نبی ﷺ کا عدل اور انصاف - سيرتِ طیبہ کی روشنی میں | قسط 231 - ڈاکٹر واجد ارشاد

An inspiring article exploring the profound justice and fairness (Adl-o-Insaf) of Prophet Muhammad (PBUH) and its impact on moral life by Dr. Wajid Irshad.

Dr. Wajid Irshad

8/19/20261 min read

نبی ﷺ کا عدل اور انصاف - سیرتِ طیبہ کی روشنی میں

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 231)

1۔ تمہید

آمدِ ربیع الاول کی ان نورانی ساعتوں میں جہاں ہم رسولِ اکرم ﷺ کی آمد کا جشن مناتے ہیں، وہاں آپ ﷺ کے اخلاقِ عالیہ اور بالخصوص عدل و انصاف کے عالمگیر اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں جگہ دینا اصل مقصود ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل کا معاشرہ ظلم، ناانصافی اور طاقتور کی من مانی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنے اعلیٰ ترین اخلاق اور بلا امتیاز عدل و انصاف کے ذریعے ایک ایسے پرامن معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں امیر و غریب، عربی و عجمی اور اپنے و بیگانے سب کے لیے ایک ہی قانون نافذ تھا۔ 5 ربیع الاول کا یہ مبارک موقع ہمیں پیغام دیتا ہے کہ ہم سیرتِ طیبہ کی روشنی میں اپنے کردار اور معاشرے کو عدل و انصاف کی مثال بنائیں۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے

قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کو تمام انسانوں میں عدل قائم کرنے کا حکم دیا اور عدل کو تقویٰ کے سب سے قریب ترین اخلاقی صفت قرار دیا ہے:

وإذا حكمتم بين الناس أن تحكموا بالعدل إن الله نعما يعظكم به إن الله كان سميعا بصيرا (سورۃ النساء: 58)

اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، بے شک اللہ تمہیں کتنی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

اعدلوا هو أقرب للتقوى واتقوا الله إن الله خبير بما تعملون (سورۃ المائدہ: 8)

تم عدل و انصاف کرو، یہی بات تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خوب باخبر ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے عدل و انصاف کو اعلیٰ ترین اخلاقی قدر اور قیامت کے دن اللہ کے سایۂ عرش کا ذریعہ قرار دیا ہے:

عادل حکمران کے لیے عرش کا سایہ:

عن أبي هريرة رضی الله عنه عن النبي ﷺ قال: سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله: الإمام العادل... (صحیح البخاری: 660، صحیح مسلم: 1031)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالی اس دن اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا، ان میں سے پہلا شخص عادل حکمران (انصاف کرنے والا قائد) ہے۔

قیامت کے دن نور کے منبر:

عن عبد الله بن عمرو رضی الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: إن المقسطين عند الله على منابر من نور عن يمين الرحمن... الذين يعدلون في حكمهم وأهليهم وما ولوا (صحیح مسلم: 1827)

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں، اپنے گھر والوں اور جو ذمہ داری انہیں دی جائے اس میں عدل کرتے ہیں۔

4۔ عام انسانی عدل اور نبوی عدل میں 4 بنیادی فرق

عام دنیاوی قوانین کے عدل اور سیرتِ طیبہ سے ملنے والے نبوی اخلاقی عدل میں یہ گہرا اور بنیادی فرق موجود ہے:

1۔ طبقاتی رعایت بمقابلہ یکساں قانون:

دنیاوی اصلاحات میں اکثر طاقتور اور امیر کو رعایت دی جاتی ہے، جبکہ نبوی عدل میں تمام انسانوں کے لیے ایک ہی قانون اور ایک ہی سزا کا نظام قائم کیا گیا۔

2۔ بدلے کی ہوس بمقابلہ اخلاقی انصاف:

عام قوانین صرف سزاؤں پر زور دیتے ہیں، جبکہ نبوی عدل کے ساتھ حسنِ اخلاق، شفقت اور اصلاح کو مقدم رکھا گیا تاکہ انسان کا کردار سنور سکے۔

3۔ اپنے اور بیگانے میں فرق بمقابلہ غیر جانبدارانہ عدل:

عام انسانی نظام اپنے چاہنے والوں کے لیے الگ اور مخالفین کے لیے سخت ہوتا ہے، جبکہ نبوی عدل نے کٹر دشمنوں (یہودیوں اور مشرکوں) کے ساتھ بھی انصاف کرنے کی تاکید فرمائی۔

4۔ قانون کا خوف بمقابلہ خوفِ خدا:

دنیاوی عدل صرف عدالت یا پولیس کے سامنے قائم رہتا ہے، جبکہ نبوی عدل انسان کی باطنی و اخلاقی تربیت کر کے اسے تنہائی میں بھی عادل بناتا ہے۔

5۔ سیرتِ طیبہ سے ملنے والے عدل و انصاف کے 6 درخشندہ اصول

سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے اخلاقی عدل و انصاف کے یہ اہم ترین اصول سامنے آتے ہیں:

1۔ بلا امتیاز اور مساوی قانون کا نفاذ (Equality Before Law):

جب قبیلہ مخزوم کی معزز عورت کی چوری پر سفارش لائی گئی تو آپ ﷺ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "پچھلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی غریب جرم کرتا تو سزا دیتے۔ خدا کی قسم! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔" (صحیح البخاری: 3475)

2۔ دشمنوں کے ساتھ بھی غیر جانبدارانہ انصاف (Justice to Enemies):

خیبر کے موقع پر جب حضرت عبد اللہ بن سہلؓ کا قتل ہوا تو آپ ﷺ نے بلا ثبوت اور صرف شک کی بنیاد پر یہودیوں پر سزا نافذ نہیں کی، بلکہ ان کے انکار پر خود بیت المال سے ان کا خون بہا ادا فرمایا۔ (صحیح البخاری: 6898)

3۔ ذاتی قصاص کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنا (Accountability of Self):

وفات سے چند روز قبل آپ ﷺ نے صحابہ کے عمومی اجتماع میں فرمایا: "اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو یہ میری پیٹھ ہے وہ بدلہ لے لے، اور اگر کسی کا مال لیا ہو تو یہ میرا مال ہے وہ لے لے۔" (سنن سعید بن منصور: 2470)

4۔ مالی اور معاشی معاملات میں عدل (Economic Fairness):

آپ ﷺ نے ناپ تول میں کمی، سودی مظالم اور تجارتی دھوکہ دہی کا خاتمہ فرما کر تمام تاجروں کو شفافیت اور عدل کا پابند بنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔" (جامع الترمذی: 1209)

5۔ گھر اور گھر والوں کے درمیان عدل (Family and Domestic Justice):

آپ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات اور اولاد کے درمیان تقسیمِ اوقات اور مالی امور میں باریک بین عدل قائم فرمایا۔ آپ ﷺ نے والدین کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنی اولاد کے درمیان تحائف دینے میں بھی برابری اور عدل کریں۔ (صحیح البخاری: 2587)

6۔ مظلوم کی دادرسی اور حمایت (Protecting the Oppressed):

بعثت سے قبل حلف الفضول میں شرکت کر کے مظلوموں کا ساتھ دینے کا جو عزم آپ ﷺ نے فرمایا تھا، اعلانِ نبوت کے بعد بھی اسے برقرار رکھا اور فرمایا کہ اگر مجھے اب بھی ایسے حلف کے لیے بلایا جائے تو میں ضرور شریک ہوں گا۔ (السنن الکبری للبیہقی: 12859)

6۔ نبوی طرزِ عدل کو زندگی میں اپنانے کے 5 عملی قدم

اگر ہم اپنے گھر، دفتر اور معاشرے میں نبوی اخلاق اور عدل و انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں تو ان پر عمل کریں:

1۔ اپنی ذات اور گھر سے عدل کا آغاز کریں: اپنی اولاد، ازواج اور ماتحتوں کے درمیان معاملے میں کسی قسم کی ناانصافی اور تحصیص نہ ہونے دیں۔

2۔ فیصلوں میں غیر جانبداری اختیار کریں: رشتہ دار یا دوست کی غلطی پر بھی سچائی کا ساتھ دیں اور ذاتی پسند و ناپسند کو انصاف کے راستے میں نہ آنے دیں۔

3۔ حقوق العباد کی ادائیگی میں نرمی اور انصاف رکھیں: اپنے ملازمین اور مزدوروں کی اجرت ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اور پوری ادا کریں۔

4۔ گواہی اور سچائی کو قائم رکھیں: کسی کے خلاف یا حق میں جھوٹی گواہی، بدگمانی اور تعصب سے مکمل پرہیز کریں۔

5۔ غلطی پر رجوع اور تلافی کی عادت ڈالیں: اگر آپ سے کسی کا حق تلف ہو جائے یا زیادتی ہو جائے تو فوراً معافی مانگ کر اس کا حق لوٹائیں۔

7۔ نبوی طرزِ عدل کو اپنانے کے انمول ثمرات

جو فرد، خاندان یا ادارہ سیرتِ طیبہ کے ان اخلاقی اور عدل گستر اصولوں کو اپناتا ہے، اسے یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں:

• معاشرتی امن و سکون: ظلم اور ناانصافی کے خاتمے سے معاشرے میں باہمی اعتماد اور امن قائم ہوتا ہے۔

• اللہ تعالی کی محبوبیت: عدل کرنے والے کو اللہ تعالی اپنا محبوب بناتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے۔

• دنیا و آخرت کی کامیابی: عادل فرد اور قوم زوال سے محفوظ رہتی ہے اور آخرت میں نور کے بلند درجات حاصل کرتی ہے۔

8۔ اختتامیہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ 5 ربیع الاول کی یہ مبارک گھڑیاں ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا لایا ہوا نظامِ اخلاق اور عدل و انصاف ہی دنیا کو ہر قسم کے ظلم اور فساد سے نجات دلا سکتا ہے۔ آج اگر ہمارے گھروں، اداروں اور حکومتوں میں بے برکتی اور انتشار ہے، تو اس کی بنیادی وجہ اخلاق کی کمی اور عدل و انصاف سے دوری ہے۔ آئیے! اس مبارک مہینے میں ہم یہ پختہ عزم کریں کہ ہم اپنی ذاتی زندگی سے لے کر اپنے معاشرتی کردار تک ہر معاملے میں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے عدل و انصاف اور اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں گے۔

دعا:

اللهم اهدنا لأحسن الأخلاق والأعمال لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عنا سيئها لا يصرف عنا سيئها إلا أنت اللهم اجعلنا من المقسطين العادلين

اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق اور بہترین اعمال کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا کوئی بہترین اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا، اور ہم سے برے اخلاق کو دور فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں عدل و انصاف کرنے والوں میں سے بنا۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ عدل و اخلاق کو پھیلانا اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.