مشکل وقت میں دعا کا کردار: الٰہی سہارا، عبادتی روح اور مسنون التجا | قسط 199 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"Explore the spiritual and practical power of Dua (supplication) in difficult times, Quranic assurances, Prophetic teachings, times of acceptance, and inner peace by Dr. Wajid Irshad."

Dr. Wajid Irshad

7/18/20261 min read

مشکل وقت میں دعا کا کردار: الٰہی سہارا، عبادتی روح اور مسنون التجا

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 199)

1۔ تمہید (Introduction)

انسانی زندگی آزمائشوں، سختیوں اور غیر متوقع مشکلات کا مجموعہ ہے۔ جب انسان کو معاشی تنگی، بیماری، خوف یا ناگہانی مصائب گھیر لیتے ہیں تو وہ اکثر دنیوی اسباب، وسائل اور رشتوں کا سہارا تلاش کرتا ہے۔ تاہم، مادی دنیا کے تمام اسباب اور وسائل بسا اوقات ناکام ہو جاتے ہیں اور انسان اپنے آپ کو سخت تنہائی اور بے بسی کے عالم میں پاتا ہے۔ ایسے نازک، سخت اور تاریک لمحوں میں مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیار، روحانی ڈھال اور الٰہی سہارا "دعا" بنتی ہے۔ دعا محض چند الفاظ کے دہرانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک معزز اور عظیم ترین عبادت ہے جو بندے کا براہِ راست تعلق اس کے خالق سے جوڑ دیتی ہے۔

اسلامی شریعت میں دعا کو عبادات کی روح اور اس کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ مشکل وقت میں دعا مانگنا بندے کے عجز، فقر اور اللہ تعالیٰ کی بے نیازی و قدرت کا اعتراف ہے۔ جب ایک پریشان حال انسان اپنے ہاتھ رب کے حضور پھیلاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے مخلوق سے امیدیں توڑ کر صرف اور صرف خالقِ کائنات پر کامل توکل کر لیا ہے۔ دعا بندے کے بوجھل دل کو ہلکا کرتی ہے، اس کے اندر پرامید ایمانی طاقت پیدا کرتی ہے اور تقدیر کے لکھے کو بدلنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں دعا کا حقیقی عبادتی کردار کیا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں دعا کی کیا فضیلت ہے؟ اور دعا کی قبولیت کے وہ کون سے مسنون آداب ہیں جو انسان کو مشکلات کے طوفان سے نکال کر ساحلِ مراد تک پہنچاتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و عبادتی جائزہ لیں گے۔

2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)

کلامِ الٰہی میں رب العزت نے اپنے بندوں کو مشکلات میں پکارنے کا حکم دیا ہے اور قبولیت کی پختہ ضمانت دی ہے:

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ(سورۃ البقرۃ: 186)

اور (اے نبی!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں دریافت کریں تو (آپ فرما دیجیے کہ) میں یقیناً قریب ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں، پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ(سورۃ النمل: 62)

بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔

3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)

رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث سے ہمیں مشکل اور مصیبت کی گھڑیوں میں دعا کا عظیم مقام معلوم ہوتا ہے:

دعا تمام عبادات کا مغز

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ"

(جامع الترمذی، رقم الحدیث: 3371، علامہ البانی نے اسے ضعیف کہا لیکن مفہوم دیگر صحیح احادیث "الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ" سے ثابت ہے)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دعا عبادت کا مغز (روح) ہے۔

آزمائش اور بلا کو ٹالنے کا ذریعہ

عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "...وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ..."(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 4022، علامہ البانی نے اسے حسن کہا ہے)

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ...اور تقدیر (کی آزمائش و بلا) کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں موڑ سکتی...

پریشانی کی حالت میں سید الانبیاء ﷺ کی سنت

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ صَلَّى"    (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 1319، علامہ البانی نے اسے حسن کہا ہے)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی سخت معاملہ یا پریشانی پیش آتی تو آپ ﷺ فوراً نماز (اور دعا) کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔

4۔ محض مادی سہارے اور دعا کے ایمانی ہتھیار کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)

مشکل وقت میں صرف دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے اور دعا کو اصل سہارا بنانے کے درمیان یہ فرق ہے:

1۔ بنیادی امید:

محض مادی اسباب پر انحصار: فانی دنیا، انسانوں کی مدد اور مادی طاقت۔

دعا اور توکل کا عبادتی رویہ: قادرِ مطلق کی ذات، غیبی نصرت اور رحمت۔

2۔ ناکامی پر ردِعمل:

محض مادی اسباب پر انحصار: شدید ناامیدی، ذہنی بکھراؤ اور ٹوٹ پھوٹ۔

دعا اور توکل کا عبادتی رویہ: الٰہی حکمت پر تسلیم و رضا اور نیا عزم۔

3۔ روحانی حالت:

محض مادی اسباب پر انحصار: تکبر یا شدید بے بسی کا احساس۔

دعا اور توکل کا عبادتی رویہ: عجز و انکساری، خشوع اور قلبی اطمینان۔

4۔ نتائج کی وسعت:

محض مادی اسباب پر انحصار: صرف مادی حل تک محدود۔

دعا اور توکل کا عبادتی رویہ: مشکلات کا حل، گناہوں کی معافی اور آخرت کا اجر۔

5۔ مشکل وقت میں مؤثر دعا کی قبولیت کے 5 مسنون اصول (Strategies)

سختی اور پریشانی کی گھڑیوں میں اپنی دعاؤں کو مقبول اور اثر انگیز بنانے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:

الف) اضطرار اور عجز کے ساتھ دعا:

دعا مانگتے وقت اپنے دل میں سچا اضطرار، بے بسی اور عجز پیدا کریں۔ اللہ کے سامنے اپنے تمام غم کھول کر رکھ دیں۔

ب) "اسمِ اعظم" اور مسنون دعاؤں کا توسل:

مشکلات کے حل کے لیے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ کا ورد بکثرت کریں۔

ج) دعا میں جلدی نہ کرنا:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلدی نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ "میں نے دعا کی مگر قبول نہ ہوئی"۔

د) پاکیزہ رزق کی پابندی:

دعا کی قبولیت کی بنیادی شرط رزقِ حلال ہے۔ حرام اور مشتبہ لقمے سے پرہیز کریں تاکہ دعا عرشِ الٰہی تک پہنچے۔

ہ) نماز کے بعد اور قبولیت کے اوقات کا انتخاب:

فرض نمازوں کے بعد، سجدے کی حالت میں، رات کے آخری پہر (تہجد) اور جمعہ کے دن کی آخری ساعتوں میں خصوصی دعائیں کریں۔

6۔ عبادتی دعا اور سچے التجا کا معیار کیا ہے؟

روزمرہ زندگی میں مشکل وقت کی دعا کا سچا معیاری رویہ یہ ہے کہ:

انسان اسباب کا استعمال جائز حد تک کرے، لیکن دل کا پورا اعتماد اور امید صرف دعا اور رب کی ذات سے وابستہ رکھے۔

دعا کے نتائج فوراً ظاہرہ نہ ہونے کی صورت میں بھی بندہ اپنے رب سے بدگمان نہ ہو، بلکہ اسے الٰہی حکمت سمجھے۔

انسان صرف اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے مظلوم، بیمار اور پریشان حال مسلمان بھائیوں کے لیے بھی غائبانہ دعائیں کرے۔

7۔ مشکل وقت میں دعا کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)

جو انسان مشکل وقت میں دعا کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم ثمرات عطا فرماتا ہے:

کشفِ سوء (تکلیف کا دور ہونا): اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے ناگہانی آفتوں اور آزمائشوں کا رخ موڑ دیتا ہے۔

دائمی سکونِ قلب: دعا مانگنے سے انسان کے اندر کا ذہنی دباؤ اور اینگزائٹی ختم ہو جاتی ہے اور اسے عجیب اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

آخرت کے لیے عظیم ذخیرہ: اگر کوئی دعا دنیا میں من وعن پوری نہ بھی ہو، تو وہ آخرت میں نیکیوں کا عظیم خزانہ بن کر بندے کو ملتی ہے۔

8۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ دعا مؤمن کا سب سے بڑا ایمانی سرمایہ، بوجھل دلوں کی شفا اور مشکل وقت کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ کائنات کی کوئی طاقت ایسی نہیں جو اللہ کے فیصلوں اور بندے کی تقدیر کو بدل سکے، لیکن دعا وہ عبادتی طاقت ہے جس کے سامنے الٰہی رحمت جوش میں آ جاتی ہے۔ مصیبت کے طوفانوں میں جب دنیا کے تمام دروازے بند محسوس ہونے لگیں، تو دعا کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ آئیے! ہم یہ عزم کریں کہ زندگی کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے اور مشکل میں سب سے پہلے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر دعا کا دامن تھامیں گے۔ جب دعا ہماری عبادت اور عادت بن جائے گی تو دنیا کی کوئی مشکل ہمیں مایوس نہیں کر سکے گی۔

دعا (Supplication)

اللَّهُمَّ إِني أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ، اللَّهُمَّ اكْشِفْ عَنَّا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لاَ يَكْشِفُهُ غَيْرُكَ، اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ دُعَاءَنَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

اے اللہ! میں تجھ سے فکر، غم، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! ہم سے ان آزمائشوں اور مصائب کو دور فرما دے جنہیں تیرے سوا کوئی دور نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! ہماری دعاؤں کو قبول فرما، اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

مشکل وقت میں دعا کے عبادتی کردار کا یہ پیغام کسی پریشان اور غم زدہ انسان کے لیے امید اور قلبی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.