مسلسل اصلاح: زندگی کا نظام | استقامت، محرم کا پیغام اور استمرارِ عمل | قسط 187 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Learn how to build a system of continuous self-reformation (Istaqamat) after 30th Muharram, consistency in good deeds, and prophetic guidance by Dr. Wajid Irshad."


مسلسل اصلاح: زندگی کا نظام | استقامت، محرم کا پیغام اور استمرارِ عمل
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 187)
1۔ تمہید (Introduction)
محرم الحرام کا مبارک مہینہ ہم سے رخصت ہو رہا ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جو ہمیں ہر سال ایمانی بیداری، باطنی تحرک، اور باطل کے مقابلے میں حق پر جم جانے کا درس دیتا ہے۔ لیکن عمومی طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ جیسے ہی محرم الحرام کا اختتام ہوتا ہے، ہماری تمام تر ایمانی توانائیاں، ذکر و فکر کی محفلیں اور اصلاحِ نفس کے جذبے مدہم پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم اصلاح کو ایک عارضی اور موسمی عمل سمجھ لیتے ہیں، جبکہ دینِ اسلام کا اصل مطالبہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا ایک مستقل نظام بنائے جس کی بنیاد "مسلسل اصلاح" اور "استقامت" (Consistency & Steadfastness) پر ہو۔
استقامت کے بغیر کوئی بھی ایمانی جذبہ پائیدار نہیں ہو سکتا۔ اصلاحِ نفس کوئی ایک دن، ایک رات یا ایک مہینے کی مشق کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کے آخری سانس تک جاری رہنے والا ایک غیر متزلزل معرکہ ہے۔ جس طرح جسمانی صحت برقرار رکھنے کے لیے روزانہ خوراک اور صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل اسی طرح روح اور ایمان کی صحت کا انحصار بھی روزانہ کی مسلسل اصلاح پر ہے۔ محرم کا اختتام دراصل ہمارے لیے کسی وقفے کا نام نہیں، بلکہ اپنے پورے سال اور زندگی کے نظام کو استقامت کے سانچے میں ڈھالنے کی نئی شروعات ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جذبات میں ابھار کے بعد استقامت کیسے قائم رکھی جائے؟ اور مسلسل اصلاح کو اپنی زندگی کا باقاعدہ نظام کیسے بنایا جائے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و فکری محاکمہ کریں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی میں رب العزت نے استقامت اختیار کرنے والے مؤمنین کے لیے فرشتوں کے نزول، بے خوفی اور دائمی کامیابی کی بشارت دی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (سورۃ فصلت: 30)
بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر قائم رہے (استقامت اختیار کی)، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ تم خوف نہ کھاؤ اور نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورۃ ہود: 112)
پس (اے نبی!) آپ قائم رہیے جیسے آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ہے، اور حد سے نہ بڑھو، بیشک وہ تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب عمل وہ ہے جو مسلسل اور ہمیشگی کے ساتھ کیا جائے:
• محبوب ترین عمل وہ ہے جس میں ہمیشگی اور استقامت ہو
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "...وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ"
(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 6465 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 783)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ...اور بیشک اللہ کے ہاں سب سے محبوب اعمال وہ ہیں جن پر ان کا کرنے والا ہمیشگی (استقامت) اختیار کرے، چاہے وہ عمل تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
• اسلام اور استقامت کی جامع ترین وصیت
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ، قَالَ: "قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ" (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 38)
حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیجیے کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو کہ "میں اللہ پر ایمان لایا"، پھر اس پر قائم ہو جاؤ (استقامت اختیار کرو)۔
4۔ موسمی جذباتیت اور استقامت پر مبنی نظام کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
زندگی میں مسلسل اصلاح کے لائحہ عمل کو سمجھنے کے لیے یہ موازنہ انتہائی اہم ہے:
1۔ بنیادی محرک:
موسمی/عارضی جذباتی عمل (Temporary Emotional Burst): صرف مخصوص ایام (مثلاً محرم یا رمضان) میں پیدا ہونے والی عارضی جذباتی لہر۔
استقامت اور مسلسل اصلاح کا نظام (Systematic Steadfastness): اللہ کا دائمی خوف، فکرِ آخرت اور روزمرہ کا منظم انضباطی نظام۔
2۔ اعمال کی نوعیت:
موسمی/عارضی جذباتی عمل (Temporary Emotional Burst): ایک ساتھ بہت سے مشکل کام شروع کرنا اور جذبہ ٹھنڈا ہوتے ہی جلد چھوڑ دینا۔
استقامت اور مسلسل اصلاح کا نظام (Systematic Steadfastness): چھوٹا اور آسان عمل لیکن اس پر روزانہ ہمیشگی اور پابندی قائم رکھنا۔
3۔ ایامِ خاص (محرم/رمضان) کے بعد حالت:
موسمی/عارضی جذباتی عمل (Temporary Emotional Burst): ایام گزرتے ہی پرانی غفلتوں، گناہوں اور بد اخلاقیوں کی طرف فوراً واپسی۔
استقامت اور مسلسل اصلاح کا نظام (Systematic Steadfastness): حاصل شدہ نیک اعمال پر قائم رہنا اور باطنی ترقی کا سفر جاری رکھنا۔
4۔ حتمی نتیجہ:
موسمی/عارضی جذباتی عمل (Temporary Emotional Burst): وقت کے ساتھ ایمانی تنزلی، روحانی جمود اور باطنی بے چینی۔
استقامت اور مسلسل اصلاح کا نظام (Systematic Steadfastness): قلبِ سلیم کا حصول، فرشتوں کی نصرت اور دائمی الٰہی اطمینان۔
5۔ مسلسل اصلاح کو زندگی کا نظام بنانے کے 5 عملی طریقے (Strategies)
محرم الحرام کے اختتام (30 محرم) کے اس اہم موڑ پر اپنی زندگی کو مسلسل اصلاح کا پابند بنانے کے لیے ان پانچ اقدامات پر عمل کریں:
الف) چھوٹے لیکن روزانہ کے مسنون معمولات طے کریں (Daily Micro-Habits):
بڑے بڑے دعووں کے بجائے روزانہ کے چند چھوٹے معمولات منتخب کریں، جیسے: روزانہ 10 منٹ تلاوت، 100 بار استغفار، اور 2 رکعت نفل۔ ان پر کبھی ناغہ نہ ہونے دیں۔
ب) "محاسبۂ شب" (Nightly Audit) کا پابند نظام:
رات کو سونے سے قبل 5 منٹ کا وقت نکال کر اپنے دن بھر کا جائزہ لیں۔ اپنی غلطیوں پر استغفار کریں اور نیکیوں پر رب کا شکر ادا کریں۔
ج) نیک اور مستقم المزاج صحبت کا انتخاب:
ان لوگوں کی سنگت اختیار کریں جو خود دین پر قائم ہیں اور جن کی صحبت آپ کو مسلسل خیر اور اصلاح کی طرف ابھارتی رہے۔
د) گناہ ہوتے ہی فوراً توبہ کی تجدید:
اگر بشری تقاضے کے تحت کوئی غلطی ہو جائے، تو شیطان کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ آپ کو مایوس کرے۔ فوراً توبہ کر کے اپنے اصلاحی سفر پر دوبارہ گامزن ہوں۔
ہ) ہر مہینے کے آغاز میں نیتاً بیداری:
محرم کے بعد صفر اور آنے والے تمام مہینوں کے آغاز پر اپنے اصلاحی اہداف کی تجدید کریں اور خود کو یاد دلائیں کہ رب ہر مہینے اور ہر لمحے دیکھ رہا ہے۔
6۔ استقامت اور مسلسل اصلاح کا سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں مسلسل اصلاح اور استقامت کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب محرم کے ایام گزر جائیں، تب بھی آپ کی نمازوں کی پابندی، تنہائی کا تقویٰ اور زبان کی حفاظت بالکل اسی طرح برقرار رہے جیسے ان مبارک دنوں میں تھی۔
جب زندگی میں مشکلات، آزمائشیں یا نفسانی ترغیبات آئیں، تو انسان جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے اپنے دینی اور اخلاقی اصولوں پر ڈٹ جائے۔
جب نیکی کا جذبہ کم محسوس ہو، تب بھی انسان اپنے طے شدہ دینی معمولات کو بوجھ سمجھے بغیر فرض کی طرح نبھاتا رہے۔
7۔ مسلسل اصلاح اور استقامت کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان اپنی زندگی کو استقامت اور مسلسل اصلاح کے نظام میں ڈھال لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم بشارتیں عطا فرماتا ہے:
خوف اور غم سے نجات: قرآنی وعدے کے مطابق استقامت اختیار کرنے والے کے دل سے دنیا و آخرت کے تمام خوف اور غم ختم کر دیے جاتے ہیں۔
اعمال کی قبولیت اور حلاوت: ہمیشگی کے ساتھ کیا جانے والا چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں محبوب ترین بن جاتا ہے اور عبادات میں لازوال حلاوت پیدا ہوتی ہے۔
سوءِ خاتمہ سے حفاظت: جو زندگی بھر اصلاح پر قائم رہتا ہے، اللہ تعالیٰ موت کے وقت فرشتوں کو بھیج کر اسے جنت کی بشارت دیتا ہے اور اس کا خاتمہ بالخیر فرماتا ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ 30 محرم الحرام کا یہ دن ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ محترم ایام تو گزر جاتے ہیں، مگر رب کا حکم اور ہمارا ایمانی عہد کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اسلام کسی وقتی جذبے کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگی کے آخری سانس تک مسلسل اصلاح کا نام ہے۔ آئیے! محرم کے اس آخری دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو عارضی جذباتی ابھار سے نکال کر "استقامت" اور "مسلسل اصلاح" کے مستقل نظام پر استوار کریں گے۔ جب مسلسل اصلاح ہماری زندگی کا منشور بن جائے گی، تو ہماری دنیا بھی با برکت ہو جائے گی اور آخرت میں آقا ﷺ کا قرب نصیب ہوگا۔
دعا (Supplication)
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ
اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر معاملے میں ثبات (استقامت) اور ہدایت پر عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے انعامات کے شکر اور بہترین عبادت کی توفیق مانگتا ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
محرم الحرام کے اختتام پر استقامت اور مسلسل اصلاح کا یہ پیغام کسی بھٹکے ہوئے دل کے لیے مستقل ہدایت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
