معاشرتی دباؤ میں ایمانی بقا اور نفس کا اضطراب: علمی حل | سلسلہ نفس قسط 173 - ڈاکٹر واجد ارشاد

"An alternative, deep psychological analysis by Dr. Wajid Irshad with precise Hadith numbers on how to overcome the social pressure of practicing Islam."

Dr. Wajid Irshad

6/22/20261 min read

غربتِ دین اور نفس کا اضطراب: معاشرتی دباؤ میں ایمانی بقا کا نفسیاتی حل

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: نفس (قسط نمبر: 173)

1۔ تمہید (Introduction)

جب معاشرتی اقدار، فکری روایات اور روزمرہ کے طور طریقے دین کے بنیادی احکامات سے متصادم ہو جائیں، تو شریعت کے راستے پر گامزن مسافر ایک گہرے باطنی کرب سے گزرتا ہے۔ اس کرب کا نام "ایمانی تنہائی" ہے۔ یہ تنہائی اس وقت زیادہ جان لیوا بن جاتی ہے جب انسان کا اپنا نفسِ لوامہ معاشرے کی اکثریت کو دیکھ کر شکوک و شبہات اور کمتری کے احساس (Inferiority Complex) کا شکار ہونے لگتا ہے۔ نفس یہ سوال اٹھاتا ہے کہ "کیا سب کے سب غلط ہیں اور صرف میں ہی حق پر ہوں؟"

آج کے ڈیجیٹل گلوبلائزیشن کے دور میں، جہاں مادی کامیابی کو ہی عزت کا واحد معیار بنا دیا گیا ہے، دین پر سمجھوتہ نہ کرنے والے انسان کو 'سوشل آؤٹ کاسٹ' (معاشرے سے کٹا ہوا) ثابت کرنے کی فکری کوششیں کی جاتی ہیں۔ نفس اس تنہائی سے گھبرا کر یا تو منافقت کا راستہ چنتا ہے یا پھر گوشہ نشینی اختیار کر کے مایوسی میں ڈوب جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اس بات کا علمی محاکمہ کریں گے کہ اس معاشرتی دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے نفس کو فکری مغلوبیت سے کیسے بچایا جائے اور اس ایمانی تنہائی کو باطنی طاقت میں کیسے بدلا جائے۔

2۔ الٰہی میزان اور قرآنی حقائق (The Qur'anic Framework)

قرآنِ مجید اکیلے کھڑے ہونے والے مؤمن کے نفس کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ حق کی قدر و قیمت اس کے پیروکاروں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کے الٰہی ماخذ سے طے ہوتی ہے:

الف) اکثریت کا فسق اور حق کی ندرت

وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ ۖ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ (سورۃ الاعراف: 102)

ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں کوئی عہد (نبھانے کی پاسداری) نہیں پائی، اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے اکثر لوگوں کو نافرمان ہی پایا۔

ب) مادی چمک دمک سے مرعوب نہ ہونے کا الٰہی اصول

لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (سورۃ آل عمران: 196-197)

(اے دیکھنے والے!) شہروں میں کافروں کا (بظاہر کامیاب و کامران ہو کر) چلنا پھرنا تجھے ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو بس تھوڑا سا مادی فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بدترین بچھونا ہے۔

ج) تنہا انسان کا 'امت' ہونا (سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مثال)

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (سورۃ النحل: 120)

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بذاتِ خود ایک پوری امت تھے، اللہ کے فرمانبردار اور سب سے کٹ کر ایک ہی رخ کے ہونے والے تھے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔

3۔ ارشاداتِ نبوی ﷺ کے ماڈل و متبادل حوالے (Prophetic Framework)

احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایسی حالت میں نفس کی تسلی اور استقامت کے لیے عزمِ نو کے روشن اصول عطا فرمائے ہیں:

الف) حق پر ڈٹ جانے والی جماعت کی بقا

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: "لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللَّهِ، لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ" (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 7460 / صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1037)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، انہیں چھوڑ دینے والا یا ان کی مخالفت کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے اور وہ لوگوں پر غالب (مستحکم) ہی ہوں گے۔"

ب) ماحول کے بگاڑ میں نفس کو پالتو بننے سے روکنا

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لاَ تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاؤُوا أَنْ لاَ تَظْلِمُوا" (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2007)

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ 'امّعہ' (بن پیندے کے لوٹے یا لکیر کے فقیر) نہ بنو کہ یہ کہنے لگو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے اور اگر لوگوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے نفس کو اس بات پر پختہ کرو کہ اگر لوگ اچھائی کریں تو تم بھی اچھائی کرو، اور اگر وہ برائی پر اتر آئیں تو تم ظلم (اور برائی) نہ کرو۔"

ج) فتنوں کے دور میں تنہائی کی فضیلت اور نفس کی حفاظت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ" (صحیح البخاری, رقم الحدیث: 19)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ مسلمان کا سب سے بہترین مال وہ چند بھیڑ بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش گرنے کے مقامات (وادیوں) میں چلا جائے گا، وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگ رہا ہوگا۔"

4۔ فکری تنہائی میں نفس کے 3 بڑے باطنی بہلاوے (Psychological Traps)

ایمانی تنہائی کے دوران نفسِ امارہ انسان کو گمراہ کرنے کے لیے درج ذیل تین فکری حربے استعمال کرتا ہے:

1. دفاعی جارحیت (Defensive Arrogance): نفس معاشرتی کٹاؤ کے ردعمل میں دیگر مسلمانوں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور خود کو "واحد ناجی" (بچ جانے والا) سمجھ کر تکبر کا شکار ہو جاتا ہے۔

2. شریعت میں لچک کی تلاش (Compromise on Core Values): ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے نفس دین کے احکامات کو جدید پسندی (Modernism) کے سانچے میں ڈھالنے کے بہانے تلاش کرتا ہے۔

3. مکمل مایوسی اور ترکِ عمل (Spiritual Paralysis): جب معاشرہ سدھرتا ہوا نظر نہیں آتا، تو نفس مایوس ہو کر دعوت و اصلاح کا کام ہی چھوڑ دیتا ہے اور احساسِ بیگانگی کا اسیر ہو جانا ہے۔

5۔ ایمانی تنہائی کو باطنی طاقت میں بدلنے کے 4 عملی طریقے

نفس کو اس اضطراب سے نکالنے اور تنہائی کو انعام بنانے کے لیے ان چار اصولوں پر عمل کریں:

  • اول: فکری مرعوبیت کا خاتمہ (De-rooting Complex): یہ یقین پیدا کریں کہ مادی ترقی اور دنیاوی چمک دمک عارضی ہے۔ سچی تہذیب اور ابدی کامیابی صرف وحیِ الٰہی کی غلامی میں ہے۔ اپنے علم کو مضبوط کریں۔

  • دوم: 'خلوت در انجمن' کا اسلوب: معاشرے میں رہیں، اپنے فرائض اور ملازمت دیانت داری سے سرانجام دیں، لیکن اپنے دل کی دنیا کو ماحول کے اثرات سے پاک رکھیں۔ جسم دنیا میں ہو مگر روح مصلےٰ پر۔

  • سوم: صالحین کی سوانح عمری کا مطالعہ: جب موجودہ دور میں ہم سفر نہ ملیں، تو تاریخ کے صفحات سے سلف صالحین، محدثین اور مجاہدینِ نفس کی رفاقت اختیار کریں۔ ان کے احوال پڑھنے سے نفس کو اکیلے لڑنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

  • چہارم: حق کی گواہی پر اصرار: تنہائی میں خاموش بیٹھنے کے بجائے حکمت اور مٹھاس کے ساتھ اچھے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو دین کی طرف بلاتے رہیں۔ جب آپ خود داعی بن جائیں گے، تو ماحول کا دباؤ آپ پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

6۔ اختتامیہ (Conclusion)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ دین پر چلنے میں ملنے والی تنہائی دراصل نفس کی آزمائش کا وہ مرحلہ ہے جہاں ایمان کھرا اور کھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ بھیڑ کا حصہ بن کر چلنا آسان ہے کیونکہ وہاں کسی ذاتی قوتِ ارادی کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن معاشرتی بگاڑ کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہونا ہی وہ جوہر ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔

اگر آج آپ کو اپنے نظریات، اپنی حلال کمائی، اپنے حجاب یا اپنے تقویٰ کی وجہ سے اپنوں اور بیگانوں میں تنہائی کا سامنا ہے، تو اپنے نفس کو مایوس نہ ہونے دیں۔ یہ تنہائی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ زندہ ہیں، کیونکہ مردہ مچھلیاں پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتی ہیں اور زندہ مچھلی ہی پانی کے رخ کے خلاف تیرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ اپنی استقامت پر قائم رہیے، عنقریب یہ سفر ختم ہوگا اور ربِ کریم کی رضا کا دائمی تکیہ نصیب ہوگا۔

دعا (Supplication)

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ

اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

فکری استقامت اور تزکیۂ نفس کے اس اچھوتے پیغام کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کارِ خیر کا حصہ بنیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.