مشکل وقت میں ایمان بچانے کی حکمت اور عملی طریقے | سلسلہ ایمان قسط 166 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Learn the spiritual strategies to protect your faith (Eman) during hard times and crises. Read the profound guidelines based on Quran & Sunnah by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

6/15/20261 min read

بحرانوں میں استقامت: مشکل وقت میں ایمان بچانے کی حکمت

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 166)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی مدوجزر کا نام ہے۔ یہاں ہر شخص کو کبھی نہ کبھی معاشی تنگی، جسمانی علالت، پیاروں کی جدائی، یا سماجی ناانصافی جیسے شدید بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب ان بیرونی مصائب کے اثرات انسان کے باطن پر اثر انداز ہونے لگیں اور اس کا ایمانی قلعہ کمزور پڑ جائے۔ دورِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑی آزمائش یا مشکل وقت آتا ہے، انسان جلد بازی میں مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے، الٰہی فیصلوں پر شکوے زبان پر لاتا ہے، یا عارضی دنیاوی عافیت کے لیے اپنے اصولوں اور ایمان کا سودا کر بیٹھتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ آزمائشیں ایمان کو مٹانے کے لیے نہیں، بلکہ اسے کندن بنانے کے لیے آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب حالات موافق نہ ہوں اور ہر طرف سے مصائب کا گھیراؤ ہو، تو اپنے ایمان کی حفاظت کیسے کی جائے؟

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'anic Solace)

کلامِ الٰہی ہمیں آزمائشوں کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہے اور ثابت قدم رہنے والوں کو ابدی کامیابی کی نوید سناتا ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (سورۃ البقرہ: 155)

اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک، اور مالوں، جانوں اور پھلوں (آمدنی) کے نقصان کے ذریعے آزمائیں گے، اور (اے حبیب!) آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مشکلات زندگی کا لازمی حصہ ہیں، اور کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف صبر و استقامت پر ہے۔

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (سورۃ الانشراح: 5-6)

پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک (اسی) تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔

الٰہی ضابطہ ہے کہ کوئی بھی مشکل مستقل نہیں ہوتی؛ ہر اندھیری رات کے پیٹ سے ایک روشن صبح جنم لیتی ہے۔

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (سورۃ البقرہ: 286)

اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ (ذمہ داری یا آزمائش) نہیں ڈالتا۔

جب رب نے آزمائش دی ہے، تو اس نے آپ کے اندر اس سے لڑنے کی سکت بھی رکھی ہے؛ بس اپنے توکل کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں کٹھن حالات میں ذہنی اور باطنی توازن برقرار رکھنے کا کامل نسخہ عطا کرتے ہیں:

• مؤمن کے ہر معاملے میں خیر

عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2999)

مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے اور یہ اعزاز مؤمن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔

مشکل وقت بھی مؤمن کے لیے درجات کی بلندی اور گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

• اندھیری رات جیسے فتنے اور ایمان کا تحفظ

بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 118)

فتنوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال کی طرف جلدی کرو جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، (ایسا وقت ہوگا کہ) انسان صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر۔

یہ فرمان متنبہ کرتا ہے کہ برے حالات میں نیک اعمال کا حصار ہی انسان کے ایمان کو بچا سکتا ہے۔

• انگارے پر ہاتھ رکھنے کا دور

يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2260، علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اپنے دین پر صبر (استقامت) کرنے والا شخص ایسا ہوگا جیسے ہاتھ میں انگارا پکڑنے والا۔

ایسے نازک وقت میں دین پر قائم رہنا ہی اصل ایمانی شجاعت اور بڑے اجر کا باعث ہے۔

4۔ مشکل وقت میں ایمان کمزور پڑنے کے نفسیاتی اسباب (Why Faith Waver)

بحرانوں کے دوران انسان کا باطنی توازن ان چار وجوہات کی بنا پر بگڑتا ہے:

  • مایوسی (Despair) کا غلبہ: جب مصائب طویل ہو جائیں، تو شیطان انسان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اب حالات کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے، جس سے توکل کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔

  • دنیاوی اسباب پر حد سے زیادہ تکیہ: جب انسان صرف ظاہری مادی وسائل کو ہی سب کچھ سمجھ لیتا ہے اور وہ وسائل فیل ہو جاتے ہیں، تو اس کا حوصلہ یکسر جواب دے جاتا ہے۔

  • الٰہی حکمتوں سے ناواقفیت: انسان فوری نفع چاہتا ہے، وہ نہیں جانتا کہ بسا اوقات ایک ظاہری نقصان کے پیچھے اللہ نے اس کے لیے کتنی بڑی باطنی حفاظت رکھی ہوتی ہے۔

  • تنہائی اور بری صحبت: مشکل وقت میں جب انسان اکیلا رہ جائے یا منفی سوچ رکھنے والے لوگوں میں بیٹھے، تو اس کی الٰہی شکوے کرنے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے۔

5۔ ایمان کی حفاظت کے پانچ عملی و حکیمانہ طریقے (Strategies for Preservation)

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اس وقت کسی بھی قسم کی سخت آزمائش سے گزر رہا ہے، تو ان پانچ حصاروں کے ذریعے اپنے ایمان کو محفوظ رکھیں:

الف) "راضی بہ رضا" کی باطنی مشق

اپنے دل کو یہ سمجھائیں کہ کائنات کا مالک مجھ سے زیادہ مجھ پر مہربان ہے۔ جو فیصلہ اس کی بارگاہ سے آیا ہے، اس میں میرے لیے کوئی نہ کوئی خیر ضرور پوشیدہ ہے۔ شکوے کے کلمات کو الحمدللہ سے بدل دیں۔

ب) فرائض کی پابندی اور ذکر کی کثرت

جب ذہنی دباؤ بڑھے، تو نمازوں کی پابندی اور کثرتِ استغفار کو اپنی ڈھال بنا لیں۔ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ" اور "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کا ورد دل کے اضطراب کو سکون میں بدل دیتا ہے۔

ج) ماضی کی نعمتوں کا استحضار (Count Your Blessings)

موجودہ مصیبت پر فوکس کرنے کے بجائے، زندگی کے ان سالوں کو یاد کریں جب اللہ نے آپ کو بغیر مانگے بے شمار نعمتوں، تندرستی اور عافیت سے نوازا تھا۔ یہ سوچ دل میں شرمندگی اور شکر گزاری پیدا کرتی ہے۔

د) تاریخِ انبیاء اور اسلاف کے مصائب کا مطالعہ

حضرت ایوب علیہ السلام کی طویل علالت، حضرت یوسف علیہ السلام کی قید، اور رسولِ اکرم ﷺ کی شعبِ ابی طالب کی تکالیف کو پڑھیں۔ جب کائنات کے سب سے محبوب نفوس آزمائے گئے، تو ہماری آزمائش ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔

ہ) صالحین کی رفاقت اور مثبت ماحول

ایسے مخلص اور صابر لوگوں کے پاس بیٹھیں جو آپ کو ڈھارس بندھائیں، مایوسی پھیلانے کے بجائے رب کی رحمت کی امید دلائیں، اور آپ کو گناہوں کے راستے پر جانے سے روکیں۔

6۔ ایمان بچانے کا اصل اور حقیقی معیار کیا ہے؟

مشکل وقت میں ایمان بچانے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف زبان سے کلمہ پڑھتا رہے، بلکہ اس کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:

1. معاشی تنگی کی انتہا پر بھی انسان کا قدم حرام کمائی یا رشوت کی طرف نہ بڑھے۔

2. شدید بیماری یا دکھ میں بھی زبان پر کوئی کلمۂ کفر یا تقدیر کا شکوہ جاری نہ ہو۔

3. حالات کی خرابی کا بہانہ بنا کر نمازیں اور شرعی احکامات ترک نہ کیے جائیں۔

4. ظالم یا باطل قوت کے سامنے اپنے مفاد کے لیے سر نہ جھکایا جائے۔

7۔ استقامتِ ایمان کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو بندہ طوفانوں کے درمیان اپنے ایمان کے چراغ کو بجھنے نہیں دیتا، اسے الٰہی نظام کی طرف سے یہ ابدی انعامات ملتے ہیں:

  • ایمانِ کامل کی حلاوت: اسے وہ باطنی مٹھاس نصیب ہوتی ہے جس کے بعد دنیا کا کوئی دکھ اسے توڑے نہیں توڑ سکتا۔

  • الٰہی معیت کا احساس: وہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ اس کے بہت قریب ہے اور اس کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے۔

  • غیبی راستوں سے عافیت: آزمائش کا وقت جیسے ہی پورا ہوتا ہے، اللہ اس کے لیے ایسے راستوں سے کشادگی لاتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

  • جنتِ فرودس کا داخلہ: آخرت میں ملائکہ ایسے ہی صابرین کا استقبال "سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ" (تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کے بدلے) کے الہامی ترانے سے کریں گے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ مشکل وقت انسان کے ایمان کا وزن ناپنے کا پیمانہ ہے۔ عافیت کے دنوں میں تو ہر کوئی مؤمن ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے، لیکن سچا مؤمن وہی ہے جو طوفان کے تھپیڑوں میں بھی اپنے رب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ مشکلات عارضی ہوتی ہیں، یہ چند دن یا چند سال کے لیے آتی ہیں اور گزر جاتی ہیں، لیکن ان میں دکھایا گیا صابرانہ رویہ انسان کا اخروی مستقبل طے کر دیتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا میں کبھی دکھ نہ آئے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہر دکھ کے بعد ہمارا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط اور چمکدار ہو کر ابھرے۔

دعا (Supplication)

اللّٰهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ، اللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ

(دعائیہ کلمات)

"اے دلوں کو پھیرنے والے پروردگار! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم فرما۔ اے اللہ! ہم ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں اور آزمائشوں سے تیری پناہ کے طلبگار ہیں۔ آمین یا رب العالمین۔"

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

امید اور استقامت کا یہ پیغام گرتے ہوئے دلوں کا سہارا بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.