مشکلات کو مثبت انداز میں دیکھنا: الٰہی حکمت، ایمانی زاویۂ نظر اور فکری بالیدگی | قسط 193 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Learn how to adopt an Islamic positive mindset towards life hardships, understand divine wisdom behind trials, prophetic teachings, and mental strength by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/12/20261 min read

مشکلات کو مثبت انداز میں دیکھنا: الٰہی حکمت، ایمانی زاویۂ نظر اور فکری بالیدگی

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 193)

1۔ تمہید (Introduction)

انسان کی دنیاوی زندگی آسائشوں اور مصائب کا ایک متوازن امتزاج ہے۔ دنیا دار الامتحان ہے، اور یہاں آنے والی مشکلات، تکالیف، مالی و جسمانی نقصان یا حالات کی تنگی انسان کا مقدر ہیں۔ تاہم، زندگی کا اصل حسن اور انسان کی فکری و ایمانی پختگی کا اندازہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس پر کتنی مشکلات آئیں، بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ مشکلات کو کس زاویۂ نظر (Perspective) سے دیکھتا ہے۔ عام انسان مشکلات کو دیکھ کر شکوہ، بے چینی اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ ایک صاحبِ ایمان اور فکرِ اسلامی کا حامل انسان مشکلات کو الٰہی حکمت، گناہوں کی دھلائی، درجات کی بلندی اور باطنی بالیدگی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

اسلامی فکر انسان کو حوادثِ روزگار کے مقابلے میں ایک مثبت، روشن اور پراعتماد فکر (Islamic Optimism) عطا کرتی ہے۔ جب انسان کا فکری زاویہ بدلتا ہے تو مشکل کا بوجھ نصف رہ جاتا ہے۔ قرآنی نقطۂ نظر سے ہر مشکل کے ساتھ آسانی کا دور وابستہ ہے اور کوئی بھی مصیبت رب العزت کی اجازت اور حکمت کے بغیر نازل نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اس بات کی عملی گواہ ہے کہ آپ ﷺ نے شدید ترین حالات، طائف کے پتھروں اور شعبِ ابی طالب کی محصوری میں بھی کبھی منفی فکر کو قریب نہیں آنے دیا، بلکہ ہمیشہ خیر اور مثبت پہلو کو غالب رکھا۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی فکری زاویے کا تفصیلی علمی اور تجزیاتی جائزہ لیں گے کہ مشکلات کو مثبت انداز میں کیسے دیکھا جائے اور یہ فکر انسان کی شخصیت کو کیسے نکھارتی ہے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

کلامِ الٰہی میں رب العزت نے مشکلات کے پیچھے چھپی الٰہی حکمت اور آسانی کا ضابطہ بیان فرمایا ہے:

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (سورۃ الانشراح: 5-6)

پس بیشک تنگی (مشکل) کے ساتھ آسانی ہے، بیشک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (سورۃ البقرۃ: 216)

اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤمن کے لیے تکلیف بھی باطنی خیر کا باعث بن جاتی ہے:

کانٹا چبھنے پر بھی گناہوں کا جھڑنا

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا"

(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5640 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2572)

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے۔

آزمائش کا تعلق محبوبیت سے ہے

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ..."

(جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2396، علامہ البانی نے اسے حسن کہا ہے)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک بڑا اجر بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے...

4۔ منفی طرزِ فکر اور اسلامی مثبت فکر کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

مشکلات کے وقت انسان کے فکری رویے میں یہ واضح فرق پایا جاتا ہے:

  • 1۔ بنیادی سوال:

    • دنیادارانِ منفی فکر (Negative & Victim Mindset): "یہ سب منفی اور برا صرف میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟" (Why Me?)

    • اسلامی مثبت فکر (Islamic Positive Mindset): "اس مشکل اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت، بہتری اور خیر پوشیدہ ہے؟"

  • 2۔ باطنی ردِعمل:

    • دنیادارانِ منفی فکر (Negative & Victim Mindset): شکوہ، جزع فزع، شدید غصہ اور مسلسل ذہنی تناؤ کا شکار رہنا۔

    • اسلامی مثبت فکر (Islamic Positive Mindset): صبر، استغفار، قلبی سکون اور اللہ کی ذات پر کامل توکل۔

  • 3۔ مشکل کا تصور:

    • دنیادارانِ منفی فکر (Negative & Victim Mindset): کسی بھی تکلیف کو محض سزا، تباہی اور اپنی زندگی کا اختتام سمجھنا۔

    • اسلامی مثبت فکر (Islamic Positive Mindset): مشکل کو الٰہی تربیت، گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا ذریعہ جاننا۔

  • 4۔ عملی نتیجہ:

    • دنیادارانِ منفی فکر (Negative & Victim Mindset): ذہنی اور روحی تنزلی، اور رشتوں و تعلقات میں مسلسل بگاڑ۔

    • اسلامی مثبت فکر (Islamic Positive Mindset): فکری بالیدگی، مضبوط و باوقار شخصیت اور آخرت میں اجرِ عظیم۔

5۔ مشکلات کو مثبت انداز میں دیکھنے کے 5 فکری طریقے (Strategies)

اپنی فکر کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے اور مشکلات کو مثبت انداز میں اپنانے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:

  • الف) "الٰہی حکمت" پر غیر متزلزل یقین:

یہ سوچیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اور اس کی ہر تدبیر میں بندے کی بہتری چھپی ہوتی ہے، خواہ ظاہری طور پر وہ تلخ ہو۔

  • ب) "کفارۂ ذنوب" کا زاویہ:

مشکل کو گناہوں کی معافی کا ذريعہ سمجھیں۔ انسان جب دنیا کی چھوٹی تکلیف پر صبر کرتا ہے تو وہ آخرت کے بڑے عذاب سے بچ جاتا ہے۔

  • ج) "تربیت اور نکھار" کی سوچ:

جس طرح سونے کو آگ میں تپا کر خالص بنایا جاتا ہے، اسی طرح مشکلات انسان کی باطنی اور اخلاقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے آتی ہیں۔

  • د) اپنے سے نیچے والوں پر نظر:

جب بھی کوئی تنگی آئے تو اپنے سے زیادہ تکلیف میں مبتلا لوگوں کو دیکھیں، اس سے دل میں شکایت کے بجائے شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو گا۔

  • ہ) ہر مشکل میں خیر کا پہلو تلاش کرنا:

رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے حالات کی تنگی میں بھی ان مثبت راستوں اور نعمتوں کو تلاش کریں جو اب بھی آپ کے پاس موجود ہیں۔

6۔ مثبت فکری زاویے کا سچا معیار کیا ہے؟

روزمرہ کی عملی زندگی میں مشکلات کو مثبت دیکھنے کا سچا معیار یہ ہے کہ:

  • صدمے کے بالکل ابتدائی لمحے میں زبان سے گلہ شکوہ نہ نکلے، بلکہ "انّا للہ وانّا الیہ راجعون" اور الحمد للہ کی صدا بلند ہو۔

  • انسان حالات کی خرابی کا ملبہ دوسروں یا تقدیر پر ڈالنے کے بجائے اپنے باطن اور اعمال کا جائزہ لے کر اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔

  • مشکل وقت میں بھی انسان اپنے فرائض اور دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

7۔ مثبت فکر اختیار کرنے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان مشکلات کو ایمانی اور مثبت زاویے سے دیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم ثمرات عطا فرماتا ہے:

  • ذہنی دباؤ اور اینگزائٹی سے نجات: مثبت فکر انسان کے اعصاب کو سکون فراہم کرتی ہے اور وہ نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

  • بے حساب اجرِ عظیم: صابرین اور مثبت فکر رکھنے والوں کے بارے میں قرآن کا وعدہ ہے کہ انہیں ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔

  • اللہ کی خاص قربت: آزمائش میں مثبت رویہ دکھانے سے انسان اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی صف میں شامل ہو جاتا ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ مشکلات زندگی کا لازمی حصہ ہیں، مگر انہیں دیکھنے کا زاویہ ہماری اپنی فکر پر منحصر ہے۔ منفی فکر انسان کے لیے چھوٹی مشکل کو بھی پہاڑ بنا دیتی ہے، جبکہ اسلامی مثبت فکر پہاڑ جیسی مصیبت کو بھی الٰہی رحمت کا زینہ بنا دیتی ہے۔ مؤمن حالات کا غلام نہیں ہوتا بلکہ وہ ایمان کے نور سے حالات کا رخ موڑ دیتا ہے۔ آئیے! ہم اپنی سوچ کو قرآن و سنت کے فکری سانچے میں ڈھالیں اور ہر مشکل میں الٰہی حکمت اور خیر کے پہلو کو تلاش کریں۔ جب فکر روشن ہوگی تو دنیا کی کوئی مشکل انسان کے قدم نہیں ڈگمگا سکے گی۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي صَبُورًا، وَاجْعَلْنِي شَكُورًا، وَاجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا، اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي

اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور بہترین عبادت پر میری مدد فرما۔ اے اللہ! مجھے بہت صبر کرنے والا اور بہت شکر کرنے والا بنا، اور مجھے اپنی نظر میں چھوٹا اور لوگوں کی نظروں میں بڑا (معزز) بنا دے۔ اے اللہ! میرے دل میں صحیح اور مثبت فکر الہام فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

مشکلات کو مثبت انداز میں دیکھنے کا یہ فکری پیغام کسی پریشان اور غم زدہ انسان کے لیے قلبی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.