لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک - رشتہ دار، پڑوسی اور معاشرتی حقوق کا نبوی اسوہ | قسط 245 - ڈاکٹر واجد ارشاد
An inspiring article on showing good behavior (Husn-e-Sulook), rights of neighbors, and social ethics in Islam by Dr. Wajid Irshad.


لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک - رشتہ دار، پڑوسی اور معاشرتی حقوق کا نبوی اسوہ
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر واجد ارشاد
سلسلہ وار کالم: فکرِ نو (قسط نمبر: 245)
1۔ تمہید
اسلام ایک ایسا کامل اور فطری دین ہے جو محض خالق کی عبادت تک محدود نہیں، بلکہ مخلوق کے ساتھ بہترین تعلق اور رویے پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے ایمان کی پختگی کا اصل امتحان اور مظاہرہ مساجد کے علاوہ اس کی روزمرہ زندگی، گھر، بازار اور گلی محلے میں نظر آتا ہے۔ آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے نفل عبادات اور ظاہری رسومات کو تو دین داری سمجھ لیا ہے، لیکن اپنے رویوں، گفتگو اور معاملات میں دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو نظر انداز کر دیا ہے۔ والدین کے ساتھ بدسلوکی، رشتہ داروں سے قطع تعلقی، پڑوسیوں کی ایذارسانی اور عام انسانوں سے ترش روئی عام ہو چکی ہے۔ نبوی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ کامل مومن وہ ہے جس کے حسنِ اخلاق اور بہترین سلوک کی گواہی اس کے ارد گرد کے تمام لوگ دیں۔
2۔ الٰہی فرامین کی روشنی
قرآنِ پاک میں اللہ رب العزت نے اپنی عبادت کے ساتھ ہی انسانوں کے ساتھ بہترین رویہ اور حسنِ سلوک اختیار کرنے کا سخت حکم دیا ہے:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ (سورۃ النساء: 36)
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریب والے پڑوسی، دور والے پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے ساتھی کے ساتھ احسان کرو۔
وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (سورۃ البقرہ: 83)
اور لوگوں سے خوبصورت اور اچھی بات کہو۔
3۔ احادیثِ نبوی ﷺ
سیرتِ طیبہ کا ہر اوراق ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانوں کے ساتھ نرمی، درگزر اور حسنِ سلوک ہی اسلامی اخلاقیات کا اصل جوہر ہے:
حسنِ سلوک کی عظیم فضیلت:
عن أبي الدرداء رضی الله عنه أن النبي ﷺ قال: ما شيء أثقل في ميزان المؤمن يوم القيامة من خلق حسن (جامع الترمذی: 2002)
قیامت کے دن مومن کے ترازو میں حسنِ اخلاق اور اچھے سلوک سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں ہوگی۔
پڑوسی اور عام لوگوں سے خیر خواہی:
عن أبي هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليحسن إلى جاره (صحیح مسلم: 48)
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔
4۔ معاشرتی زندگی میں حسنِ سلوک کے 4 بنیادی دائرے
1. والدین اور اہل و عیال کے ساتھ نرمی (Compassion at Home):
حسنِ سلوک کی شروعات اپنے گھر سے ہوتی ہے۔ والدین کی خدمت، ان کے سامنے اف نہ کہنا، زوجین کا ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنا اور بچوں کی شفقت سے تربیت کرنا نبوی اخلاق کی پہلی سیڑھی ہے۔
2. صلہ رحمی اور رشتہ داروں سے جڑنا (Maintaining Family Ties):
عزیز و اقارب کے ساتھ مالی و اخلاقی تعاون کرنا، اور ان رشتہ داروں سے بھی جوڑنا جو تعلق توڑتے ہوں، سچے حسنِ سلوک کا امتحان ہے۔
3. پڑوسیوں اور ساتھیوں کے حقوق کی پاسداری (Rights of Neighbors & Peers):
پڑوسی چاہے کسی بھی مذہب یا فکر کا ہو، اس کی خوشی غمی میں شریک ہونا، اس کی پرائیویسی کا خیال رکھنا اور اپنی زبان یا گاڑی کے پارکنگ جیسے معمولی مسائل سے بھی اسے تکلیف نہ پہنچانا شریعت کا تقاضا ہے۔
4. عام انسانوں کے لیے کشادہ دلی اور آسانیاں (Empathy for Humanity):
معاشرے کے کمزور طبقات، ملازمین اور عام شہریوں سے خوش اخلاقی سے ملنا، بات چیت میں مسکراہٹ اور نرمی رکھنا، اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا وہ نیکی ہے جو دلوں کو فتح کر لیتی ہے۔
5۔ اختتامیہ
لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک صرف ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کی سلامتی اور معاشرتی امن کی ضمانت ہے۔ جب ہم دوسروں کے نقائص کو درگزر کر کے ان کے ساتھ احسان اور نرمی کا معاملہ کرتے ہیں، تو اللہ تعالی ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ نفرتوں اور تلخیوں سے پاک ہو کر محبت اور سکون کا گہوارہ بنے، تو ہمیں حسنِ سلوک کی شروعات اپنی ذات سے اور آج کے دن سے کرنی ہوگی۔ آئیے! یہ پکا عزم کریں کہ ہمارے ہاتھ، زبان اور رویے سے ہر انسان صرف خیر اور راحت ہی پائے گا۔
دعا:
اللهم اهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت
اے اللہ! مجھے بہترین اخلاق اور اچھے سلوک کی ہدایت فرما، تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی رہنمائی نہیں کر سکتا، اور مجھ سے برے اخلاق کو دور فرما دے، تیرے سوا کوئی انہیں دور نہیں کر سکتا۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: قرآن و سنہ انسٹیٹیوٹ
لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اچھے رویے کا یہ پیغام اپنے تمام احباب تک پہنچا کر صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔
Contact
Reach out for questions or feedback
Phone
info@drwajidirshad.com
+92301-6455018
© 2025. All rights reserved.
