ماہِ صفر: بدشگونی کی حقیقت اور اسلامی تصور | توہمات کا رد اور عقیدہ | قسط 188 - ڈاکٹر واجد ارشاد
"Explore the Islamic perspective on the Month of Safar, rejection of superstitions (Badshguni/Tiyarah), authentic Prophetic teachings, and Aqeedah purification by Dr. Wajid Irshad."


ماہِ صفر: بدشگونی کی حقیقت اور اسلامی تصور
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: ایمان (قسط نمبر: 188)
مناسبت: 1 صفر المظفر (توہمات کا رد اور اصلاحِ عقیدہ)
1۔ تمہید (Introduction)
ماہِ صفر اسلامی تقویم کا دوسرا مہینہ ہے۔ زمانۂ جاہلیت سے لے کر عصرِ حاضر تک اس مبارک مہینے کے ساتھ طرح طرح کے توہمات، من گھڑت نظریات اور بدشگونی کے خیالات وابستہ کیے جاتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے جدید اور روشن خیالی کے دور میں بھی بہت سے مسلمان اس مہینے کو آفتوں، بلاؤں اور نحوسات کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ اس مہینے میں شادی بیاہ سے پرہیز کرنا، نیا کاروبار شروع کرنے سے ڈرنا، یا آخری بدھ کو مخصوص گھبراہٹ کا شکار ہونا—یہ سب وہ باطل تصورات ہیں جن کا اسلام، قرآن اور سنتِ نبوی ﷺ سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
اسلام ایک ایسا روشن اور فطری دین ہے جو انسان کو توہم پرستی اور خوف کی تاریکیوں سے نکال کر خالص توحید، توکل اور ایمانی بصیرت کی روشنی عطا کرتا ہے۔ اسلامی عقیدے کی رو سے زمان و مکان (وقت اور مہینے) بذاتِ خود نہ تو نحس ہوتے ہیں اور نہ ہی برکت یا آفت کا باعث بنتے ہیں، بلکہ تمام نفع و نقصان کا مالک اور تمام تدبیروں پر قادر صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذاتِ بابرکات ہے۔ بدشگونی اختیار کرنا دراصل عقیدۂ توحید کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی مشیت پر کامل اعتماد نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں بدشگونی کی کیا حقیقت ہے؟ زمانۂ جاہلیت کے ان توہمات کا نبی کریم ﷺ نے کس طرح ابطال فرمایا؟ اور ماہِ صفر میں ایک مؤمن کا صحیح ایمانی رویہ کیا ہونا چاہیے؟ زیرِ نظر مضمون میں ہم اسی کا تفصیلی علمی و عقائدی محاکمہ کریں گے۔
2۔ قرآنی دلاسے اور الٰہی وعدے (The Qur'an Solace)
کلامِ الٰہی میں رب العزت نے واضح فرما دیا ہے کہ تمام تر نفع و نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے اور انسان کی بدشگونی دراصل اس کی اپنی جہالت کا نتیجہ ہے:
مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ(سورۃ الحدید: 22)
زمین میں یا تمہاری جانوں پر کوئی بھی مصیبت نہیں آتی مگر اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں، وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں لکھی ہوئی ہوتی ہے، بیشک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔
وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ (سورۃ یونس: 107)
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے ساتھ کسی خیر کا ارادہ فرمائے تو اس کے فضل کو کوئی لوٹانے والا نہیں۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ کی شمعِ ہدایت (Prophetic Comfort)
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے واضح ارشادات سے ماہِ صفر کی نحوسات اور تمام قسم کے توہمات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا:
• صفر میں کوئی نحوسات یا بدشگونی نہیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5707 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2220)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی (ذاتی اثر سے) نہیں ہوتی، بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں، نہ الو کی نحوسات کوئی چیز ہے اور نہ ہی صفر کے مہینے میں کوئی نحوسات ہے۔
• بدشگونی شرکِ اصغر کا باعث ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: "الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ" (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 3910 / جامع الترمذی، رقم الحدیث: 1614، علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بدشگونی لینا شرک ہے، بدشگونی لینا شرک ہے، اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں (جس کے دل میں کبھی کوئی وہم نہ آئے) لیکن اللہ تعالیٰ توکل کی برکت سے اس (وہم) کو دور فرما دیتا ہے۔
4۔ جاہلانہ طرزِ فکر اور خالص اسلامی عقیدے کا تقابلی جائزہ (The Core Contrast)
توہم پرستی اور توحیدِ باری تعالیٰ کے مطابق زندگی گزارنے کے درمیان یہ بنیادی عقائدی و فکری فرق ہے:
1۔ بنیادی مرکز:
جاہلانہ و موہوم طرزِ فکر (Superstitious Mindset): دنوں، مہینوں، یا چیزوں کو ذاتی طور پر نحس یا بدشگون سمجھنا۔
خالص اسلامی ایمانی عقیدہ (Islamic Monotheism): تمام ایام اللہ کے بنائے ہوئے ہیں، نحوسات کا اصل تعلق انسان کے اپنے گناہوں سے ہے۔
2۔ تکلیف کا سبب:
جاہلانہ و موہوم طرزِ فکر (Superstitious Mindset): صفر کے مہینے یا بلاؤں کے نزول کو تکلیف کا ذمہ دار ٹھہرانا۔
خالص اسلامی ایمانی عقیدہ (Islamic Monotheism): تکلیف کو الٰہی تقدیر، آزمائش یا اپنے اعمال کا نتیجہ سمجھنا۔
3۔ معاملات کا رویہ:
جاہلانہ و موہوم طرزِ فکر (Superstitious Mindset): صفر کے مہینے میں شادیاں، سفر اور نئے کاروبار کو روک دینا۔
خالص اسلامی ایمانی عقیدہ (Islamic Monotheism): تمام جائز کام اور خوشیاں بغیر کسی خوف و خطر کے جاری رکھنا۔
4۔ باطنی حالت:
جاہلانہ و موہوم طرزِ فکر (Superstitious Mindset): باطن میں خوف، بے چینی، وسوسے اور توہم پرستی کا غلبہ۔
خالص اسلامی ایمانی عقیدہ (Islamic Monotheism): توکل علی اللہ، کامل قلبی اطمینان اور ایمانی پختگی۔
5۔ توہمات کے رد اور اصلاحِ عقیدہ کے 5 عملی طریقے (Strategies)
ماہِ صفر المظفر (1 صفر) کے آغاز پر اپنے عقیدے کو پختہ کرنے اور توہم پرستی سے بچنے کے لیے ان پانچ نکات پر عمل کریں:
الف) توکل علی اللہ کا عملی مظاہرہ:
دل میں یہ پختہ یقین پیدا کریں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے حکم کا تابع ہے۔ کسی مہینے یا دن میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ خود سے آپ کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکے۔
ب) صفر کے مہینے میں خیر کے کام بلا جھجھک کرنا:
اگر آپ کا شادی، نئے کاروبار، یا سفر کا ارادہ ہے تو صفر کے مہینے کی وجہ سے اسے ہرگز نہ روکیں۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکار شوال میں کیا تاکہ جاہلی توہم ٹوٹے۔
ج) مسنون دعاؤں کا التزام:
جب بھی دل میں کوئی وہم یا بدشگونی کا خیال آئے تو فوراً یہ مسنون دعا پڑھیں:
اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ
(اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں لانے والا نہیں اور تیرے سوا کوئی برائیوں کو دور کرنے والا نہیں)۔
د) من گھڑت روایات اور میسجز کو پھیلانے سے پرہیز:
سوشل میڈیا پر صفر کے بارے میں خوف پھیلانے والی جعلی روایات (مثلاً "جو صفر کی مبارکباد دے گا اس پر جنت واجب ہو جائے گی" یا "اس مہینے میں اتنی بلائیں نازل ہوتی ہیں") کو آگے شیئر کرنے سے مکمل گریز کریں۔
ہ) استغفار اور رجوع الی اللہ:
انسان پر اصل آفت یا نحوسات اس کے اپنے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ اس لیے دنوں کو برا بھلا کہنے کے بجائے اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کریں۔
6۔ اصلاحِ عقیدہ اور توکل کا سچا معیار کیا ہے؟
روزمرہ کی عملی زندگی میں توکل اور توہمات سے پاک عقیدے کا سچا معیار یہ ہے کہ:
جب کسی کام کے موقع پر کوئی ایسا واقعہ پیش آئے جسے لوگ بدشگونی سمجھتے ہوں (مثلاً بلی کا راستہ کاٹنا، برتن کا ٹوٹنا یا صفر کا مہینہ ہونا)، تو مؤمن اپنے ارادے کو بدلے بغیر اللہ کے نام پر کام جاری رکھے۔
جب مشکلات یا بیماری آئے تو اسے کسی مہینے کی بلا سمجھنے کے بجائے الٰہی تقدیر اور اپنے درجات کی بلندی یا گناہوں کا کفارہ سمجھے۔
جب لوک سب باتیں کریں، تب بھی مؤمن کتاب و سنت کے دلائل پر جم کر کھڑا رہے اور دوسروں کی اصلاح کرے۔
7۔ توہمات سے آزادی اور خالص عقیدے کے انمول ثمرات (The Ultimate Rewards)
جو انسان توہمات اور بدشگونی کے جال سے نکل کر خالص توحید پر قائم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے یہ عظیم انعامات عطا فرماتا ہے:
غیر اللہ کے خوف سے آزادی: ایسا شخص دنیا کی تمام موہوم طاقتوں، بلاؤں اور جادو ٹونے کے نام نہاد خوف سے آزاد ہو کر سچے قلبی اطمینان کا مالک بن جاتا ہے۔
بغیر حساب کے جنت کا داخلہ: صحیح بخاری و مسلم کی حدیثِ مبارکہ کے مطابق، جو لوگ بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر کامل توکل کرتے ہیں، انہیں قیامت کے دن بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اعمال کی قبولیت اور برکت: خالص عقیدے کی برکت سے انسان کی عبادات اور دنیاوی روزگار میں اللہ کی خاص رحمت اور برکت نازل ہوتی ہے۔
8۔ اختتامیہ (Conclusion)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ ماہِ صفر المظفر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے دیگر مہینوں کی طرح ایک مبارک اور با برکت مہینہ ہے۔ اس مہینے کو نحس سمجھنا یا اس میں بلائیں نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا دراصل جاہلانہ دور کی باقیات اور ایمانی کمزوری کی علامت ہے۔ ایک سچے مؤمن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو توہم پرستی کے زنگ سے پاک کرے اور ہر لمحہ اپنے رب پر کامل توکل رکھے۔ آئیے 1 صفر کے اس موقع پر یہ عزم کریں کہ ہم خود بھی تمام قسم کے توہمات سے توبہ کریں گے اور اپنے گھر اور معاشرے سے بدشگونی کی رسومات کا خاتمہ کر کے خالص توحید کے علمبردار بنیں گے۔
دعا (Supplication)
اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ، اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا كَمَالَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ، وَصِحَّةَ الْيَقِينِ بِكَ، وَطَهِّرْ قُلُوبَنَا مِنَ الطِّيَرَةِ وَالشِّرْكِ
اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ ہم جانتے بوجھتے تیرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں، اور ہم تجھ سے معافی مانگتے ہیں اس گناہ سے جسے ہم نہیں جانتے۔ اے اللہ! ہمیں اپنے اوپر کامل توکل اور سچا یقین عطا فرما، اور ہمارے دلوں کو بدشگونی اور شرک کے آمیزش سے پاک فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
ماہِ صفر کی حقیقت اور توہمات کے رد کا یہ پیغام کسی ایمانی وسوسے کا شکار بھائی/بہن کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسے آگے شیئر کرنا صدقہ جاریہ ہے۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
