معاشرتی اصلاح میں نبی ﷺ کا کردار - آمدِ ربیع الاول پر سیرتِ طیبہ کی روشنی میں انقلابی رہنما | قسط 230 - ڈاکٹر واجد ارشاد
In-depth analytical article on the societal reform and social impact of Prophet Muhammad (PBUH) from the Seerah on the occasion of 4 Rabi al-Awwal by Dr. Wajid Irshad.


معاشرتی اصلاح میں نبی ﷺ کا کردار - آمدِ ربیع الاول کی مبارک گھڑیوں میں سیرتِ طیبہ سے ہمہ گیر انقلابی رہنمائی
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 230)
1۔ تمہید
ربیع الاول کا مبارک اور مسعود مہینہ آتے ہی ہر مسلمان کا دل یادِ مصطفیٰ ﷺ سے منور ہو جاتا ہے۔ 4 ربیع الاول کی ان سعید ساعتوں میں جہاں ہم آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشیاں مناتے ہیں، وہاں سیرتِ طیبہ کے ان انقلابی پہلوؤں کو سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے جن کے ذریعے آپ ﷺ نے دنیا کے سب سے زوال پذیر معاشرے کی اصلاح فرمائی۔ بعثت سے قبل عرب کا معاشرہ جہالت، ظلم، بے حیائی، قبائلی تعصب اور طاقتور کے زور و زبردستی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے محض 23 سال کے مختصر عرصے میں اس معاشرے کی ایسی ہمہ گیر اصلاح فرمائی کہ وہی جاہلی عرب دنیا کے لیے اخلاق، عدل اور تہذیب و تمدن کے روشن مینار بن گئے۔ آمدِ ربیع الاول ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی معاشرتی اصلاحات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے
قرآنِ مجید نے رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد اور معاشرتی اصلاحی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے انسانیت کے لیے بہت بڑی نعمت قرار دیا ہے:
لقد من الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم يتلو عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة وإن كانوا من قبل لفي ضلال مبين (سورۃ آل عمران: 164)
بلا شبہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے، ان کا تزکیہ (معاشرتی و اخلاقی پاکیزگی) کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے، اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔
إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون (سورۃ النحل: 90)
بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم و سرکشی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت
رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک احادیث نے معاشرتی اصلاح، باہمی تعلّقات اور اخلاقی اقدار کو ایمان کا بنیادی حصہ قرار دیا ہے:
اخلاقِ فاضلہ کی تکمیل:
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق (السنن الكبرى للبيہقی: 20782 - علامہ البانی نے السلسلة الصحيحة: 45 میں اسے صحیح قرار دیا ہے)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے ہی بھیجا گیا ہوں۔
معاشرتی باہمی یکجہتی اور ہمدردی:
عن النعمان بن بشير رضی الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد إذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى (صحیح البخاری: 6011، صحیح مسلم: 2586)
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومنوں کی باہمی محبت، رحم دلی اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے، جب جسم کا کوئی ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بیداری اور بخار میں اس کا شریک ہوتا ہے۔
4۔ عام انسانی معاشرے اور نبوی معاشرے میں 4 بنیادی فرق
عام انسانی و مادّی معاشروں اور سیرتِ طیبہ سے تشکیل پانے والے نبوی معاشرے میں یہ گہرا اور بنیادی فرق موجود ہے:
1۔ طبقاتی تقسیم بمقابلہ انسانی مساوات:
عام انسانی معاشرے نسل، رنگ اور مال کی بنیاد پر طبقات میں بٹے ہوتے ہیں، جبکہ نبوی معاشرے میں تمام انسانوں کو ایک آدم کی اولاد قرار دے کر صرف تقویٰ کو برتری کا معیار بنایا گیا۔
2۔ طاقتور کی حاکمیت بمقابلہ کمزوروں کی سرپرستی:
عام معاشروں میں قانون طاقتور کی حفاظت کرتا ہے اور کمزور پستا ہے، جبکہ نبوی معاشرے میں یتیم، بیوہ اور مسکین کو سب سے زیادہ تحفظ اور حقوق عطا کیے گئے۔
3۔ ذاتی مفاد پرستی بمقابلہ ایثار و مواخات:
عام دنیاوی معاشروں میں ہر شخص اپنے مفاد کا سوچتا ہے، جبکہ نبوی معاشرے نے انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات (بھائی چارے) کی ایسی مثال قائم کی جس میں ایثار کو ترجیح دی گئی۔
4۔ ظاہری قوانین بمقابلہ باطنی و اخلاقی اصلاح:
دنیاوی اصلاحات صرف ظاہری قوانین اور پولیس کے ڈر پر مبنی ہوتی ہیں، جبکہ نبوی اصلاح نے انسان کے دل اور فکر کو بدل کر اندرونی تقویٰ اور خوفِ خدا کے ذریعے معاشرتی امن قائم کیا۔
5۔ سیرتِ طیبہ سے ملنے والے معاشرتی اصلاح کے 6 درخشندہ اصول
سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے معاشرتی تعمیر و نو کے یہ اہم ترین اصول سامنے آتے ہیں:
1۔ انسانی مساوات اور نسلی تعصب کا خاتمہ (Human Equality):
نبی اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہزاروں کے اجتماع میں اعلان فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ آپ ﷺ نے حضرت بلال حبشیؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کو وہی مقام دیا جو قریش کے سرداروں کو حاصل تھا۔ (مسند احمد: 23489)
2۔ حقوقِ نسواں کا تحفظ اور احترام (Women's Rights):
آپ ﷺ نے جاہلی رسمِ دختر کشی (لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا) کو ختم کیا اور عورت کو ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے عزت، احترام اور وراثت کا شرعی حق عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے لیے بہترین ہے۔ (جامع الترمذی: 1162)
3۔ یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کی سرپرستی (Welfare of the Vulnerable):
آپ ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کو جنّت میں اپنے ساتھ کی بشارت دی۔ آپ ﷺ نے معاشرے کے معذور، مسکین اور بے سہارا افراد کی ذمہ داری ریاست اور معاشرے پر لازم قرار دی۔ (صحیح البخاری: 5304)
4۔ باہمی تعلقات اور ہمسایوں کے حقوق کی اصلاح (Neighborly Relations):
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے حقوق کے بارے میں اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید اسے وراثت میں حصہ دار بنا دیں گے۔ آپ ﷺ نے بھوکے پڑوسی کی موجودگی میں پیٹ بھر کر کھانے سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری: 6014)
5۔ معاشی بدعنوانی اور سود کا خاتمہ (Economic Justice):
معاشرتی سکون کے لیے آپ ﷺ نے سود، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور تجارتی دھوکہ دہی پر سخت پابندی عائد فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (صحیح مسلم: 102)
6۔ عفو و درگزر اور باہمی صلح جوئی (Reconciliation and Forgiveness):
آپ ﷺ نے سالہا سال سے جاری قبائلی دشمنیوں (جیسے اوس و خزرج کی جنگیں) کو ختم کر کے ان میں محبت اور بھائی چارہ قائم فرمایا اور فتحِ مکہ کے دن اپنے جانی دشمنوں کو معاف کر کے عفو و درگزر کی سب سے بڑی مثال قائم کی۔ (السنن الکبری للبیہقی: 18275)
6۔ نبوی طرزِ معاشرت کو زندگی میں اپنانے کے 5 عملی قدم
اگر ہم اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں نبوی اصلاحی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تو ان پر عمل کریں:
1۔ گھر کے ماحول میں نرمی اور حسنِ اخلاق لائیں: اپنے اہل و عیال، بچوں اور والدین کے ساتھ گفتگو اور معاملے میں نرمی اور احترام کا مظاہرہ کریں۔
2۔ حقوق العباد اور ہمسایوں کی خبر گیری کریں: اپنے ارد گرد موجود غریب رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی ضروریات کا خیال رکھیں اور خوشی غمی میں شریک ہوں۔
3۔ زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھیں: گالی گلوچ، غیبت، چغلی اور کسی کی دل آزاری سے مکمل پرہیز کریں۔
4۔ مالی معاملات کو پاکیزہ اور شفاف بنائیں: تجارت اور روزگار میں سچائی، امانت داری اور انصاف کو اپنائیں اور کسی کا حق نہ ماریں۔
5۔ باہمی تنازعات میں صلح کرانے کا کردار ادا کریں: رشتہ داروں اور دوستوں کے درمیان غلط فہمیاں اور ناچاقیاں ختم کرانے میں پیش پیش رہیں۔
7۔ نبوی طرزِ معاشرت کو اپنانے کے انمول ثمرات
جو فرد، خاندان یا معاشرہ سیرتِ طیبہ کے ان اصلاحی اصولوں کو اپنا طرزِ عمل بناتا ہے، اسے یہ فوائد حاصل ہوتے ہیں:
• امن و امان اور باہمی اعتماد: معاشرے سے جرم، خوف اور نفاق کا خاتمہ ہوتا ہے اور ہر شخص خود کو محفوظ مامون سمجھتا ہے۔
• معاشی و اجتماعی برکت: جب سود اور دھوکہ ختم ہوتا ہے اور ایثار بڑھتا ہے تو معاشرے میں غربت کا خاتمہ ہوتا ہے۔
• اللہ کی رضا اور معاشرتی وقار: ایسا معاشرہ دنیا میں عزت و وقار پاتا ہے اور آخرت میں اللہ تعالی کی رحمت اور مغفرت کا مستحق بنتا ہے۔
8۔ اختتامیہ
حاصلِ کلام یہ ہے کہ 4 ربیع الاول کی یہ مبارک گھڑیاں ہمیں پیغام دیتی ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی لائی ہوئی معاشرتی اصلاحات محض ایک تاریخی داستان نہیں بلکہ آج کے پرشور اور بکھرے ہوئے دور میں بھی انسانیت کی نجات کا واحد ذریعہ ہیں۔ آج اگر ہمارا معاشرہ بدامنی، بے حسی، اخلاقی تنزلی اور طبقاتی کشمکش کا شکار ہے، تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نبوی تعلیمات اور اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر غیروں کے نظام کو اپنا لیا ہے۔ آئیے! آمدِ ربیع الاول کے اس بابرکت موقع پر بحیثیتِ فرد اور بحیثیتِ معاشرہ یہ عزم کریں کہ ہم اپنے گھروں، محلوں اور اداروں میں نبی اکرم ﷺ کی سنت اور اخلاقی اصولوں کو زندہ کریں گے۔ جب ہم باہمی محبت، عدل، ایثار اور خدمت کو اپنائیں گے تو ہمارا معاشرہ ایک بار پھر امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
دعا:
اللهم أصلح لنا ديننا الذي هو عصمة أمرنا وأصلح لنا دنيانا التي فيها معاشنا وأصلح لنا آخرتنا التي فيها معادنا واجعل الحياة زيادة لنا في كل خير واجعل الموت راحة لنا من كل شر
اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے دین کی اصلاح فرما جو ہمارے تمام امور کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور ہمارے لیے ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہماری معیشت و زندگی ہے، اور ہمارے لیے ہماری آخرت کی اصلاح فرما جہاں ہم نے لوٹ کر جانا ہے، اور ہماری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
نبی اکرم ﷺ کے معاشرتی اصلاح کے ان عالمگیر اصولوں کو پھیلانا اور اپنے گھروں و معاشرے میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
