Understanding the Last Friday of Ramadan
Explore the true Islamic perspective on the last Friday of Ramadan with Dr. Wajid Irshad. This article clarifies the virtues of Jumu‘ah, dispels misconceptions, and emphasizes the importance of following the Sunnah during this blessed month.
Dr. Wajid Irshad
3/16/20261 min read


رمضان کا آخری جمعہ: فضیلت، حقیقت اور عوامی غلط فہمیاں
ڈاکٹر واجد ارشاد
قسط نمبر: 76
تمہید
رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو بعض حلقوں میں غیر معمولی فضیلت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور اس کے بارے میں مختلف روایات اور رسومات بھی مشہور ہو گئی ہیں۔ بعض لوگ اس دن کو مخصوص عبادات، خاص دعاؤں یا غیر ثابت اعمال کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں کسی خاص دلیل کے بغیر کسی دن یا عمل کو مخصوص فضیلت دینا درست نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں حقیقت کو سمجھا جائے اور عوام میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کی اصلاح کی جائے۔
قرآن کی روشنی میں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ (الجمعة 9)
اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات 13)
بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔
حدیث کی روشنی میں
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله ﷺ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ (صحیح مسلم 854)
سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا (سنن أبي داود 345، سنن الترمذی 496)
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی مسجد جائے، پیدل جائے، امام کے قریب بیٹھے، خطبہ غور سے سنے اور لغو بات نہ کرے تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب ملتا ہے۔
فقہی آراء اور تجزیہ
علمائے امت کی تحقیق کے مطابق رمضان کے آخری جمعہ کی کوئی ایسی مخصوص فضیلت ثابت نہیں جو دوسرے جمعوں سے الگ ہو۔ بعض لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ آخری جمعہ میں مخصوص نماز یا خاص دعا پڑھنے سے پورے سال کی قضا نمازیں معاف ہو جاتی ہیں، مگر یہ بات صحیح احادیث سے ثابت نہیں اور اہلِ علم نے اسے بے اصل قرار دیا ہے۔ البتہ رمضان کے دن اور جمعہ کا دن دونوں اپنی اپنی جگہ فضیلت رکھتے ہیں، اس لیے اگر یہ دونوں جمع ہو جائیں تو عبادت کا اہتمام کرنا یقیناً باعثِ اجر ہے، لیکن کسی غیر ثابت عمل کو دین کا حصہ سمجھنا درست نہیں۔
عملی پہلو
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان کے آخری جمعہ کو بھی دوسرے جمعوں کی طرح سنت کے مطابق گزاریں۔ غسل کرنا، خوشبو لگانا، جلدی مسجد جانا، خطبہ غور سے سننا اور کثرت سے درود شریف پڑھنا جمعہ کے مستحب اعمال ہیں۔ اسی طرح رمضان کے بابرکت ایام میں قرآن کی تلاوت، صدقہ و خیرات اور دعا کا اہتمام بھی جاری رکھنا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنی عبادت اور تقویٰ میں اضافہ کرے اور غیر ثابت رسومات سے اجتناب کرے۔
دعا
اللّٰهُمَّ وَفِّقْنَا لِاتِّبَاعِ السُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ، وَاجْعَلْ أَعْمَالَنَا خَالِصَةً لِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ، وَتَقَبَّلْ مِنَّا فِي هَذَا الشَّهْرِ الْمُبَارَكِ۔
اے اللہ! ہمیں سنت کی پیروی اور بدعت سے بچنے کی توفیق عطا فرما، ہمارے اعمال کو اپنے لیے خالص بنا دے اور اس مبارک مہینے میں ہماری عبادات قبول فرما۔