لوگوں کے حقوق ادا کرنا - حقوق العباد کی اہمیت، معاشرتی امن اور نبوی تعلیمات | قسط 253 - ڈاکٹر واجد

An informative and inspiring article on the importance of fulfilling people's rights (Hooqooq ul Ibad), social ethics, and prophetic guidance in Islam by Dr. Wajid Irshad.

Dr. Wajid Irshad

9/10/20261 min read

لوگوں کے حقوق ادا کرنا - حقوق العباد کی اہمیت، معاشرتی امن اور نبوی تعلیمات

تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد

سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 253)

1۔ تمہید

اسلام ایک مکمل ضابطہٴ حیات ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسان کے باہمی تعلقات اور معاشرتی ذمہ داریوں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔ ہماری دینی زندگی میں جس طرح حقوق اللہ (خالق کے حقوق) اہم ہیں، اسی طرح "حقوق العباد" (مخلوق کے حقوق) کی ادائیگی بھی انتہائی نازک اور بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بگاڑ، بے امنی اور تلخیوں کی سب سے بڑی وجہ حقوق العباد میں غفلت اور عدم ادائیگی ہے۔ ہم عبادات کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن معاملات، لین دین، اور دوسروں کی عزت و سکون کا خیال رکھنے میں کوتاہی برتتے ہیں۔ اسلام سکھاتا ہے کہ جب تک حقوق العباد کی پابندی نہ کی جائے، معاشرتی زندگی میں حقیقی خوشحالی اور روحانی سکون حاصل نہیں ہو سکتا۔

تصویر کا کیپشن: لوگوں کے حقوق ادا کرنا اور معاشرت

2۔ الٰہی فرامین کی روشنی

قرآنِ مجید میں اللہ تعالی نے عدل، احسان اور رشتہ داروں و عام لوگوں کے حقوق ادا کرنے کا واضح اور سخت حکم فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ سورۃ النحل (آیت 90)

"بے شک اللہ عدل کا، احسان کا اور رشتہ داروں کو (ان کے حقوق) دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔"

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ سورۃ النساء (آیت 36)

"اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسیوں، دور کے پڑوسیوں اور پاس بیٹھنے والے ساتھی کے ساتھ احسان و بھلائی کرو۔"

3۔ اسوہٴ حسنہ اور احادیثِ مبارکہ کا پیغام

سیرتِ طیبہ اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد کی تلفی قیامت کے دن مفلسی اور تمام عبادات کی ضائع شدگی کا باعث بن سکتی ہے:

قیامت کا حقیقی مفلس:

عن أبي هريرة رضی الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: أتدرون ما المفلس؟ قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته... (صحیح مسلم: 2581)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟" صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ اور مال و اسباب نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پس اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی..."

مسلمان کا بنیادی معیار:

عن عبد الله بن عمرو رضی الله عنهما عن النبي ﷺ قال: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده... (صحیح البخاری: 10)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"

4۔ معاشرتی زندگی میں حقوق العباد کے 4 بنیادی تقاضے

والدین اور رشتہ داروں کی صلہ رحمی:

والدین کی خدمت، ان کا ادب اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک رکھنا حقوق العباد کی سب سے پہلی اور اہم سیڑھی ہے۔ رشتہ داری توڑنے سے معاشرتی اور اخلاقی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

پڑوسیوں اور ساتھیوں کا خیال:

اپنے ارد گرد رہنے والے پڑوسیوں اور کام کی جگہ پر ساتھیوں کو کسی بھی قسم کی ذہنی یا جسمانی اذیت نہ دینا اور ان کی خوشی و غمی میں شریک ہونا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

امانت، دیانت اور مالی شفافیت:

لین دین میں ایمانداری رکھنا، کسی کا حق نہ مارنا، ملازمین کی اجرت وقت پر دینا اور امانتوں کو ان کے مالکان تک صحیح سلامت پہنچانا معاشرتی امن کا بنیادی ستون ہے۔

عزتِ نفس کا احترام اور زبان کی حفاظت:

کسی کی غیبت کرنا، تمسخر اڑانا، طعنہ دینا یا بلاوجہ الزام تراشی کرنا سخت گناہ ہے۔ دوسروں کی آبرو اور عزّتِ نفس کی حفاظت کرنا بہترین اخلاق ہے۔

5۔ اختتامیہ

ایک بہترین معاشرہ تبھی وجود میں آتا ہے جب ہر فرد اپنے حقوق مانگنے کے بجائے دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی فکر کرے۔ دینِ اسلام ہمیں ذمہ دار، حساس اور ہمدرد انسان بننے کی تربیت دیتا ہے۔ حقوق العباد کی پابندی ہی دنیا میں امن اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

آئیے! یہ عزم کریں کہ ہم اپنے تمام رشتہ داروں، پڑوسیوں، اور عام انسانوں کے حقوق مکمل دیانت داری کے ساتھ ادا کریں گے، اور کسی کا حق مارنے يا اسے تکلیف پہنچانے سے پرہیز کر کے ایک پرامن معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

دعا:

اللهم اهدنا لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عنا سيئها لا يصرف عنا سيئها إلا أنت

اے اللہ! ہمیں بہترین اخلاق و کردار کی ہدایت فرما، تیرے سوا کوئی بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی نہیں کر سکتا، اور ہم سے برے اخلاق کو دور فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔

ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ

لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا یہ فکری و معاشرتی پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔

Contact

Reach out for questions or feedback

Email

Phone

info@drwajidirshad.com

+92301-6455018

© 2025. All rights reserved.