مشکل فیصلوں میں دین کو ترجیح دینے کی حکمت اور عملی لائحہ عمل | سلسلہ ایمان قسط 174 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Learn the psychological and spiritual dimensions of prioritizing Deen over worldly benefits in hard choices, guided by Quran and Sunnah by Dr. Wajid Irshad."


مشکل فیصلوں میں دین کو ترجیح: مادی مفادات اور ایمانی تقاضوں کے تصادم کا نفسیاتی و شرعی حل
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 174)
1۔ تمہید (Introduction)
انسانی زندگی فیصلوں کا ایک مسلسل سفر ہے، جہاں ہر شخص کو روزمرہ بنیادوں پر انتخاب کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن نفسِ مؤمن کے لیے سب سے کٹھن موڑ تب آتا ہے جب اس کے سامنے ایک طرف دنیاوی چمک دمک، فوری معاشی فائدہ، خاندانی دباؤ یا سماجی رتبہ ہو، اور دوسری طرف رب العزت کا صریح حکم اور شریعت کی حد ہو۔ ایسے نازک مقامات پر انسان کا باطن ایک شدید ترین نفسیاتی کشمکش اور فکری جنگ کا اکھاڑا بن جاتا ہے۔
دورِ حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ جب مادی مفادات اور ایمانی تقاضوں کے درمیان انتخاب کی نوبت آتی ہے، تو نفسِ امارہ دنیاوی خسارے کے خوف یا وقتی عافیت کے بہانے تراش کر دین کو پسِ پشت ڈالنے کا مشورہ دیتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ "اگر میں نے یہ سودا چھوڑ دیا، یہ نوکری نہ کی، یا اس معاشرتی رسم کو توڑ دیا تو میرا کیا بنے گا؟" سوال یہ ہے کہ زندگی کے ان مشکل اور دورس فیصلے کے مواقع پر دین کو ترجیح دینے کا باطنی حوصلہ کیسے پیدا کیا جائے؟ اور دنیاوی نقصان کے بظاہر نظر آنے والے خوف پر توکلِ الٰہی کو کیسے غالب کیا جائے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی ایمانی ترجیح کے نظام کا تفصیلی اور علمی محاکمہ کریں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'anic Solace)
کلامِ الٰہی ہمیں یہ فکری شعور عطا کرتا ہے کہ رب کی خاطر دنیاوی مفاد کو قربان کرنا خسارہ نہیں بلکہ ابدی منافع کا سودا ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (سورۃ الطلاق: 2-3)
اور جو کوئی اللہ سے ڈرے (تقویٰ اختیار کرے)، اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا کوئی راستہ بنا دیتا ہے۔ اور اسے ایسے گمان سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں اس کا وہم و خیال بھی نہ ہو، اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ (سورۃ التوبہ: 24)
آپ فرما دیجیے: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا کنبہ، تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور وہ تجارت جس کے مندا ہونے کا تمہیں خوف ہے، اور تمہارے وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (عذاب) لے آئے۔
فَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ لِلَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (سورۃ الشوریٰ: 36)
پس تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ تو محض دنیاوی زندگی کا عارضی سرمایہ ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے کہیں بہتر اور دائمی ہے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات ہمیں مشکل فیصلوں کے وقت نفس کی گھبراہٹ کو دور کرنے اور ایمانی ترجیحات کو درست کرنے کا کامل نسخہ عطا فرماتے ہیں:
اللہ کے لیے کسی چیز کو چھوڑنے کا انمول بدل
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا بَدَّلَكَ اللَّهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ" (مسند احمد، رقم الحدیث: 23074، علامہ ارناؤوط نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیشک تو اللہ عزوجل کے خوف یا اس کی رضا کی خاطر جس چیز کو بھی چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ تجھے اس کے بدلے اس سے کہیں بہتر چیز عطا فرما دے گا۔
ایمان کی حقیقی مٹھاس کا راز
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا..." (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 16 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 43)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ موجود ہوں، اس نے ایمان کی مٹھاس (حلاوت) کو پا لیا: (پہلی یہ کہ) اللہ اور اس کا رسول اسے تمام کائنات سے زیادہ محبوب ہوں۔۔۔
مخلوق کے دباؤ پر خالق کی رضا کو چننا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ، كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ، وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ" (جامع الترمذی، رقم الحدیث: 2414)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے لوگوں کی ناراضگی کے باوجود اللہ کی رضا کو تلاش کیا (دین کو ترجیح دی)، اللہ اسے لوگوں کے شر اور دباؤ سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے، اور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا چاہی، اللہ اسے لوگوں کے رحم و کرم پر ہی چھوڑ دیتا ہے۔
4۔ فیصلوں کے وقت ایمان ڈگمگانے کے نفسیاتی اسباب (Why Faith Waver)
جب زندگی میں کٹھن انتخاب کا وقت آتا ہے، تو انسان کا باطنی توازن ان چار نفسیاتی خطرات اور وجوہات کی بنا پر بگڑتا ہے:
1. فوری نفع کا فریب (Immediate Gratification): دنیاوی فائدے اور لذتیں سامنے نقد نظر آتی ہیں جبکہ آخرت کا اجر غیب میں ہے؛ نفس اس نقد مادی چمک کو دیکھ کر ادھار کے ابدی سودے کو چھوڑنے کی حماقت کر بیٹھتا ہے۔
2. مستقبل کا فرضی خوف (Fear of the Unknown): شیطان انسان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اگر تم نے شریعت پر عمل کیا تو فاقوں کا شکار ہو جاؤ گے یا معاشرے میں اکیلے رہ جاؤ گے، جس سے توکل کا رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
3. خاندانی و معاشرتی دباؤ (Peer Pressure): "لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف انسان کو حق پر مبنی فیصلہ کرنے سے روکتا ہے، اور وہ اپنے قریبی رشتوں یا برادری کو خوش کرنے کے لیے رب کی نافرمانی مول لے لیتا ہے۔
4. ایمانِ قلبی کی جگہ عقلی تاویلیں: جب ایمان کی جڑیں باطن میں گہری نہیں ہوتیں، تو نفس حرام کو حلال ثابت کرنے کے لیے حیلے بہانے اور جھوٹی منطقیں تیار کرنے لگتا ہے۔
5۔ فیصلوں میں دین کو ترجیح دینے کے پانچ عملی طریقے (Strategies for Preservation)
اگر آپ اس وقت کسی ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں آپ کو ایک مشکل اور فیصلہ کن انتخاب کرنا ہے، تو ان پانچ ایمانی حصاروں سے مدد لیں:
الف) ترجیحات کا ازسرِ نو تعین (Re-aligning Priorities)
اپنے دل پر یہ حقیقت نقش کریں کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کا سب سے بڑا نقصان بھی موت کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا، جبکہ دین کا خسارہ ابدی تباہی ہے۔ ابدی کو فانی پر ترجیح دینا ہی دانشمندی ہے۔
ب) استخارہ اور توکل کا ہتھیار
جب بھی کوئی بڑا فیصلہ کرنا ہو، مسنون طریقہ کار کے مطابق نمازِ استخارہ پڑھیں اور سچے دل سے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں۔ یہ عمل دل کی الجھن اور خوف کو یکسر دور کر دیتا ہے۔
ج) سلف صالحین کی قربانیوں کا استحضار
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی مثال سامنے رکھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر مکے کی امارت اور عیش و عشرت کو ٹھکرا کر پیوند زدہ لباس کو چن لیا۔ تاریخ کے ان اوراق سے نفس کو استقامت ملتی ہے۔
د) عارضی نقصان پر صبر اور وسیع زاویۂ نگاہ
یہ یقین رکھیں کہ شروعات میں دین پر چلنے سے جو مادی نقصان بظاہر نظر آ رہا ہے، وہ دراصل اللہ کی طرف سے آپ کے باطن کا امتحان ہے، جس کے فوراً بعد غیبی کشادگی اور برکت آنے والی ہے۔
ہ) اہل اللہ اور مخلصین کی مشاورت
ایسے فیصلوں کے وقت ان متقی اور سمجھدار لوگوں سے رائے لیں جو خود دین کو دنیا پر ترجیح دینے والے ہوں، نہ کہ ان سے جو مادہ پرستی کی عینک سے دنیا کو دیکھتے ہوں۔
6۔ مشکل فیصلوں میں ایمان کا اصل اور حقیقی معیار کیا ہے؟
کٹھن حالات میں دین کو ترجیح دینے کا حقیقی معیار یہ ہے کہ:
معاشی بحران کے عروج پر بھی جب سامنے کروڑوں کی رشوت یا سود کا موقع ہو، انسان رب کے خوف سے اسے ٹھکرا دے۔
شادی بیاہ یا خاندانی تقریبات میں جب پورا خاندان غیر شرعی رسومات پر بضد ہو، انسان تنہا کھڑے ہو کر بھی شریعت کا پاس رکھے۔
کیریئر اور ملازمت کے ایسے مواقع جہاں حلال و حرام کی حدیں دھندلا رہی ہوں، انسان مادی ترقی کو دین کے تحفظ کی خاطر قربان کر دے۔
دوستی اور تعلقات کے انتخاب میں جب کسی شخص کی وجہ سے ایمان خطرے میں ہو، انسان اللہ کی خاطر اس تعلق کو توڑنے کا حوصلہ دکھائے۔
7۔ استقامتِ ایمان کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو بندہ دنیا کی ہر طاقت اور مفاد کے سامنے اپنے دین کی ترجیح کو مقدم رکھتا ہے، اسے رب کریم کی طرف سے یہ ابدی انعامات ملتے ہیں:
باطنی سکون اور آزادی: وہ دنیا کی غلامی، لوگوں کے خوف اور مادی حسرتوں کی قید سے آزاد ہو کر سچے باطنی سکون کا بادشاہ بن جاتا ہے۔
برکتِ رزق کا ظہور: اللہ تعالیٰ اس کے قلیل مال اور وقت میں ایسی غیر معمولی برکت ڈال دیتا ہے جو بڑے بڑے مادہ پرستوں کو نصیب نہیں ہوتی۔
لوگوں کے دلوں میں عزت: مخلوق کو ناراض کر کے خالق کو راضی کرنے والے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ بالاآخر اللہ تعالیٰ اسی مخلوق کے دلوں میں اس کی سچی عزت و ہیبت پیدا فرما دیتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ زندگی کے مشکل فیصلے دراصل وہ ترازو ہیں جو ہمارے ایمان کے دعوے کا وزن کرتے ہیں۔ عافیت اور آسانی کے وقت تو ہر شخص دین کا وفادار ہونے کا دم بھر سکتا ہے، لیکن سچا مؤمن وہی ثابت ہوتا ہے جو مفادات کی قربان گاہ پر کھڑے ہو کر بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے ضابطے کا سودا نہیں کرتا。 دنیاوی نقصانات عارضی اور چند روزہ ہیں، یہ وقت گزر جائے گا، لیکن آپ کا ایک ایمانی فیصلہ آپ کی اخروی زندگی کے رخ کو ہمیشہ کے لیے متعین کر دے گا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب ہم اس دنیا سے رخصت ہوں، تو ہمارا باطن اس بات کی گواہی دے رہا ہو کہ ہم نے رب کو راضی کرنے کے لیے اپنی ہر خواہش اور دنیاوی مفاد کو پامال کر دیا تھا۔
دعا (Supplication)
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
مشکل فیصلوں میں دین کو آگے رکھنے کا یہ پیغام ٹوٹتے ہوئے ایمان کا محافظ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
