مصیبت میں زبان اور دل کا کنٹرول: اخلاقی ضابطہ، صبرِ جمیل اور قلبی سکون | قسط 196 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Learn the Islamic ethical code of controlling tongue and heart during hardships, understanding Sabr-e-Jameel, prophetic guidance on grief, and emotional stability by Dr. Wajid Irshad."


مصیبت میں زبان اور دل کا کنٹرول: اخلاقی ضابطہ، صبرِ جمیل اور قلبی سکون
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 196)
1۔ تمہید (Introduction)
انسان کی شخصیت، ایمان اور اخلاقی تربیت کا اصل امتحان آسائش اور خوشحالی کے دنوں میں نہیں، بلکہ مصیبت، صدمے اور اچانک آنے والی پریشانی کی گھڑیوں میں ہوتا ہے۔ جب انسان کی زندگی میں حالات اس کی مرضی کے خلاف ہو جاتے ہیں، یا کوئی غیر متوقع صدمہ، معاشی نقصان یا پیارے کی جدائی کا موقع آتا ہے، تو انسان کے باطن کا حواس پر کنٹرول ختم ہونے لگتا ہے۔ ایسے وقت میں انسانی رویے کا سب سے پہلا اثر دو بنیادی اعضاء پر پڑتا ہے: دل اور زبان۔ عام طور پر ناگہانی مصیبت کے وقت دل میں بے چینی، غصہ، اور گلہ پیدا ہوتا ہے، جس کا اظہار زبان سے شکوہ و شکایت، نالہ و شیون اور ناذیبا الفاظ کی صورت میں ہونے لگتا ہے۔
اسلامی اخلاقیات کی روح انسان کو مصیبت کے لمحے میں بھی باوقار، متوازن اور پراعتماد رہنے کا درس دیتی ہے۔ اسلام انسان کو سکھاتا ہے کہ غم اور تکلیف قدرتی احساسات ہیں اور ان پر آنکھوں کا نم ہونا یا دل کا غمگین ہونا فطری بات ہے، مگر اس غم کے اظہار میں اخلاقی اور ایمانی حدوں کو پار کرنا، یعنی زبان سے رب کی شکایت کرنا یا دل میں بغاوت کے جذبات پالنا مؤمن کی شان کے خلاف ہے۔ مصیبت کے وقت دل پر کنٹرول (رضا بالرضا) اور زبان پر کنٹرول (صبرِ جمیل) دراصل اخلاقی بالیدگی کی معراج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں زبان اور دل کو بے قابو ہونے سے کیسے روکا جائے؟ اس اخلاقی ضابطے پر قرآنی و نبوی تعلیمات کیا رہنمائی فراہم کرتی ہیں؟ اور اس کنٹرول کے ذریعے انسان کی شخصیت اور آخرت پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و اخلاقی جائزہ لیں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی میں رب العزت نے مصیبت کے وقت زبان اور دل کے لیے بہترین ایمانی کلمات اور صبرِ جمیل کی تعلیم فرمائی ہے:
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ﴿١٥٧﴾(سورۃ البقرۃ: 156-157)
وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو (زبان سے) کہتے ہیں: بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایات اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ (سورۃ یوسف: 18)
پس صبرِ جمیل (بہترین صبر) ہی مناسب ہے، اور جو باتیں تم بناتے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد چاہی جا سکتی ہے۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے عمل اور اقوال سے واضح فرمایا کہ مصیبت میں دل اور زبان کو کس طرح شریعت کے دائرے میں رکھا جاتا ہے:
صدمے کے وقت دل کی کیفیت اور زبان کا ضابطہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ... فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: "يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ"، ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى، فَقَالَ ﷺ: "إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ"(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1303)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (اپنے لختِ جگر) ابراہیم کی وفات کے وقت تشریف فرما تھے، آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابنِ عوف! یہ (دل کی) رحمت ہے۔ پھر فرمایا: آنکھیں اشکبار ہیں اور دل غمگین ہے، مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو جائے، اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔
حقیقی صبر کا وقت
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِامْرَأَةٍ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ، فَقَالَ: "اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي"... فَقَالَتْ: إِليك عَنِّي... فَقِيلَ لَهَا: إِنَّهُ النَّبِيُّ ﷺ، فَأَتَتْ بَابَ النَّبِيِّ ﷺ... فَقَالَتْ: لَمْ أَعْرِفْكَ، فَقَالَ: "إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى"(صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1283)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جو قبر پر رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔ اس نے کہا: پرے ہٹو... بعد میں اسے بتایا گیا کہ وہ نبی کریم ﷺ تھے، تو وہ آپ کے پاس آئی اور معذرت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: صبر تو وہی ہے جو صدمے کے شروع میں ہو۔
4۔ اخلاقی کنٹرول اور بے قابو رویے کا تقابلی جائزہ (The Core Difference)
مصیبت کے وقت ایک اخلاقی مؤمن اور عام انسان کے رویے میں یہ نمایاں فرق ہوتا ہے:
1۔ زبان کا استعمال:
بد اخلاق و غیر محتاط رویہ (Uncontrolled Mindset): چیخنا چلانا، شکوہ و شکایت، نا زیباط الفاظ اور سینہ کوبی کرنا۔
مؤمنانہ اخلاقی رویہ (Controlled Ethics): استغفار، "انّا للہ" کا ورد اور رب کی تعریف بیان کرنا۔
2۔ دل کی حالت:
بد اخلاق و غیر محتاط رویہ (Uncontrolled Mindset): بغاوت، شدید غصہ، تقدیر سے ناراضگی اور تلملاہٹ۔
مؤمنانہ اخلاقی رویہ (Controlled Ethics): غم کے ساتھ ساتھ الٰہی فیصلے پر قلبی تسلیم و رضا رکھنا۔
3۔ صبر کی نوعیت:
بد اخلاق و غیر محتاط رویہ (Uncontrolled Mindset): مجبوری کا صبر (جب آگے کوئی چارہ نہ رہے)۔
مؤمنانہ اخلاقی رویہ (Controlled Ethics): صدمے کے پہلے ہی لمحے کا خود اختیاری صبر (صبرِ جمیل)۔
4۔ اخلاقی اثر:
بد اخلاق و غیر محتاط رویہ (Uncontrolled Mindset): شخصیت کا بکھراؤ اور دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بننا۔
مؤمنانہ اخلاقی رویہ (Controlled Ethics): باوقار شخصیت کا مظاہرہ اور دوسروں کے لیے صبر کا نمونہ بننا۔
5۔ مصیبت میں زبان اور دل کو کنٹرول کرنے کے 5 عملی اصول (Strategies)
آزمائش کی گھڑی میں اپنے دل اور زبان پر اخلاقی و ایمانی کنٹرول قائم رکھنے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:
الف) صدمے کے پہلے لمحے میں "انّا للہ" کی تکرار:
جیسے ہی کوئی بری خبر یا مصیبت آئے، زبان کو فوراً إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے کا عادی بنائیں۔ یہ جملہ دل کو رب کی ملکیت یاد دلاتا ہے۔
ب) خاموشی کو ترجیح دینا:
شدید غصے یا صدمے میں بولنے کے بجائے خاموشی اختیار کریں۔ جب تک حواس مکمل طور پر بحال نہ ہوں، زبان سے کوئی تبصرہ نہ کریں۔
ج) قدرتی غم اور ناجائز شکوے میں فرق:
یاد رکھیں کہ آنسو بہانا یا دل کا غمزدہ ہونا گناہ نہیں، لیکن زبان سے "ہائے میں لٹ گیا" یا "اللہ نے میرے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا" جیسے الفاظ کہنا گناہِ عظیم ہے۔
د) مسنون دعاؤں کا ورد:
مصیبت کے وقت یہ مسنون دعا پڑھیں: اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا (اے اللہ! مجھے اس مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے بہتر نعم البدل عطا فرما)۔
ہ) انجام اور اجر پر نظر رکھنا:
دل کو یہ تسلی دیں کہ اس مصیبت پر زبان اور دل پر کنٹرول رکھنے کے عوض اللہ تعالیٰ مجھے بغیر حساب کے اجر اور جنت کا محل (بیت الحمد) عطا فرمائے گا۔
6۔ زبان اور دل کے کنٹرول کا سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں مصیبت کے وقت اخلاقی کنٹرول کا سچا معیار یہ ہے کہ:
صدمے کے سخت ترین لمحے میں بھی زبان سے ایسا کوئی لفظ نہ نکلے جو شریعت اور اخلاق کی حدوں کو توڑتا ہو۔
انسان اپنے غم کا غصہ اپنے گھر والوں، بچوں یا زیرِ دست لوگوں پر نہ نکالے۔
دل میں اللہ کے عدل اور حکمت پر کوئی شک یا اعتراض پیدا نہ ہو، بلکہ انسان اپنے باطن کو الٰہی رضا کے سپرد کر دے۔
7۔ ضبطِ نفس اور کنٹرول کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان مصیبت کے وقت اپنی زبان اور دل پر کنٹرول رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم ثمرات عطا فرماتا ہے:
بیت الحمد (تعریف کے گھر) کی بشارت: حدیث کے مطابق، بچے کی وفات پر صبر کرنے اور زبان سے "الحمد للہ" کہنے والے والدین کے لیے جنت میں "بیت الحمد" بنایا جاتا ہے۔
کریکٹر اور شخصیت کا نکھار: مصیبت میں ثابت قدمی انسان کی اخلاقی اور نفسیاتی طاقت کو مضبوط بناتی ہے۔
الٰہی رحمتیں اور ہدایت: قرآن کا وعدہ ہے کہ صابرین پر اللہ کی خاص عنایات، رحمتیں اور ہدایت نازل ہوتی ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مصیبت اور غم انسان کا فطری جائزہ ہیں، لیکن اس جائزے میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو اپنے اخلاقی و ایمانی حواس قائم رکھے۔ زبان کا بول اور دل کا سوچنا انسان کے ایمان کی عکاسی کرتا ہے۔ آنکھ سے آنسوؤں کا بہنا انسانیت اور رحمت کا تقاضا ہے، مگر زبان اور دل کا شریعت و اخلاق کے دائرے میں رہنا اسلام کا منشا ہے۔ آئیے! ہم یہ عزم کریں کہ زندگی میں جب بھی کوئی مصیبت آئے، ہم اپنے دل کو تسلیم و رضا اور زبان کو ذکرِ الٰہی کا پابند بنائیں گے۔ جب دل اور زبان پر کنٹرول ہوگا، تو دنیا کی کوئی مصیبت ہمارے ایمانی و اخلاقی وقار کو مجروح نہیں کر سکے گی۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِسَانِي ذَاكِرًا وَقَلْبِي خَاشِعًا، وَارْزُقْنِي الصَّبْرَ الْجَمِيلَ
اے اللہ! میں تجھ سے ایسے نفس کا سوال کرتا ہوں جو تیرے ساتھ مطمئن ہو، تیری ملاقات پر ایمان رکھتا ہو، تیرے فیصلے پر راضی ہو، اور تیرے عطا کردہ پر قناعت کرے۔ اے اللہ! میری زبان کو ذکر کرنے والی اور میرے دل کو عاجزی کرنے والا بنا، اور مجھے صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
مصیبت میں زبان اور دل کے اخلاقی کنٹرول کا یہ پیغام کسی پریشان اور غم زدہ انسان کے لیے قلبی سکون اور اخلاقی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
