اس نبوی پیغام کو پاکستان کے موجودہ حالات پر کیسے نافذ کر سکتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی، سیرت اور ملی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ اور دشمن کے ساتھ بھی برائی کا جواب بھلائی سے دینے کی حکمتِ عملی کو یوں بیان فرمایا ہے:
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (سورۃ فصلت: 34)
اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتیں، تم (برائی کا) جواب اس طریقے سے دو جو سب سے اچھا ہے، پھر اچانک وہ شخص کہ تمہارے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہو جائے گا جیسے وہ کوئی دلی دوست ہو۔
وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (سورۃ المائدۃ: 8)
اور کسی قوم کی دشمنی تم کو ہرگز اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو، تم عدل کرو! یہی تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے اور جوڑے رکھنے کو اخلاقی عظمت قرار دیا ہے:
• معافی سے عزّت میں اضافہ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "...وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلاَّ عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ"
(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2588)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "...اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلندی عطا فرماتا ہے۔"
• ظلم کرنے والے کو معاف کرنے کی تعلیم
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَا عُقْبَةُ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْرِضْ عَمَّنْ ظَلَمَكَ" (وفي رواية: وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ) (مسند احمد، رقم الحدیث: 17452)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "اے عقبہ! جو تم سے ناطہ توڑے اس سے جوڑو، جو تمہیں محروم کرے اسے دو، اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو۔"
4۔ دشمنوں کے ساتھ نبوی اخلاق کے 4 درخشندہ تاریخی واقعات
سیرتِ طیبہ میں دشمنوں کے ساتھ آپ ﷺ کی عالی ظرفی کے ایسے واقعات موجود ہیں جن کی نظیر تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی:
1۔ فتحِ مکہ پر عمومی معافی (عفوِ عام):
تیرہ سال تک اذیتیں دینے والے، صحابہ کو شہید کرنے والے اور آپ ﷺ کو وطن بدر کرنے والے مکہ کے قریش جب سامنے آئے اور ڈرے ہوئے تھے کہ آج ان کا خاتمہ ہو جائے گا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو"۔ اس نبوی اخلاق نے دشمنوں کے دلوں کو موم کر دیا۔
2۔ طائف کے خونخواروں کے لیے دعا:
جب طائف کے اوباشوں نے آپ ﷺ کو لہولہان کر دیا اور ملائکہ نے انہیں تباہ کرنے کی اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے بددعا کی بجائے فرمایا: "اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ جانتے نہیں ہیں"۔
3۔ ہندہ اور وحشیؓ کو معاف فرمانا:
نبی کریم ﷺ کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مثلہ کرنے والی ہندہ اور قاتل وحشی جب بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے تمام ذاتی صدمات اور دکھوں کو بھول کر انہیں معاف فرما دیا۔
4۔ زہر دینے والی یہودی عورت سے درگزر:
خیبر میں جب ایک یہودی عورت نے آپ ﷺ کو سالن میں زہر ملا کر مارنے کی کوشش کی، تو آپ ﷺ نے اپنے ذاتی حق کے لیے اس سے کوئی انتقام نہیں لیا اور معاف فرما دیا۔
5۔ نبوی اسوے اور 14 اگست کی مناسَبت سے قومی و معاشرتی جائزہ
آج 14 اگست یومِ آزادی کے موقع پر اگر ہم اپنے ملک پاکستان کا جائزہ لیں تو ہمارے اخلاقی زوال کا تضاد یوں سامنے آتا ہے:
1۔ سیاسی و اجتماعی اختلاف کا انداز:
ہمارا رویہ: سیاسی حریفوں کو "دشمن" سمجھنا، انتقامی کارروائیاں کرنا، جیلوں میں ڈالنا اور گالی گلوچ کا کلچر عام کرنا۔
نبوی اسوہ: سخت ترین دشمن کے ساتھ بھی عدل، احترام اور عفو و درگزر کا معاملہ کرنا۔
2۔ عدل اور قانون کا معیار:
ہمارا رویہ: اپنوں کے لیے قانون نرم اور مخالفین کے لیے انصاف کے دوہرے معیار اور انتقام۔
نبوی اسوہ: "اگر میری بیٹی فاطمہ بھی (بالفرض) چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹتا"—بلا تفریقِ دشمن و دوست عدل کا قیام۔
3۔ آزادی کا حقیقی مفہوم:
ہمارا رویہ: آزادی کو بے لگام رویے، دوسروں کی تذلیل اور حقوق تلفی کا ذریعہ بنانا۔
نبوی اسوہ: آزادی کا مطلب نفس، انا اور انتقام کی غلامی سے آزاد ہو کر اللہ کی بندگی اور خلقِ خدا کی خدمت کرنا ہے۔
6۔ دشمنوں اور مخالفین کے ساتھ نبوی اخلاق اپنانے کے 5 عملی قدم (Practical Steps)
بحیثیت مسلمان اور باوقار پاکستانی شہری، اپنے اندر نبوی اخلاق پیدا کرنے کے لیے ان ۵ اقدامات پر عمل کریں:
الف) "انتقام" کے بجائے "درگزر" کو ترجیح دیں: ذاتی یا سیاسی مخالفت میں کسی کو زبردستی نیچا دکھانے یا بدلہ لینے کی نیت دل سے نکال دیں۔
ب) کلام میں شائستگی اور بدزبانی سے پرہیز: سوشل میڈیا یا عام زندگی میں مخالفین کے خلاف گالی گلوچ، بہتان تراشی اور کردار کشی سے مکمل توبہ کریں۔
ج) مخالف کی اچھائی کا اعتراف: دشمن یا مخالف میں بھی اگر کوئی اچھی بات یا صلاحیت ہو تو بغض کا شکار ہوئے بغیر اس کا اعتراف کریں۔
د) ملکی مفاد کو ذاتی انا پر مقدم رکھنا (14 اگست کا سبق): جیسے آپ ﷺ نے صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ پر امن و استحکام کو مقدم رکھا، ویسے ہی پاکستان کی سلامتی کے لیے سیاسی اختلاف کو بالائے طاق رکھیں۔
ہ) غائبانہ دعا کا اہتمام: اپنے مخالفین اور ہٹ دھرم افراد کے لیے ہدایت اور اصلاح کی غائبانہ دعا کریں تاکہ دلوں کا کینہ ختم ہو۔
7۔ نبوی اخلاق کو قوم اور ذات میں نافذ کرنے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو قوم اور افراد دشمنوں کے ساتھ بھی نبوی عدل و اخلاق کا معاملہ کرتے ہیں، انہیں یہ عظیم برکات حاصل ہوتی ہیں:
• دشمنوں کا دوستوں میں بدل جانا: قرآنی وعدے کے مطابق حسنِ اخلاق اور عفو و درگزر سے دشمن بھی سچے دوست بن جاتے ہیں۔
• پاکستان میں سیاسی و معاشرتی استحکام: 14 اگست کے موقع پر اگر ہم اس اخلاق کو اپنائیں تو ملک میں انتشار، خانہ جنگی اور نفرتوں کا خاتمہ ہوگا۔
• دنیا و آخرت میں سرفرازی: معاف کرنے اور عالی ظرفی دکھانے والے کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں بلند مقام عطا فرماتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کا اخلاق صرف دوستوں تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ ﷺ کے دشمن بھی آپ ﷺ کے عدل، امانت اور عفو و درگزر کی گواہی دیتے تھے۔ آج 14 اگست کے اس پرمسرت اور تاریخی موقع پر جب ہم پاکستان کی آزادی کا جشن منا رہے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ایک آزاد اسلامی ریاست کی روح "نظامِ مصطفیٰ ﷺ" اور "اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ" میں مضمر ہے۔ ہم اس وقت تک ایک مضبوط اور مستحکم قوم نہیں بن سکتے جب تک ہم اپنے سیاسی، لسانی اور مسلکی اختلافات کو نبوی عالی ظرفی اور عفو و درگزر سے حل نہ کریں۔ آئیے! اس 14 اگست پر ہم یہ عزم کریں کہ ہم اپنے دلوں سے کینہ، انتقام اور نفرت کو نکال پھینکیں گے، اپنے مخالفین کے ساتھ بھی نبوی عدل و اخلاق کا مظاہرہ کریں گے اور پاکستان کو امن، سلامتی اور اخلاقی عظمت کا حقیقی شاہکار بنائیں گے۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ اهْدِنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنَّا سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنَّا سَيِّئَهَا إِلاَّ أَنْتَ، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ حَالَ بَلَدِنَا بَاكِسْتَانَ، وَاجْعَلْهُ بَلَدًا آمِنًا مُطْمَئِنًّا، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا۔
اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا، اور ہم سے برے اخلاق کو دور فرما۔ اے اللہ! ہمارے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت فرما، اسے امن، سلامتی اور ترقی کا گہوارہ بنا، ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت اور نبوی عفو و درگزر کا جذبہ پیدا فرما اور ہمیں اپنے حبیب ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ حسنِ اخلاق اور 14 اگست کے حوالے سے یہ پیغام ہر پاکستانی اور مسلمان کے لیے فکری بیداری کا بہترین ذریعہ ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
